اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ۴۰ مخصوص عادات مبارکہ

0

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ دنیائے علم و ادب میں آپ کی عظمت و شان کی گونج ہے۔ آپ کی دینی و علمی خدمات، مذہب و ملت کے لیے آپ کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ کی مقدس حیات سے عشق رسول ﷺ کا سبق اور دین داری و تقویٰ شعاری کا جذبہ حاصل ہوتا ہے۔


اللہ کے محبوب و مقبول بندوں کی زندگی اور ان کے عادات و اطوار سے دنیا کو دین و دنیا کی بہتری کیلیے رہنمائی ملتی ہے۔ اس لیے اس تحریر میں افادۂ عام کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے چالیس مخصوص عادات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: 

۱. ذکر میلاد مبارک میں ابتدا سے آخر تک ادباً دو زانو بیٹھے رہا کرتے تھے۔


۲. یوں ہی ( یعنی دو زانو بیٹھ کر ہی ) آپ وعظ بھی فرمایا کرتے تھے۔

۳. چار پانچ گھنٹے کامل دو زانو ہی منبر شریف پر رہتے تھے۔ (حیات اعلی حضرت ، اول، ص ۹۲)


۴. اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ضعیف الجثہ اور نہایت قلیل الغذا بزرگ تھے۔


۵. اپنا وقت کبھی بے کار صرف نہیں فرماتے تھے۔


۶. ہمہ وقت تالیف و تصنیف و فتاویٰ نویسی کا مشغلہ تھا۔


۷. تمام عمر جماعت سے نماز التزاماً پڑھی۔


۸. ہمیشہ دستار اور انگرکھے کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔


۹. خصوصاً فرض نماز کبھی صرف ٹوپی اور کرتے کے ساتھ آپ نے ادا نہیں فرمائی۔


۱۰. ہر نماز اطمینان و احتیاط کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر ادا فرماتے تھے۔


۱۱. ہر شخص حتی کہ چھوٹی عمر والے سے بھی نہایت ہی خلق سے ملتے تھے۔


۱۲. لوگوں کو "آپ" اور "جناب" سے مخاطب فرماتے اور حسب حیثیت ان کی توقیر و تعظیم فرماتے تھے۔ (حیات اعلی حضرت ، اول، ص ۹۴، ۹۵)


۱۳. آپ کے اخلاق و عادات نہایت عمدہ تھے۔


۱۴. پوری زندگی حبّ نبوی اور اتباع شریعت میں گزری۔ 


۱۵. اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام لیتے نہ کچھ شکایت کرتے۔


۱۶. مگر خد اور رسول کا معاملہ ہوتا تو ہرگز رو رعایت نہ کرتے۔


۱۷. پانچوں وقت نماز نہایت اہتمام سے ادا کرتے۔


۱۸. طبیعت شدید ناساز ہوتی تب بھی مسجد میں تشریف لاتے اور جماعت سے نماز ادا کرتے۔


۱۹. فرض روزوں کے علاوہ اکثر نفل روزے رکھتے۔


۲۰. سوتے وقت نام اقدس " محمد " کی شکل میں لیٹتے۔


۲۱. سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے۔


۲۲. کسی چیز کے لینے یا دینے میں داہنا ہاتھ بڑھاتے۔


۲۳. کبھی قہقہہ نہ لگاتے۔ بلکہ تبسم فرماتے۔


۲۴. قبلہ کی طرف منہ کر کے کبھی نہ تھوکتے۔


۲۵. قبلہ کی طرف پاؤں کبھی دراز نہ کرتے۔


۲۶. آہستہ آہستہ چلتے۔ اکثر نگاہیں نیچی رکھتے۔

 

۲۷. ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھ کر بیٹھنے کو ناپسند کرتے۔


۲۸. آیت قرآن یا حدیث شریف بیان کرتے وقت کوئی قطع کلام کرتے تو آپ سخت ناراض ہوتے۔

(المیزان، امام احمد رضا نمبر ، ص ۳۴۶)


۲۹. علماء اور طلباء کا حد درجہ احترام کرتے ، اور ان کے آنے پر بے حد مسرور نظر آتے۔


۳۰. مہمانوں کے ہاتھ خود دھلاتے۔ اور عمدہ سے عمدہ کھانا انہیں کھلاتے۔


۳۱. مزاج میں عُجب غرور اور کِبر بالکل نہ تھا۔


۳۲. سادات کرام کے سامنے فرط تواضع اور انکسار سے بچھ بچھ جاتے۔


۳۳. آپ کے ہاں ہر تقریب میں سادات کرام کو دو ہرا حصہ دیا جاتا۔ 

(المیزان، امام احمد رضا نمبر ، ص ۳۴۷)


۳۴. خط بنواتے وقت اپنا کنگھا اور شیشہ استعمال کرتے۔

 

۳۵. با قاعدگی سے مسواک کرتے۔


۳۶. قرآن و حدیث و غیرہ کتب پر دوسری کتابیں نہ رکھتے۔


۳۷. ہفتے میں دو بار یعنی جمعہ اور منگل کو کپڑے تبدیل کرتے۔ 

(اعلیٰ حضرت اعلیٰ سیرت، ص ۱۴۹)


۳۸. آپ میں نہ صرف غریب پروری حد درجہ تھی بلکہ غریب نوازی میں بھی یکتائے روزگار تھے۔


۳۹. غریبوں کی دعوت قبول فرما کر ان کے خس پوش اور خستہ حال گھروں پر قدم رنجہ فرما کر اس چیز کو جس کی عادت نہ تھی خوشی خوشی نوش فرماتے تھے۔


۴۰. غریب لوگ از قسم مزدور وغیرہ محض حصول دعا کی خاطر دعوتیں کیا کرتے تھے اور حضرت قبول فرما کر ان کی خوشی پوری کرتے تھے۔

 (المیزان، امام احمد رضا نمبر ، ص ۳۵۲)

ماخوذ : چالیس ارشاداتِ اعلیٰ حضرت 

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے تعلق سے اور بھی معلومات جاننے کے لیے ” چالیس ارشاداتِ اعلیٰ حضرت “ کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا، پڑھنے کے لیے کتاب کے نام پر کلک کریں۔ اور کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں 👇

Download Book 

•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•



از ............................................. رفعتؔ برکاتی 

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)