محفلِ میلادالنبی ﷺ پر دیوبندیوں کے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

0

 






ازقلم........................... رفعتؔ برکاتی

پیشکش.........ماتریدی ریسرچ سینٹر،مالیگاؤں


محترم قارئین کرام! 

جس طرح برسات کے سہانے موسم میں چند برساتی مینڈک ٹرا ٹرا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، بالکل اسی طرح ربیع الاوّل شریف کے پربہار مہینہ کے آتے ہی کچھ لوگ "بدعت بدعت" چلّاتے پھرتے ہیں اور عید میلاد النبی ﷺ سے متعلق ہر کام، ہر بات کو بدعت قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کے معمولات کو بدعت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنی خباثت قلبی کا اظہار کرتے رہتے ہیں ، حالانکہ جب دیوبندیوں کی دلائل کے ساتھ گرفت ہوتی ہے تو بڑی چالاکی سے یہ لوگ یہ کہہ کر جان چُھڑاتے ہیں جو ان کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی نے کہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ: 


ہم لوگ مولود کے منکر نہیں بلکہ ان تخصیصات و قیود کے منکر ہیں “ 

(خطباتِ حکیم الامت، جلد ۵ ، ص ۱۶۲ )


اس سے معلوم ہوا کہ دیوبندی وہابی میلاد النبی  ﷺ کے منکر نہیں، بلکہ محفلِ میلاد النبی  ﷺ میں بقول اُن کے جو تخصیصات و قیود ہوتے ہیں یہ لوگ ان کے منکر ہیں۔ اگر اس بات میں دیوبندی وہابی سچے ہیں۔ تو ہم چند حوالے اپنے قارئین کے ساتھ دیوبندیوں وہابیوں کے سامنے بھی رکھتے ہیں، جن سے واضح ہو جائے گا کہ دیوبندی وہابی کیسے محفلِ میلاد النبی  ﷺ کے نام پر لوگوں کو فریب دے کر گمراہ کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ ” بدعت کسے کہتے ہیں ؟ “ چنانچہ خالد محمود مانچسٹری لکھتے ہیں: 


"کسی عمل پر بدعت کا حکم لگانے سے پہلے بدعت کا معنی معلوم کر لینا چاہیے۔ بدعت اسے کہتے ہیں کہ جو کام دین کا نہ ہو اسے دین سمجھ کر کیا جائے۔" (عبقات، ص ١٩٩)


مطلب یہ کہ محفلِ میلاد النبی  ﷺ کے اہتمام میں جو تخصیصات و قیود ہوتے ہیں، ان کو ” دین سمجھ کر کیا جائے “ تو اس پر بدعت کا حکم لگے گا، لیکن دین سمجھ کر نہ کیا جائے تو اسے بدعت قرار دینا غلط ہے اور اسے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی متصور کی جائے گی۔ اس بات کو سمجھ لینے کے بعد اب آپ محفلِ میلاد النبی  ﷺ پر ایک نظر ڈالیں، اور کس عمل کو کس حیثیت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں:  


(1) محفلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔


 اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس کے متعلق خالد محمود لکھتے ہیں: 


"آنحضرت ﷺ کی ولادت شریفہ،سیرت طیبہ اور وفات کریمہ کا تذکار و بیان کتاب و سنت میں موجود اور معمول صحابہ سے منقول ہے یہ قطعاً بدعت نہیں

(عبقات،ص ١٩٩)


لہٰذا محفلِ میلاد النبی ﷺ کو بدعت نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ "کتاب و سنت میں موجود اور معمولِ صحابہ سے منقول ہے" اب اگر کوئی ضرورت سے زیادہ عقل مند کھڑا ہو جائے اور کہے کہ اس میں "محفلِ میلاد " کا ذکر کہاں ہے؟ اس کا جواب بھی قبل از اعتراض پیش کر دیتا ہوں ،مفتی رضاءالحق دیوبندی لکھتے ہیں: 


" ہمارے اکابرین نے اس بات کی تشریح کی ہے کہ محفل میلاد وغیرہ فی نفسہ مباح ہے۔ "  (فتاویٰ دارالعلوم زکریا،جلد اول،ص ١٩٠)


چلئے! محفلِ میلاد النبی ﷺ کا معاملہ تو واضح ہو گیا اب آئیے دوسری باتیں بھی دیکھتے ہیں: 



(2) اسٹیج، روشنی، سجاوٹ وغیرہ کا انتظام۔


ان کاموں کو اگر کوئی یہ کہہ کر بدعت کہتا ہے کہ یہ سب خیر القرون میں نہیں ہوتے تھے، لہذا یہ بدعت ہے۔ تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سارے کام اگرچہ خیر القرون میں نہیں ہوتے تھے مگر انہیں کوئی "دین کا کام" نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ سب "من حیث الانتظام" کیا جاتا ہے، جس کے متعلق اشرفعلی تھانوی کہتے ہیں: 


" خیرالقرون میں ہونے کی ضرورت اس وقت ہے جبکہ اس فعل کو من حیث العبادۃ کیا جائے۔اور اگر من حیث الانتظام کیا جائے تو بدعت نہیں "

 (حضرت تھانوی کے اصول و ضوابط،ص ٤٦)


واضح ہو گیا کہ محفلِ میلاد النبی  ﷺ کے لیے اسٹیج، روشنی اور سجاوٹ وغیرہ کو ” بدعت “ کہنا زیادتی ہے اور اپنے اکابر کی تعلیمات سے دیوبندیوں وہابیوں کی بے خبری ہے۔ 



(3) اختتام محفل پر شیرینی تقسیم کرنا۔


اس عمل کا جواب بھی ضمناً اوپر کی عبارت میں ہو چکا ہے۔اسے بھی کوئی دین کا کام نہیں سمجھتا ہے۔مگر چونکہ دیوبندیوں کی فطرت ہے کہ ہمارے معمولات کو کسی بھی طرح کھینچ تان کر بدعت ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس لیے بتا دوں کہ یہ کام ان کے یہاں بھی ہوتا رہا ہے، جیساکہ شفیع دیوبندی کہتے ہیں: 


" اس معاملہ میں تشدد اختیار کرنا تو صحیح نہیں، ختم قرآن یا ختم بخاری وغیرہ پر شیرینی کی تقسیم ہمارے بزرگوں میں بھی جاری رہی "

 (سوانح حیات مفتی عبدالحکیم صاحب،ص ٤٤١)


لہذا اگر کوئی دیوبندی وہابی اختتام محفل پر شیرینی کے تقسیم کرنے کو ” بدعت “ کہتا ہے تو یہ اس کا اپنے گھر کی کتابوں سے ناواقفی اور مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ 


(4) محفلِ میلاد میں قیام کرنا۔


میلاد میں قیام کرنے پر بھی دیوبندی معترض ہوتے ہیں اور اس پر بھی بدعت کا اطلاق کرتے ہیں حالانکہ ان کے اپنے اعلیٰ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کہتے ہیں: 


"ہاں مجھ کو ایک کیفیت قیام میں حاصل ہوتی ہے

(امداد المشتاق ،ص ٥١ )


علاوہ ازیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "اخبار الاخیار" جس کا ترجمہ دو دیوبندی مولویوں نے کیا ہے میں اللہ تعالیٰ سے دعا و التجا کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 


" اے اللہ! میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے آپ کے دربار میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں، میرے تمام اعمال میں فساد نیت موجود رہتی ہے، البتہ مجھ حقیر فقیر کا ایک عمل صرف تیری ذاتِ پاک کی عنایت کی وجہ سے بہت شاندار ہے اور وہ یہ ہے کہ مجلسِ میلاد کے موقع پر میں کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں اور نہایت ہی عاجزی و انکساری، محبت و خلوص کے ساتھ تیرے حبیب پاک ﷺ پر درود و سلام بھیجتا رہا ہوں۔ اے اللہ! وہ کون سا مقام جہاں میلاد مبارک سے زیادہ تیری خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے؟ اس لیے اے ارحم الراحمین مجھے پکّا یقین ہے کہ میرا یہ عمل کبھی بے کار نہ جائے گا بلکہ یقیناً تیری بارگاہ میں قبول ہوگا اور جو کوئی درود و سلام پڑھے اور اس کے ذریعہ دعا کرے وہ کبھی مسترد نہیں ہو سکتی" (اخبار الاخیار، مترجم،ص ٦٢٤)


معلوم ہوا کہ محفلِ میلاد النبی ﷺ میں قیام کرنا یعنی کھڑے ہوکر درود وسلام پڑھنا ایک شاندار عمل ہے جو کبھی بے کار نہیں جائے گا۔ اب ایک اور ضرور بات ہدیۂ قارئین کر دوں جو ایک دیوبندی نے دیوبندیوں کو لکھا ہے، وہ یہ کہ: 


"ظاہر بات ہے کہ جب کسی بات میں بزرگوں کا حوالہ آجاتا ہے تو پھر اس بات کو رد کرنا اپنے بزرگوں سے بغاوت کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے

(حکیم الامت کے سیاسی تفردات، ص ١٤)



(5) محفلِ میلادالنبی ﷺ کے لیے دن کا تعین کرنا۔


اس بات پر دیوبندی بڑی ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، اور جتنے منہ اتنی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ بارہ ربیع الاوّل کی تعین، کوئی تعینِ شرعی نہیں بلکہ انتظامی ہے۔ اور تعینِ انتظامی کے بارے میں خالد دیوبندی کہتے ہیں: 


"تعین انتظامی یہ ہے کہ اس کام کے خاص اس دن سے متعلق ہونے کا کوئی اعتقاد نہ ہو بلکہ محض برسبیلِ انتظام کسی دن کا تعین کر لیا جائے۔ جیسے شادی کے دنوں کا تعین کر لیا جائے، کاروبار کے اوقات کا تعین، اوقاتِ سفر کا تعین وغیرہ وغیرہ، اس تعین کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہو کسی نہ کسی دن کا تعین تو کرنا پڑتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ تعینات محض ایک انتظامی درجے کے ہیں

(عبقات، ص ٢٠٠)


اس وضاحت کے بعد بارہ ربیع الاوّل کی تعین کے متعلق خالد محمود دیوبندی لکھتے ہیں: 


" آنحضرت ﷺ کے ذکرِ ولادت، تذکارِ سیرت اور بیان وفات کے واقعات کی بارہ ربیع الاوّل سے تخصیص ایک امر شرعی ہے یا محض ایک امر انتظامی ہے۔ جیساکہ حکومت کی طرف سے بھی اس دن چھٹی کی جاتی ہے۔ حالات کا مشاہدہ بتلاتا ہے کہ یہ تخصیص و تعین شرعی ہرگز نہیں ، محض ایک تعین انتظامی ہے کیونکہ یہ جیسے صرف بارہ ربیع الاوّل یا یکم سے بارہ تک کے دنوں سے ہی خاص نہیں، بلکہ بسا اوقات کئی مقامات پر ١٢ ربیع الاوّل کے بعد بھی ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ ربیع الاوّل کے بعد بھی کچھ عرصے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، کئی جگہوں میں یہ جلسے ربیع الاوّل سے بھی پہلے شروع ہو جاتے ہیں، یہ تمام واقعات اس امر کی شہادت ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے تذکارِ سیرت اور بیان ولادت کو کسی ایک دن یا چند معین دنوں کے ساتھ کبھی بھی خاص نہیں سمجھا جاتا اور ان دنوں کے یہ اہتمامات محض ایک تعین انتظامی ہیں نہ کہ شرعی۔" (عبقات، ص ٢٠٠)


محترم قارئین! اس مختصر تحریر میں آپ نے علماء دیوبند کے حوالوں کے ساتھ ملاحظہ فرمایا کہ اول: محفلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد بدعت نہیں بلکہ جائز ہے، دوم: اسٹیج، روشنی اور سجاوٹ وغیرہ بھی بدعت نہیں ہے۔ سوم: اختتام پر تقسیم شیرینی بھی جائز و درست ہے۔ چہارم: قیام بھی جائز اور شاندار عمل ہے۔ پنجم: تاریخ کا تعین بھی بدعت نہیں ہے۔ 


لہذا دیوبندیوں کو چاہیے کہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ دیں، بات سمجھنے کی کوشش کریں، اور خوفِ خدا ، شرمِ نبی کو دل میں جگہ دیں۔ اور ملحوظ رکھیں کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں کیا لکھ رہے ہیں اور کن کے متعلق لکھ یا کہہ رہے ہیں؟ ہم اہلسنت وجماعت (بریلوی) کے بغض و عناد میں اتنے اندھے نہ ہو جائیں کہ محبوبِ کبریا ﷺ سے عداوت و بغاوت کرنا اپنی سعادت مندی متصور کریں۔


•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•


محترم قارئین 

تحریر اگر پسند آئی ہے تو اسے آپ اپنے احباب میں ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ خیرا 


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)