محفلِ میلاد النبی ﷺ یعنی اللہ رب العزت ﷻ اور اس کے حبیب ﷺ کے ذکر کی محفل سے دیوبندیوں وہابیوں کو اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ جتنی شیطان مردود کو بھی شاید نہیں ہوئی ہوگی۔ اس لیے اپنی تکلیف کا اظہار یہ لوگ اپنے "دینِ دیوبندیت" (جسے قاسم و رشید نے انگریز کے اشارے پر قائم کیا تھا) کی ابتدا ہی سے ایسی محافل و مجالس کے خلاف عجیب عجیب قسم کے اعتراضات و بکواسات کرتے رہتے ہیں۔ ویسے تو اس قسم کے اعتراضات و بکواسات سے آج کل کے دیوبندیوں وہابیوں نے تقریباً تمام ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گند پھیلا کر انہیں متعفن کر کے رکھ دیا ہے۔ جن سے اکثر سوشل میڈیا یوزرز واقف ہی ہوں گے۔
اس لیے آج میرا موضوع سخن سوشل میڈیا پر گند پھیلانے والے یہ عقل کے اندھے جھولا چھاپ وہابی دیوبندی نہیں بلکہ ان کے سرغنہ "مکر عظیم" جناب اشرفعلی تھانوی ہیں۔ یہ صاحب وہی ہیں جن کا ایک عرصے تک گزر بسر محفلِ میلاد ہی پر منحصر تھا، پھر اس پہ شیطان کا حملہ ہوا (یعنی رشید گنگوہی سے بحث ہوئی اور اس کے اور اپنے پیر و مرشد جنہیں یہ لوگ اعلیٰ حضرت کہتے ہیں یعنی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کے صاف ستھرے موقف کو چھوڑ دیا) اور جس محفل کے ذریعے برسوں تک اس کی روزی روٹی چلتی رہی، اسی کے خلاف اپنی شیطانی مجلس میں بکواسات کرنے لگے۔
آج اشرفعلی تھانوی کے ایک ملفوظ پہ جاکر میری نظر ٹھہر گئی، اور کئی بار پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ایسا شخص جسے اپنے حلقے میں "حکیم الامت" سمجھا اور کہا جاتا ہو، وہ رسول دشمنی میں اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ اتنا بے حیا، اور خوف خدا اور یوم آخرت کو بالائے طاق رکھ کر اس طرح کیسے بہتان بازی اور کذب بیانی کر سکتا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ آپ بھی اگر غیر جانبدارانہ طور پر اس ملفوظ کو پڑھیں گے تو آپ بھی اس کی بد عقلی اور رسول دشمنی پر حیرت و افسوس کرتے رہ جائیں گے۔ لیجیے وہ ملفوظ ملاحظہ کیجیے۔اشرفعلی تھانوی کہتا ہے:
"چونکہ مولد شریف میں بے حد امور خلاف شرع پیدا ہو گئے ہیں، اس لیے ہم اس کو منع کرتے ہیں یعنی اکثر سننے والے سود خور رشوت خور ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ قصائد اور غزلیات میں اکثر مضامین کفریہ ہوتے ہیں اور اہل محفل اکثر امارد اور بے نمازی ہوتے ہیں۔ روایات اکثر موضوع اور مخترع ہوتی ہیں۔ اس لیے عام طور سے اس کو منع ہی کیا جائے گا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ میں ان تمام خرابیوں سے پاک کرکے مجلس منعقد کرتا ہوں تو اس کو بھی اس حالت اکثریہ کو دیکھ کر اجازت نہ دی جائے گی۔"
(ملفوظات حکیم الامت، جلد ١٣،ص ١٢٦)
محترم قارئین کرام!
دیوبندی مذہب کے حکیم الامت جناب اشرفعلی تھانوی نے نہایت ہی بے غیرتی کے ساتھ اس مختصر گفتگو میں مسلمانوں پر ایک دو نہیں بلکہ چار چار بہتان عظیم باندھے ہیں۔
اول: بہتان عظیم مسلمانوں پر یہ ہے کہ میلاد شریف سننے اور پڑھنے (سنانے) والے سود خور رشوت خور ہوتے ہیں۔ حالانکہ پورے روئے زمین پر ایسی کوئی محفل میلاد نہیں جس کی یہ حالت ہو۔
دوم: میلاد شریف کی محفل میں جو قصائد و غزلیات پڑھے جاتے ہیں ان میں اکثر کفریہ مضامین ہوتے ہیں، حالانکہ محفل میلاد میں قصائد و غزلیات نہیں بلکہ نعتِ رسول ﷺ پڑھی جاتی ہے۔ اور ان کے مضامین کفریہ ہوتے ہیں یہ بھی اس فراڈیے کا مسلمانوں اور نعت خوانوں پر بہتان عظیم ہے۔
سوم: یہ بھی بہتان عظیم ہے کہ اہل محفل میں اکثر امارد اور بے نمازی ہوتے ہیں۔ اور اگر کہیں ایسا ہو بھی تو کیا اس سے ذکر خدا و ذکر رسول ناجائز ہو جاتا ہے؟؟
چہارم: یہ بھی بہتان عظیم ہے کہ میلاد شریف کی محفل میں بیان کی جانے والی روایات اکثر موضوع و مخترع ہوتی ہیں۔
ان فرضی اور من گھڑت باتوں کی وجہ سے اگر محفلِ میلاد ممنوع ہوتی ہے تو اپنے اس اصول سے دیوبندیوں وہابیوں کو اپنے تمام مدارس مساجد کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ زکریا کاندھلوی کا خلیفۂ مجاز، مختار الدین کربوغوی دیوبندی وہابی لکھتا ہے:
" بڑے بڑے دیندار اور پرہیز گار ، تہجد گزار ، مدرسین و متعلمین و مبلغین سودی لین دین کرتے ہیں اور معاملات کے کھوٹے ہیں اور کفریہ نظاموں کے ساتھ اتحاد و اتفاق کر چکے ہیں ۔ اس کے باوجود عام لوگوں کی نظر میں ان کے اسلام بلکہ پرہیزگاری پر بھی کوئی نہیں آتا "
(اسلام اور آج کا مسلمان، ص ٨)
اور بفرض محال ان بہتانوں کو اگر درست مان بھی لیا جائے تو کوئی دیوبندی یہ بتائے گا کہ یہ اصول کہاں کا ہے کہ ان خرابیوں یا برائیوں کی اصلاح کرنے کے بجائے ذکرِ خدا ﷻ و ذکرِ رسول ﷺ کی محفل ہی کو ختم کر دیا جائے؟؟؟
ازقلم.......................... رفعتؔ برکاتی
٢٣ ستمبر ٢٠٢٣ء، مطابق ٧ ربیع الاوّل ١٤٤٥ھ

