بسم اللہ الرحمن الرحیم
الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ
فرقہ وہابیہ احمدیہ اسمعیلیہ دیابنہ خود کو توحید کا ٹھیکدار سمجھتا ہے اور اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات کو توحید کے مخالف بتاتے پھرتے ہیں۔ بے شمار من گھڑت فتوے ہمارے خلاف اس وہابی تکفیری فرقے کے موجود ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی توحید اسلامی توحید نہیں بلکہ ابلیسی توحید ہے۔جس کا ثبوت کتب وہابیہ ہی میں پایا جاتا ہے۔کتب وہابیہ کے مطابق بھی توحید دو طرح کی ہیں ایک اسلامی توحید اور دوسری ابلیسی توحید۔ابلیس لعین کے بارے میں خود علماء دیوبند نے لکھا ہے کہ
” سب سے بڑا موحد تو ابلیس کو سمجھا جاتا ہے اس کی توحید ایسی سخت تھی کہ خود اللہ کے حکم کے باوجود غیر اللہ (حضرت آدم علیہ السلام)کے سامنے جھکنا گوارہ نہ کیا “ (سیف اویسیہ:ص ۵۱،۶۱)
اسی طرح علماء دیوبند نے لکھا کہ
”بعض کتب میں مدح ابلیس کی پائی جاتی ہے اور چونکہ توحید و عشق اس (ابلیس)کا علیٰ درجے کا تھا سجدہ آدم گوارا نہ کیا“
(شمائم امدادیہ حصہ دوم صفحہ ۱۶،۲۶)
تو جس طرح ابلیس کی خود ساختہ توحید کا اسلامی توحید کے ساتھ کچھ تعلق نہیں بلکہ یہ ابلیسی توحید ہے جس میں مقربین الہی کی شان میں گستاخیاں اور بے ادبیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح وہابیہ کی توحید کا بھی اسلامی توحید سے کوئی تعلق نہیں۔بلکہ یہ فرقہ وہابیہ شیطان کا ہی پیرو کار ہے جیسا کہ دیوبندیوں کی مصدقہ کتاب ”فتح المبین“ میں لکھا کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا
”ھناک الزلازل و الفتن و بھا یطلع قرن الشیطان“یعنی ملک نجد میں زلزلے اور فتنے اٹھیں گے اور اُس سے نکلے گی امت شیطان کی،سو موافق اس خبر مخبر صادق کے گروہ وہابیہ جو پیرو محمد بن عبد الوہاب کے ہیں“(فتح المبین ص ۱۲۴)
اور دیوبندی ترجمان امین صفدر اکاڑوی کے مطابق
”وقت کے ایک سو چار (104) مفتی صاحبان ……علمائے حرمین شریف نے احناف کی کتاب الفتح المبین کی تائید و تصدیق فرمائی“
(تجلیات صفدر جلد پنجم ۲۲۴)
تو اس کتاب میں نبی پاک ﷺ کے فرمان ”قرن الشیطان“سے مراد یہی فرقہ وہابیہ لیا گیا ہے اور اس فرقے وہابیہ کو شیطان کی امت بتایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس فرقے کی توحید بھی ابلیسی توحید ہے جس میں توحید کے نام پر مقربین الہی کی گستاخیاں کی جاتی ہیں جیسا ک خود علماء دیوبند کے ایک مشہور مفتی سعید صاحب نے بھی اس بات کی گواہی دی کہ
”ہمارے ملک میں دیوبندیت کو ان نواصب کے علاوہ جس مسلک یا عقیدے نے بہت نقصان پہنچایا ہے،وہ وہابیت ہے۔ ……اہل اللہ کا ادب،شعائر اللہ کا احترام اور چھوٹے بڑے کی تمیز اٹھ جانے کا ایک سبب وہ وہابیت کا اثر ہے،جو ہمارے مدارس میں گھس آئی ہے۔ اور توحید کے نام پر طلباء،حضرات اولیاء کرام رحمہم اللہ کو گستاخ آمیز جملوں کا نشانہ بنانے لگے ہیں“ (دیوبندیت کی تطہیر ضروری ہے صفحہ ۱۴ )
اسی طرح بہاؤ الحق قاسمی دیوبندی کہتے ہیں کہ
”میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ وہابی تحریک کا ثمرہ کافر سازی،مشرک گری،اسلامی سلطنتوں کی تباہی و بربادی، مقامات مقدسہ کی توہین اور انصارے کی غلامی کے سوا کچھ نہیں“(نجدی تحریک پر ایک نظر ۷)
تو توحید کا نام لیکر،توحید کے نام نہاد ٹھیکدار بن کرمقربین الہیٰ اور شعائر اللہ کی تعظیم و ادب نہ کرنایہی ابلیسی توحید ہے،اور یہی ابلیسی توحید ابلیس کی امت فرقہ وہابیہ کی ہے۔اسی طرح ایک دیوبندی وہابی مولوی نے اپنے ہی وہابی دیوبندی فرقے کے ملاؤں کے بارے میں لکھا کہ
”آپ کی توحید کا اس توحید سے کوئی تعلق نہیں جو محمد رسول اللہ نے امت تک پہنچانے کے لئے صحابہؓ کو سیکھائی“(سیف اویسیہ:ص ۶۱)
بلکہ مزید انہی کی ایک اور گواہی یہ ہے کہ وہابیہ کی توحید کا ماخذ بھی وہی ابلیسی توحید ہے چنانچہ خود دیوبندی وہابی احمدی مولوی نے اپنے ہی وہابیوں دیوبندیوں کے بارے میں لکھا کہ
”آپ [یعنی دیوبندیوں] کی توحید کا ماخذ ابلیسی توحید ہے“
(سیف اویسیہ:ص ۶۱)
وہابیہ دیابنہ کے گھر کی اس گواہی سے بالکل واضح ہو گیا کہ ان وہابیوں کی توحید کوئی اسلامی توحید نہیں بلکہ ابلیسی توحید ہے۔اورچونکہ ابلیس کی خو د ساختہ توحید میں نہ صرف مقربین الہیٰ کی شان میں توہین اور گستاخی پائی جاتی ہے بلکہ یہ مقربین الہیٰ سے خو د کو بہتر بھی سمجھتا تھا اور یہی عنصر وہابیہ میں موجود ہے چنانچہ ایک دیوبندی وہابی مولوی خود اپنے ہی وہابی بزرگوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
” ان بزرگواروں [یعنی دیوبندیوں] کی توحید میں بھی وہی عنصر [ابلیسی] موجود ہے“
(سیف اویسیہ:ص ۶۱)
نیز جس طرح ابلیس خود کو مقربین الہی سے بہتر سمجھتا تھا اسی طرح
”بعض حضرات [دیوبند] نے بزعم خود توحید کے نشے سے سرشار ہو کر کچھ ایسے نظریات اپنا رکھے ہیں جو اہل اہلسنت و الجماعت کے مسلک کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اکابر……کی تصریحات کے بھی سراسر خلاف ہیں ……اس طریق کو وہ بزعم خویش توحید کا ایک حصہ یا شرک کے رد کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہیں اور بقول ان کے ان نظریات کی نشر و اشاعت کرنے سے قوم کے شرک میں مبتلا ہو جانے کا شدید خطرہ ہے“
(تسکین الصدور:دیباچہ طبع دوم:ص ۵۴)
”مقام افسوس ہے کہ دور حاضر میں بعض قاصرین فی العلم طبائع نے اپنی متوحدانہ نظریات توحید میں اس قدر غلو اور تجاوز عند حد الاعتدال اختیار کر رکھا ہے کہ بعض مسنونات و مستحبات کو بھی حدود شرک میں کھینچ لانے کے من مانی تصرفات کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔انہی عناصر نے اپنی متوحدانہ رنگ کی توحید کے نشہ میں عقیدہ حیوۃ الانبیاء کو بھی منافی توحید خود ساختہ قرار دیکر ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے“
(تسکین الصدور:۱۳)
تو حضرات گرامی!فرقہ وہابیہ کی ابلیسی توحید کا نشہ ہے کہ وہ اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات کو اپنی خود ساختہ توحید کے منافی قرار دیتے ہیں۔لیکن اس تکفیری فرقے کے فتوؤں کی ہمیں کوئی فکر نہیں کیونکہ ہم بتا چکے کہ یہ ان کی ابلیسی توحید ہے کوئی اسلامی توحید نہیں۔اسلامی توحید الگ ہے اور فرقہ وہابیہ کی
”کافرانہ توحید“
(سیف اویسہ بر عقائد نامرضیہ:ص ۹۳)
”ابلیسی توحید ہے“
(سیف اویسیہ:ص ۶۱)
یہ الگ ہے اور یہ وہابی فرقہ کی
”فضول توحید ہے“
(چہل مسئلہ:ص ۷)
وہابیہ کی اس نا م نہاد توحید
”کا ماخذ ابلیسی توحید ہے“
(سیف اویسیہ:ص ۶۱)
جس کا اسلامی توحید سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ اس لئے ہم اہل سنت و جماعت اس فرقہ وہابیہ سے
”توحید کے در پردہ ہونے والی گستاخیوں“
(سفید و سیاہ پر ایک نظر:۲۲)
کا رد کرتے ہیں اور ان کی ابلیسی توحید کو ان کے منہ پر مارتے ہیں۔وما علینا الالبلاغ المبین۔
(خادم اہل سنت احمد رضا قادری)
ــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: اپنی طرف سے پوری کوشش کی گئی ہے کہ حوالہ نقل کرنے میں غلطی نہ ہو، تاہم غلطی کا امکان اب ہے لہذا کسی قسم کی غلطی نظر آئے تو مطلع فرمائیں۔ تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔

