محفلِ میلاد النبی ﷺ کے خلاف دیوبندیوں کی تحریرو تقریر میں ایک بات آپ ضرور پائیں گے کہ وہ ہم اہلِ سنت وجماعت (بریلوی) پہ بہتان بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ میلاد کی محفل یا جلوس میں شرکت نہ کرنے والوں کو کافر یا ابلیس کہتے ہیں اور بطور ثبوت یہ شعر پیش کرتے ہیں:
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاوّل
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
حالانکہ یہ شعر مبنی بر حقیقت ہے۔ یعنی ولادت رسول ﷺ پر ابلیس کو خوشی نہیں ہوئی بلکہ وہ چلا کر رویا۔ چنانچہ البدایہ والنہایہ کا اردو ترجمہ "تاریخ ابن کثیر" کے نام سے اصغرمغل وہابی دیوبندی نے کیا ہے، اس میں لکھا ہے:
" ابلیس چار بار چلا کر رویا (اور تیسرے نمبر پہ لکھا ہے کہ) جب رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی"
(تاریخ ابن کثیر، حصہ دوم، ص ۷۲۳)
مگر دیوبندی وہابی اس "ابلیس" سے مراد خود کو لیتے ہیں۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی کسی کو بھی میلاد کے جلسے جلوس میں شرکت نہ کرنے پر کافر یا ابلیس نہیں کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے احباب اور اہلِ محلہ (جو پکے سنی صحیح العقیدہ ہوتے ہیں) ان میں سے بھی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی عذر کی بنا پر نہ ہی محفلِ میلاد میں شامل ہوتے ہیں نہ جلوس میں، اور انہیں کافر یا ابلیس نہیں کہا جاتا ہے۔
تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
اس سے دیوبندی وہابی خود کو مراد لیتے ہیں۔ اگر دلائل کی روشنی میں بات کی جائے تو سچ یہ ہے کہ یہ لوگ واقعی شیطان ہی ہیں۔جیساکہ اشرفعلی تھانوی کہتا ہے:
"ایک شیخ تھے پیری مریدی کرتے تھے ان پر ایک حالت طاری ہوئی جس میں وہ یوں سمجھ گئے کہ "میں شیطان ہوگیا ہوں"
(ملفوظات حکیم الامت، جلد ۵، ص ۲۴۸)
اسی طرح اپنے ایک "قریشی" پیر کے بارے میں محمد صادق آبادی دیوبندی لکھتا ہے:
"میں کالا کتا اس پاک دیس کو کیسے ناپاک کروں"
(اکابر کا مقام تواضع، ص ۱۹۲)
اس میں دیوبندیوں وہابیوں کے پیر "حضرت قریشی" نے خود کو "کالا کتا" کہا ہے۔ مگر کیوں؟ کیونکہ حدیث شریف میں"کالا کتا " شیطان کو کہا گیا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
ان الاسود شیطان، یعنی کالا کتا شیطان ہوتا ہے
(المعجم الاوسط، مترجم، جلد دوم، حدیث ۲۶۸۵)
غالباً یہی وجہ ہے کہ دیوبندیوں وہابیوں کے اس طرح شیطان بننے پر ان کا ایک "حضرت جی" ڈانٹتے ہوئے ان دیوبندیوں وہابیوں سے پوچھتا ہے:
"ہم تم سے کس نے کہہ دیا کہ شیطان بنو"
(اہل کے انمول اقوال، ص ۲۴۴)
اس قسم کی تفصیلی معلومات کے لیے راقم الحروف کا رسالہ "دیوبندیوں کی شیطان سے محبت" جو انٹرنیٹ پر موجود ہے ملاحظہ فرمائیں۔
المختصر یہ کہ شعر میں تو شاعر نے ملعون "ابلیس" کی بات کی ہے مگر دیوبندی وہابی اس سے یہ سمجھتے اور سمجھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو اس شعر میں ہمیں "ابلیس" کہا گیا ہے۔ تو ہم نے اس بات کی تحقیق کی کہ آخر یہ لوگ خود کو ابلیس کہنے پر اتنے مصر اور بضد کیوں ہیں؟ تو اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ واقعی دیوبندی وہابی ابلیس شیطان ہی ہیں۔جیساکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔اسی لیے خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ
خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے۔
ازقلم............................. رفعتؔ برکاتی
۱۲ ربیع الاوّل
۱۴۴۵ھ...... ۲۸ ستمبر ۲۰۲۳ء

