کیا یومِ ولادت کو عید کہنا تحریف فی الدین ہے؟

0

 


محترم قارئین کرام! ربیع الاوّل شریف کا مبارک مہینہ قریب آتے ہی سوشل میڈیا پر کچھ خاص قسم اور ذہنیت کے لوگ ہم سنیوں پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں کہ اور عجیب عجیب اشکالات و اعتراضات کرکے سوشل میڈیا کو پراگندہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ مثلاً جس دن سرورِ کائنات ﷺ کی آمد ہوئی اس دن کو مسلمان "عید" بمعنی خوشی کا دن کہتے ہیں۔ دیوبندیوں وہابیوں کو اس پر بھی اعتراض ہے۔ایسے میں مجھے ان کے "حکیم الامت" اور "مجدد ملت" جناب اشرفعلی تھانوی کا یہ قول یاد آتا ہے، جو بالکل ان دیوبندیوں وہابیوں پر فٹ ہوتا ہے۔


دیوبندی وہابی بدعتی ہیں اس لیے اعتراض کرتے ہیں 


جناب اشرفعلی تھانوی کہتے ہیں: 

"بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں ہی پر اعتراض کرنے میں مشغول رہتے ہیں مگر کوئی مفید بات یا کام کبھی نہیں کرتے ان کے یہاں چند چیزیں ہیں جن کو مایہ ناز سمجھتے ہیں مگر دین ان میں بھی نہیں ہوتا نہ فہم سے کام لیتے ہیں"  

(ملفوظات حکیم الامت ،جلد ۴،ص ۱۶۰)


یہی وجہ ہے کہ معترض اپنی بد دینی و بدفہمی سے نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر اس چیز پر اعتراض کے گولے داغتے رہتے ہیں جسے مسلمان ماہ ربیع الاوّل میں کرتے ہیں۔مثلاً مسلمانان عالم یومِ ولادت سرورِ کونین ﷺ کو "عید میلاد النبی ﷺ" کہتے ہیں، اس پر دیوبندیوں وہابیوں کو اتنی تکلیف ہوئی کہ اسے "تحریف فی الدین" قرار دے دیا۔ 


بارہ ربیع الاول کو ” عید “ کہنا تحریف فی الدین ہے 


چنانچہ نعمان محمد امین دیوبندی وہابی لکھتا ہے: 

"بہرحال اس دن کو "عید" کہنا معمولی بات نہیں، بلکہ یہ صاف تحریف فی الدین ہے۔ اس لیے کہ "عید" اسلامی اصطلاح ہے اور اسلامی اصطلاحات کو اپنی خود رائی سے غیرمنقول جگہوں پر استعمال کرنا دین میں تحریف ہے۔

(کیا صلوٰۃ و سلام اور محفل میلاد بدعت ہے؟، ص ۵۰)


دراصل قارئین! یہ دیوبندی وہابیوں کی عادت ہے اپنے مخالف کے خلاف نئے نئے اصول گڑھتے ہیں اور کسی بھی طرح مخالف کے کام کو خلافِ شرع اور مخالفِ دین ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لہذا اس پر لکھنے کو تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ سب سے پہلے ہم دیوبندیوں وہابیوں کے پسندیدہ لغت "فیروز اللغات" دیکھتے ہیں۔


"عید: لغوی معنی جو بار بار آئے۔ (١) مسلمانوں کے جشن کا روز۔ خوشی کا تہوار

 (٢) نہایت خوشی۔" (فیروز اللغات، ص ۹۰۸) 


لغوی معنی کے اعتبار سے یومِ میلادالنبی ﷺ پر "عید" کا اطلاق درست ہے کہ یہ ماہِ بابرکت ربیع الاوّل کا بار بار آنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ منقولہ بالا دونوں معنوں میں بھی درست ہی ہے۔


کسی بھی دن کو ” عید “ کیوں کہتے ہیں ؟ 


اب دیوبندیوں وہابیوں ہی کے مولوی سے "عید" کے متعلق تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ ندیم احمد انصاری دیوبندی لکھتے ہیں: 


"لفظی اعتبار سے ہر اس دن کو عید کہتے ہیں جس میں کسی بڑے آدمی یا کسی بڑے واقعے کی یاد منائی جائے۔ بعض نے کہا کہ عید کو عید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے۔ 

عید کو عید کہنا ایک طرح کی نیک فالی اور تمنا کا اظہار ہے کہ یہ روزِ مسرت بار بار آئے۔عید میلاد النبی ﷺ کے متعلق صاحبِ فیروز اللغات فرماتے ہیں: 

عید میلاد النبی ﷺ کا مطلب ہے، پیغمبر اسلام کی ولادت کا دن۔

( جشن عید میلادالنبی سنت یا بدعت، ص ٣)


اب تو معاملہ بالکل ہی واضح ہو گیا کہ نعمان محمد امین دیوبندی وہابی کا "عید" کہنے کو "تحریف فی الدین" قرار دینا، اس کی اعلیٰ درجے کی جہالت و حماقت اور مبنی بر بغض و عناد ہے۔ باوجود اس کے اگر اب بھی کوئی دیوبندی وہابی اس پر بضد ہی ہو تو ہم اسے گھر کا راستہ دکھا دیتے ہیں اور اس پر بھی "تحریف فی الدین" کا فتویٰ لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 


(١)زکریا کاندھلوی وہابی دیوبندی کہتے ہیں:


"میں نے حضرت گنگوہی کے دور میں دیکھا کہ وہاں روز عید تھی کبھی حضرت سہارنپوری کی آمد ہوتی، کبھی حضرت شیخ الہند کی اور کبھی حضرت مدنی کی تشریف آوری ہوتی،" (صحبتے با اولیاء، ص ۱۸۲)


معلوم ہوا کہ جس دن کوئی آتا ہے اس دن کو عید کہنا ہرگز "تحریف فی الدین" نہیں۔ ورنہ رشید گنگوہی، محمود الحسن اور حسین احمد کی آمد کے دن کو " عید" کہہ کر زکریا کاندھلوی وہابی دیوبندی بھی "محرف فی الدین" قرار پاتے ہیں۔ اب اگر چالاکی دکھاتے ہوئے کوئی دیوبندی یہ کہے کہ "عید" کا استعمال "میلاد" کے ساتھ کرنے پر "تحریف فی الدین" کا فتویٰ دیا گیا ہے۔ تو ایسے بد فہموں کا علاج بھی ہمارے پاس ہے۔ 


” عید “ تو دیوبندیوں کے اکابر بھی کہتے رہے ہیں 


اب دو حوالے اس پر بھی ہدیۂ قارئین کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں: 


(٢) دیوبندیوں کے "حکیم الامت" جناب اشرفعلی تھانوی کے ایک رسالہ کا نام ہے: 


"ارشاد العباد فی عیدالمیلاد "


(٣) انہی کے "حکیم الاسلام" جناب قاری طیب قاسمی اپنے ایک خطاب میں کہتے ہیں:


"بزرگانِ محترم! یہ جلسہ جیساکہ آپ کو معلوم ہے جلسۂ عید میلاد النبی کے نام سے منعقد کیا گیا ہے" (خطبات حکیم الاسلام، جلد اول، ص ۹۵)


دیوبندیوں وہابیوں کے ان دونوں "حکیم الامت" اور "حکیم الاسلام" کے علاوہ بھی کئی حوالے موجود ہیں جن میں خود یہ لوگ اس دن کو "عید میلاد النبی ﷺ" کہتے ہیں۔ مگر پوچھنا صرف یہ ہے کہ کیا اب بھی "عید" کہنا "تحریف فی الدین" ہے یا اپنے دونوں "حکیم" کو اپنی تحریر کی زد میں آتے دیکھ اگر مگر کریں گے؟


•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)