مخالفین و معاندین کی طرف سے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر آپ کے ملفوظات پر مشتمل کتاب ” الملفوظ “ کے صفحہ نمبر ۴۵ کی درج ذیل عبارت کہ آپ نے فرمایا کہ
” بحمدللہ میں اپنی حالت وہ پاتا ہوں جس میں فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ سنتیں بھی ایسے شخص کو معاف ہیں۔ لیکن الحمدللہ سنتیں کبھی نہ چھوڑیں، نفل البتہ اسی روز سے چھوڑ دییے ہیں۔ “ (الملفوظ، ص ۴۵)
کو نشانۂ تنقید بناکر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے
” سنتیں معاف اور نفل صاف “
کر دیا۔ جیسا کہ ” بریلویت کی خانہ تلاشی “ نامی دیوبندیوں کی کتاب کے صفحہ نمبر ۴۰ پر لکھا گیا ہے۔ حالانکہ ایسے لوگوں کے اندھے نجدی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کیونکہ آپ ” الملفوظ “ کی مذکورہ عبارت میں دیکھ لیں کہ امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے باوجود اپنی وہ حالت کے کہ جس میں فقہاء کرام نے سنتیں معاف لکھا ہے، آپ کا عشق رسول دیکھیں کہ آپ نے
” سنتیں کبھی نہ چھوڑیں “
پھر بھی بدبخت دیوبندی وہابی لوگ اپنی بے غیرتی اور اندھے پن کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے اور لکھتے ہیں کہ
” سنتیں معاف نفل صاف “
وہ حالت کون سی ہے کہ جس میں فقہاء کرام نے سنتیں معاف لکھا ہے؟
قارئین کرام! ممکن ہے آپ کے حاشیۂ ذہن پر اس وقت یہ سوال آ رہا ہو کہ آخر وہ کون سی حالت ہے جس میں فقہاء نے سنتیں معاف لکھا ہے؟
اس کا جواب دیوبندیوں کے شکست خوردہ نام نہاد مناظر طاہر گیاوی اپنی کتاب ” بریلویت کا شیش محل “ کے صفحہ نمبر ۱۴۰ پر ” الملفوظ “ مذکورہ عبارت نقل کرنے کے بعد اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ
” یہ رعایت صرف ہجوم کار کے وقت کے لیے فقہاء کے یہاں ملتی ہے “
(بریلویت کا شیش محل، ص ۱۴۰)
اور امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہجوم کار دیکھنے کے لیے ان کی سیرت پڑھیں یا ان کی تصنیفات جو کم و بیش ایک ہزار کتب و رسائل میں ہیں اس سے اندازہ کر سکتے ہیں۔ باوجود اس قدر ہجوم کار کے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے
” کبھی سنتیں نہ چھوڑیں “
سبحان اللہ! اس شان اور عشقِ رسول ﷺ کے اس مقام پر تھے ہمارے امام!
دو اہم مضامین جسے آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے |
|---|
| کتابوں کی خریداری سے آتی ہے مالداری۔ تحریر : مولانا نثار مصباحی |
| اعلیٰ حضرت اور ایک سادھو کے واقعہ پر اعتراض کا جواب |
اشرفعلی تھانوی سنتیں اور نفلیں سب صاف کر دیتا تھا
قارئین کرام! ایسے بدبختوں کے متعلق راقم الحروف کا عرصہ سے یہ تجربہ ہے کہ جب تک آپ ان کو ان کے گھر کا راستہ نہ دکھا دیں تب تک ان کو اس قسم کی باتیں بالکل بھی سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ اس لیے اب دیوبندیوں کو ان کے گھر کا راستہ دکھا دینا ضروری ہے۔ جس کے لیے پیش ہے آپ کے سامنے دیوبندی مذہب کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی، یہ کہتے ہیں :
” بہت ہی کم ہمت ہوں حتی کہ اس بیماری میں کبھی کبھی صرف فرض پڑھتا ہوں بہت شرم آتی ہے کہ ڈاک وغیرہ کے معمول سب جاری ہیں لیکن سنتیں نہیں ہوتیں “
(ملفوظات حکیم الامت، جلد ۹، ص ۳۰۵)
غور فرمائیں سامعین! اشرفعلی تھانوی نے خود ہی اس بات کا اعلان کر دیا کہ اپنی ہم ہمتی کی وجہ سے ” صرف فرض پڑھتا ہوں “ سنتیں نفلیں سب کے سب صاف۔ اب ہے کوئی دیوبندی مائی کا لال جو غیرت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اشرفعلی تھانوی کے متعلق
” سنتیں اور نفلیں سب صاف “
کا نعرہ لگا سکیں؟ اب دیوبندیوں کو سانپ سونگھ جائے گا، اور اگر مگر لیکن ویکن کرکے پتلی گلی سے نکل جائیں گے۔
اشرفعلی تھانوی پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنتیں
لیکن سامعین! بات یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اب جبکہ اشرفعلی تھانوی نے کھلے لفظوں میں سنتیں چھوڑ دینے کا اعلان خود ہی کر دیا ہے۔ اس لیے سنتیں چھوڑنے کے جرم میں دیوبندی مذہب کے ” حکیم الامت “ اشرفعلی تھانوی پر کیسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنتیں برستی رہیں، اب یہ بھی ملاحظہ فرمالیں۔ تقی عثمانی کے والد شفیع دیوبندی کی ایک تفسیر ہے ” معارف القرآن “ اس کی جلد دوم میں لکھتے ہیں کہ:
” حدیث میں رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت بھیجی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر لعنت کی ہے ( پھر پانچ لوگوں کے بعد چھٹے نمبر پر لکھا ہے کہ ) میری سنت کو چھوڑنے والا “
(معارف القرآن، جلد دوم، ص ۴۳۵)
اس سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی پر سنتیں چھوڑنے اللہ ﷻ اور اس کی رسول ﷺ کی لعنتیں برستی رہی ہیں۔ لہذا اب مجھے کہہ لینے دیں کہ
نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے رازِ سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتی
اس تعلق سے تفصیلی معلومات کے لیے نیچے Watch Video پر کلک کرکے ویڈیو دیکھ سکتے ہیں
•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•
قارئین محترم! آپ کو معلوم ہوگا کہ دیوبندی وہابی ایسے صدی ہے دھرم ہوتے ہیں کہ آپ ایک کو جواب دیں گے کچھ دنوں بعد وہی اعتراض کے کر دوسرا دیوبندی اچھل کود مچانے لگتا ہے۔ اس لیے ایسی تحریریں ہم نے اپنی ویب سائٹ پر محفوظ کرنے کا اہتمام شروع کیا ہے۔ اس لیے آپ کا دل اگر اجازت دے تو اس مضمون کو اپنے احباب میں شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آپ کے ذریعے یہ مختصر تحریر بآسانی پہنچ سکے۔ اور لوگوں کے علم میں اضافے کا ذریعہ بنے۔ شکریہ
جزاک اللہ خیرا
•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•


