اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اور ایک سادھو کے واقعہ پر اعتراض کا جواب

0



اعتراض: ایک دیوبندی نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے واقعہ کو نقل کیا کہ؛ اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک مندر کے پاس سے گزرے تو مندر سے ایک ھندو سادھو نکلا اور اعلی حضرت امام احمد رضا خان کو سلام کر کے کان میں سرگوشی کر کے دوبارہ واپس چلا گیا۔ جب پوچھا گیا کہ کون تھا؟ تو فرمایا کہ وقت کا ابدال.

آگے دیوبندی کہتا ہے کہ احمد رضاخان بریلوی نے ایک ھندو کو وقت کا ابدال مان لیا لہذا احمد رضا خان کافر ۔


جواب: قارئین! اول تو جو حوالہ دیوبندی نے پیش کیا ہے اس میں کہیں بھی ” ھندو“ کا لفظ موجود نہیں، بلکہ ” سادھو “ کا لفظ موجود ہے۔ اور سادھو کِسے کہتے ہیں آئیے اہلِ لغت سے پوچھ لیتے ہیں۔

لغت کی مشہور کتاب فیروز اللغات میں ”سادھو“ کے معنی یوں بیان کیئے گئے۔

”سادھو : جوگی، درویش، پارسا، پرہیزگار، دیندار، معصوم، نیک، بھلا مانس “

[فیروز اللغات، صفحہ 762، مطبوعہ فیروز سنز اردو بازار لاھور]


ان سب معنوں میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ سادھو فقط ” ھندو “ کو ہی کہتے ہیں۔ بلکہ وہ سادھو درویش تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مندر میں کیا کر رہا تھا ؟

تو یہ بات واضح رہے کہ درویش مجذوب پر کوئی حکم نہیں لگتا۔ اور فقط مندر کا چکر لگانے سے بندہ ” ھندو “ نہیں ہو جاتا، دیوبندیوں کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی نے لکھا: کہ 

مجذوبین احکامِ شرع کے مکلف نہیں ہوتے۔ (ملخصاً)


[ارواحِ ثلاثہ، صفحہ 314، حکایت:439، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] 


تھانوی لکھتا ہے کہ:

”کوئی جگہ اولیاء اللہ سے خالی نہیں“


[امداد المشتاق، صفحہ 46، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]


مزید اشرف علی تھانوی نے علمائے دیوبند کے پیر ومرشد کے بارے میں لکھا کہ؛


”جن لوگوں کو ہم (علمائےدیوبند) کافر سمجھتے تھے۔ حضرت (حاجی امداد اللہ صاحب) انکو صاحبِ باطن فرماتے تھے۔“


[ارواحِ ثلاثہ، صفحہ 149، حکایت:174، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]


اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ علمائے دیوبند نے بہت سے صاحبِ باطن اولیاء حضرات کو بلا وجہ کافر کہا، تبھی تو اِنکے پیرو مرشد اُنکو مسلمان بلکہ اولیاء سمجھتے تھے۔ جنکی علمائے دیوبند تکفیر کیا کرتے تھے۔

یہاں بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے کہ جس ابدال کو دیوبندی ” ھندو “ کہہ رہے ہیں حقیقت میں وہ ولی ہی تھا۔


میری جان! ذرا اپنے گھر کی تو خبر لو


دیوبندیوں کا مجدد مولوی اشرف علی تھانوی تائیداً لکھتا ہے کہ:


”ایک شخص نے بیان کیا کہ ایک بزرگ کہتے تھے کہ تمام آدمی، کیا مشرک، اور کیا کافر، و کیا مومن سب کو خدا کی رسائی ہو سکتی ہے، اسلام شرط نہیں۔ ارشاد فرمایا کہ یہ بزرگ باوجود کمال کے سیر اسماء میں سے تھے البتہ مرتبہ حقائق میں یہ درست ہےـ“


[امداد المشتاق، صفحہ 46، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]


جی... تو دیوبندیوں کا مجدد تھانوی کہہ رہا ہے کہ کفار و مشرکین، ھندو، سکھ، عیسائی بھی عارف بااللہ ہو سکتے ہیں۔ انکی رسائی خدا تک ہو سکتی ہے۔


کافروں کی رسائی خدا تک ماننے والا


کافروں کی رسائی خدا تک ماننے والا خود دیوبندیوں کا مجدد اشرفعلی تھانوی ہے اور الزام ہمارے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ پر؟؟؟

دیوبندیو! پہلے اپنے گھر کی خبر لو تمہارا جدِّ امجد تھانوی دوسرے لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ ھندو مرتبۂ ولایت پر فائز ہو سکتا ہے۔ اللہ تک رسائی ہو سکتی ہے۔

لیکن ہم کہتے ہیں۔ محمدِ مصطفٰی ﷺ کے بغیر رب تک رسائی ناممکن ہے۔ پہلے اسلام قبول کر کے حضور سیّدِ عالَم ﷺ تک رسائی حاصل کرے پھر حضور ﷺ کی بدولت خدا تک رسائی ہو گی۔


دیوبندیوں کے مجدد اشرف علی تھانوی مزید لکھتا ہے کہ:


”ھندو قوم کا ایک شخص سلام لانے سے پہلے مجاھدے کیا کرتا تھا۔ اس نے قبل از اسلام اتنی محنت کی تھی کہ اس ھندو کی چودہ طبق تک نظر پہنچ جاتی تھی “ (ملخصاً)


[امداد المشتاق، صفحہ 66، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]


دیوبندیوں کے امام کے نزدیک ھندو حالتِ کفر میں بھی مجاھدے کر کے یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ اس ھندو کی نظر چودہ طبق تک چلی جاتی تھی۔ جبکہ دوسری طرف دیوبندیوں کے خلیل احمد انبیٹھوی نے لکھا کہ:

”رسول اللہ ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں“


[البراھین القاطعہ، صفحہ55، مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ دیوبند پو پی ھند]


دیوبندیوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک ھندو کی نظر کی طاقت مان رہے ہیں کہ اسکی نظر چودہ طبق تک چلی جاتی ہے مگر جب رسول اللہ ﷺ کی نظر مبارک کی باری آئی تو لکھ دیا کہ دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں (معاذاللہ) کیا یہی ہے تمہارا اسلام اور تمہارا عشقِ رسول ﷺ ؟


کفار و مشرکین ہندو کی نظر کی طاقت تم مانو، اور کفار و مشرکین ھندو کی خدا تک رسائی تم لوگ مانو اور الزام امام احمد رضا خان پر؟؟

پس ثابت ہوا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جس سادھو کو ابدال کہا وہ ھندو ہرگز نہ تھا بلکہ درویش تھا۔ کیونکہ ہمارے نزریک ایمان کیساتھ مصطفٰی کریم ﷺ کے بغیر اللہ تک رسائی ممکن نہیں۔

جب رسائی ممکن نہیں تو ہندو ابدال کیسے بن گیا ؟؟

اور عبارت میں بھی کہیں ہندو کا لفظ موجود نہیں ہے۔ ہاں دیوبندوں کی عبارات میں کفار مشرکین بلکہ ھندو کا لفظ موجود ہے۔

لہذا جو الزام دیوبندی لوگ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو دینے نکلے تھے اس میں خود ہی انکے بڑے جھکڑے گئے۔ بلکہ صدصالہ جشنِ دار العلوم دیوبند میں خصوصیت کیساتھ علمائے دیوبند نے اندرا گاندھی کو بلایا اور اسٹیج پر بٹھایا۔ اور اندرا گاندھی نے جشنِ دارالعلوم دیوبند میں تقریر بھی کی۔

[روزنامہ جنگ کراچی، بدھ 8جمادی الاول 1400ھ، بمطابق 26 مارچ 1980]


پتہ چلا کہ دیوبندیوں کے ھندؤں سے یارانے پرانے ہیں۔


ہم خاموش تھے کہ برہم نہ ہو گلشن کا سکون

  نادان سمجھ بیٹھے کہ قوّتِ للکار ہی نہیں


مدینے پاک کا بھکاری 

محمد اویس رضا عطاری

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)