فتاویٰ رضویہ میں مذکور سورہ یوسف لڑکیوں کو نہ پڑھانے پر اعتراض کا جواب

0


 ابھی چند روز ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک قریبی دوست نے فتاویٰ رضویہ شریف کا ایک اسکین بھیج کر ایک آڈیو بھی بھیجا جس میں کوئی دیوبندی ہے جس کو صحیح سے عبارت خوانی بھی نہیں آتی، وہ مضحکہ خیز طریقے سے یہ کہہ رہا ہے کہ ایسا (جیساکہ فتاویٰ رضویہ شریف میں لکھا ہے) صحیح حدیث سے ثابت کریں یا اپنے اعلیٰ حضرت کے متعلق یہ تسلیم کریں کہ انہوں نے حدیث میں گستاخی کی ہے۔ 

دراصل قارئین محترم! دیوبندیوں کی انہی جہالت کی وجہ سے ان کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی نے کہا تھا:


جتنا کوئی محقق ہوگا اتناہی بدنام ہوگا وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی نظر گہری ہوتی ہے لوگ وہاں تک پہنچتے نہیں بظاہر اس کی باتیں ان کو خلاف معلوم ہوتی ہیں اس لیے کفر تک فتویٰ قائم کر دیتے ہیں اس لیے محققین ہمیشہ بدنام ہوئے ہیں

 (ملفوظات کمالات اشرفیہ ، ص١٥٤)

مگر دیوبندیوں کو اپنی جہالت و بدعقلی کی وجہ سے یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں اس لیے امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مقبول خاص و عام فتاویٰ رضویہ کی جلد ۲۴ میں درج ذیل عبارت کہ 


صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورہ یوسف شریف کا ترجمہ نہ پڑھایا جائے کہ اس میں مکر زنان کا ذکر فرمایا ہے “ (فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۴، ص ۴۵۶)


اسی پر اس دیوبندی نے اعتراض کیا ہے کہ سورہ یوسف کے ترجمہ کے پڑھنے سے لڑکیوں کو صحیح حدیث میں منع کیا گیا ہے اس پر دلیل پیش کریں۔

اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جب ” صحیح حدیث “ لکھا ہے تو ضرور انہوں نے کہیں پڑھا ہوگا۔ لیکن چونکہ معاندین و مخالفین یہ تسلیم نہیں کریں گے اس لیے حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ” الاتقان فی علوم القرآن “ کی وہ عبارت پیش کرتا ہوں جس میں انہوں نے ” صحیح حدیث “ کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:  

وقد صحح الحاکم فی مستدرکہ حدیث النھی ون تعلیم النساء سورۃ یوسف 

(الاتقان فی علوم القرآن، الجزءالخامس، ص 1656)

اور اس کے مترجم جو مکتبۃ العلم اردو بازار لاہور پاکستان کی مطبوعہ ہے، اس کی جلد دوم میں ہے : 

اور حاکم نے اپنے مستدرک میں وہ حدیث روایت کرکے صحیح قرار دی ہے جس میں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم دینے سے منع کیا گیا ہے۔ “ (الاتقان فی علوم القرآن)


ان حوالوں سے واضح ہو گیا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جس ” صحیح حدیث “ کا ذکر فرمایا ہے وہ ان کا خود ساختہ بیان کردہ نہیں بلکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب میں مستدرک کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔ 

لہذا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خلاف بکواسات کرنے والوں کو چاہیے کہ حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بھی لب کشائی کرے۔ تاکہ پتہ چلے کہ شخصیت دیکھ کر لب و لہجے بدل لیتے ہیں یا اپنی جہالت ہی کو فہم کل قرار دے کر اس کے خلاف آنے والی بڑی سے بڑی شخصیات کیوں نہ آجائیں ان پر بھی اعتراض کرنے سے دیوبندی وہابی گریز نہیں کرتے ؟


اب قارئین کرام! دیوبندیوں کی بدفہمی اور جہالت کو ان کے گھر تک واپس پہنچانے کے لیے اشرفعلی تھانوی کا فرمان پیش کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں۔ دیوبندی مذہب کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی کی پسندیدہ واقعات پر مشتمل کتاب میں 


عوام کے لیے ترجمۂ قرآن دیکھنا مضر ہے 

کے زیر عنوان لکھا ہے

ایک بڑے میاں ملے جو بڑے تہجد گزار اور پابند اوراد تھے مگر قرآن کا ترجمہ دیکھ کر گمراہ ہوئے تھے۔ وہ مجھ سے کہنے لگے کہ جب قرآن پڑھا کروں تو لفظ راعنا چھوڑ دیا کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یاایھاالذین آمنو لا تقولوا راعنا جس کا ترجمہ لکھا ہے کہ اے ایمان والو راعنا مت کہا کرو۔ تو کیا تلاوت کے وقت راعنا کو نہ پڑھا کروں۔ میں نے ان سے کہا کہ راعنا و تو مت چھوڑو مگر آج سے قرآن کا ترجمہ دیکھنا چھوڑ دو کیونکہ تم کو سمجھنے کی قابلیت نہیں۔

 (تھانوی کے پسندیدہ واقعات، ص 175)

یہی نہیں قارئین کرام! بلکہ اشرفعلی تھانوی کے ملفوظات میں اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ ہے کہ اشرفعلی تھانوی کہتے ہیں 

تحصیل کنڈہ میں ایک تحصیلدار صاحب میرے دوست تھے انہوں نے مجھ کو بلایا تھا وہاں ایک اہلمد ملے بوڑھے اور بہت نیک قران کی تلاوت کے پابند تہجد کے پابند مترجم قران شریف لائے اور یہ ایت نکالی یا ایہا الذین امنو لا تقولو راعنا اور کہنے لگے کیا تلاوت میں لفظ "راعنا" چھوڑا جائے کیونکہ قران شریف میں اس سے منع فرمایا ہے کہ نہ کہو راعنا میں نے کہا کہ میں اس واقعہ کو دیکھ کر فتوی دیتا ہوں کہ تم کو ترجمہ دیکھنا حرام ہے اور ایسے شخص کے لیے ایسا فتوی کیونکر نہ دوں جس نے یہ معنی لیے لا تقولوا کے کہ قران شریف میں بھی نہ پڑھو “ (ملفوظات حکیم الامت جلد 25 ص 120)


لہذا واضح ہوا کہ دیوبندیوں کے یہاں قرآن مجید کا ترجمہ دیکھنا عام لوگوں پر حرام ہے۔ 

غور فرمائیں کہ اس بات پر دیوبندیوں کو کوئی اعتراض نہیں، مگر سورہ یوسف کے پڑھنے سے عورتوں کو منع کرنے پر اعتراض ہو گیا۔ یہ شخصیت دیکھ کر فیصلہ لینا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ 


تفسیر سورہ یوسف (عاشقی و معشوقی کی بات ہے) عورتوں کو پڑھنا سننا بہت نقصان کی بات ہے۔ 


چنانچہ دیوبندی مذہب کے حکیم الامت سے منسوب کتاب ” بہشتی زیور “ میں لکھا ہے کہ 

تفسیر سورہ یوسف اس میں ایک تو بعضی روایتیں کچی ہیں دوسرے عاشقی و معشوقی کی باتیں عورتوں کو سننا پڑھنا بہت نقصان کی بات ہے۔


لہذا فتاویٰ رضویہ شریف پر اعتراض کرنے والے دیوبندیوں کو چاہیے کہ اپنی جہالت و بدعقلی کا یوں مظاہرہ کرتے نہ پھریں بلکہ اپنے گھر کی کتابوں کو بھی زیر مطالعہ رکھیں تاکہ آپ لوگ اپنے گھر سے باخبر رہیں اور اپنے مخالف پر اعتراض کرنے چلیں تو گھر کے حالات و واقعات یاد آئیں اور یوں ذلیل و رسوا ہونے سے آپ لوگ خود کو بچا سکیں۔

•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)