امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر سرفراز گکھڑوی دیوبندی کا افترا

0


دنیا جانتی ہے کہ دیوبندیت کی بنا (بنیاد) اللہ رب العزت اور اس کے محبوب  ﷺ اور انبیاء و اولیاء کی توہین و تقصیر اور گستاخیوں پر قائم ہے۔ دیوبندی علماء طلباء محققین وغیرہ قرآن مقدس اور ذخیرۂ احادیث میں ایسی ہی چیزوں (آیات و روایات) کی تلاش میں رہتے ہیں، جس پر علماء حق علماء اہلسنت وجماعت (بریلوی) نے ڈھیروں حوالہ جات اپنی تحریر و تقریر میں پیش کیے ہیں۔ 

محترم قارئین! یہ تو آپ کے علم میں ہوگا ہی کہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے دیوبندی اپنے آپ کو ” حنفی “ کہتے ہیں بلکہ ” سنی “ بھی کہتے نظر آتے ہیں۔ لیکن دراصل دیوبندی سنی ہوتے ہیں نہ حنفی بلکہ وہابی ہوتے ہیں، اور نہ صرف وہابی بلکہ بڑے سخت وہابی ہوتے ہیں جیساکہ آپسی گفتگو میں ایک دیوبندی مولوی کہتے ہیں:


ہم خود اپنے بارے میں بھی صفائی سے عرض کرتے ہیں کہ ہم بڑے سخت وہابی ہیں “ 

(سوانح یوسف کاندھلوی، ص 202) 


جسے سن کر دوسرا مولوی کہتا ہے کہ

مولوی صاحب! میں خود تم سے بڑا وہابی ہوں “ 

(سوانح یوسف کاندھلوی، ص 204)

 

لہذا ثابت ہوا کہ دیوبندی وہابی ہوتے ہیں حنفی نہیں ہوتے، جس پر تفصیلی معلومات کے لیے مجاہد اہلسنت حضرت علامہ ابو حامد رضوی صاحب کی کتاب ” حنفیت کے باغی دیوبندی وہابی “ کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ تاہم اپنی اس مختصر تحریر میں ثبوت بھی پیش کر رہا ہوں کہ کیسے دیوبندی ہم حنفیوں کے امام، امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء و بہتان باندھتے ہیں اور خواہ مخواہ انہیں قرآن و حدیث کا مخالف بتاکر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دیگر مفید مضامین / Other Articles
کیا یومِ ولادت کو ” عید “ کہنا تحریف فی الدین ہے؟ 
وہابیہ دیابنہ کی ابلیسی توحید کی کہانی  
کیا شیخ عبد القادر جیلانی کو ” غوث اعظم “ کہنا شرک ہے؟ 
تبلیغی جماعت کے کالے کارناموں کی مختصر فہرست 


دیوبندیوں کے ایک بڑے مولوی جن کو دیوبندی اپنا ” امام اہل سنت “ کہتے ہیں، وہ ہیں سرفراز خان صفدر گکھڑوی، اس دیوبندی نے ایک کتاب بنام ” حکم الذکر بالجہر “ لکھی، اور اس کتاب میں ” ذکر بالجہر “ کو بدعت قرار دینے کے لیے لکھتے ہیں: 


حضرت امام ابوحنیفہ بلند آواز سے ذکر کرنے کو بدعت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف سمجھتے ہیں “ (حکم الذکر بالجہر، ص 65) 


ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: 

امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ بلند آواز سے ذکر کرنا بدعت ہے “ 

(حکم الذکر بالجہر، ص 78)


منقولہ دونوں حوالوں سے معلوم ہوا کہ ” ذکر بالجہر “ کو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ” بدعت “ فرمایا ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟ یا امام اعظم علیہ الرحمہ پر افتراء اور بہتان ہے؟ جب اس بات کی تصدیق کے لیے علماء دیوبند ہی کی کتابوں سے مراجعت کی تو ایک کتاب بنام ” اسلام کے نام پر روحِ اسلام کو مٹانے کی شیطانی سازشیں “ دستیاب ہوئی اس کتاب کے مؤلف دیوبندیوں کے ایک اور بڑے مفتی جو زکریا کاندھلوی کے خلیفہ مجاز بھی ہیں، جن کا نام کتاب پر اس طرح لکھا ہے:


حضرت مولانا سید مفتی مختار الدین صاحب مدظلہ کربوغہ شریف 


اس کتاب میں جو مجھے نظر آیا وہ حیران کن ہے۔ اس لیے سوچا آپ کو بھی اس کا علم ہونا چاہیے۔ دیکھیے مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 22 پر لکھا ہے:


حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر افترا


اس کے زیر عنوان یہی کربوغہ والے دیوبندی لکھتے ہیں :

حضرت امام ابوحنیفہ کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ ان کے نزدیک ” ذکر جہر “ بدعت یا مکروہ ہے حالانکہ یہ حضرت امام ابوحنیفہ پر افتراء اور بہتان ہے اور حضرت امام کو خواہ مخواہ قرآن و حدیث کا مخالف بتایا جاتا ہے اور اس طرح احناف کو ثرہم اللہ تعالیٰ کو علمی طبقہ میں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ “ 

(اسلام کے نام پر روحِ اسلام کو مٹانے کی شیطانی سازشیں، ص 22)


اب قارئین کرام! آپ خود فیصلہ کر لیں کہ کیا یہ دیوبندی جو اپنے بڑے سخت وہابی ہونے کا خود اعلان کرتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو بدنام کرنے کے لیے انہیں قرآن و حدیث کا مخالف بتاتے ہیں اور یوں ان پر افترا و بہتان لگاتے ہیں۔ کیا یہ حنفی کا کام ہو سکتا ہے؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں۔

اس تعلق سے آپ اپنی رائے دینے کے لیے نیچے کمینٹ باکس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ شکریہ 

•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)