محترم قارئین کرام!
آئے دن دیوبندی وہابی اپنی تحریر و تقریر میں معمولاتِ اہلِ سنت و الجماعت پر اپنی جہالت و بدعقلی کی بنا پر اور دانشتہ طور پر بے جا اشکالات و اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔ اور علماء اہل سنت و محققین حضرات کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے اعتراضات و اشکالات پر علماء و محققین اہل سنت اتنی کتابیں و مضامین لکھ چکے ہیں کہ اگر ان کے نصیب میں ہدایت ہوتی تو اب تک انہیں ضرور مل چکی ہوتی۔ کیونکہ امام اہل بدعت سرفراز گکھڑوی لکھتا ہے:
"دنیا میں کچھ لوگ ضدی، دھڑے بند اور متعصب بھی ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو تو خدا تعالیٰ کے معصوم پیغمبر بھی نہیں منوا سکے"
(المسلک المنصور،ص ۹)
ایسے ہی ضدی، دھڑے بند اور متعصب یہ دیوبندی وہابی ہیں۔ یہی تو وجہ ہے کہ ہر طرح کے جواب ملنے کے بعد بھی حق قبول کرنے کے بجائے یہ لوگ گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں یا فرار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ یہی ان کو اپنے بڑوں سے وراثت میں ملا ہے۔ عمیر قاسمی لکھتا ہے:
"ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نرے جاہل ہوتے ہیں، جو منہ میں آتا ہے بکتے چلے جاتے ہیں" (فضل خداوندی، ص ۲۲۹)
عمیر قاسمی کی اس بات کو درست مان کر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی دین دیوبندیت میں اکثریت ایسے نرے جاہلوں کی ہے کہ جو ان کے منہ میں آتا ہے بکتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً ماہ ربیع الاوّل کی آمد سے قبل ہی دیوبندیوں وہابیوں کے ان نرے جاہلوں کی فوج سوشل میڈیا سے لے کر اپنی نجی و عوامی محافل و مجالس تک مختلف اعتراضات و بکواسات میں، ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ ۱۲ ربیع الاوّل تو حضور ﷺ کی تاریخ ولادت ہے ہی نہیں۔ بلکہ ۸ یا ۹ ربیع الاوّل ہے۔ اور ۱۲ ربیع الاوّل دراصل آپ ﷺ کی تاریخ وصال ہے۔ اور ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے وصال کے دن جس دن صحابہ کرام پر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا اس دن خوشی مناتے ہیں۔یا پھر یہ کہتے ہیں کہ تاریخ ولادت میں تو اختلاف ہے (یعنی تاریخِ ولادت ۱۲ کو ہے، یا ۸، یا ۹ وغیرہ کو ہے) مگر تاریخ وصال میں کوئی اختلاف نہیں (یعنی ۱۲ ربیع الاوّل ہی کو آپ ﷺ کا وصال ہوا) اور مقصد ان کا یہ ہوتا ہےکہ عوام و شکوک وشبہات کا شکار ہو کر ان کے دامِ فریب میں مبتلا ہو جائے۔اور ۱۲ ربیع الاوّل کے بابرکت دن کو نظر انداز کرنے لگے۔ جو ایک شیطانی کوشش ہے۔ اس تعلق سے زیادہ کچھ بتانے یا تحریر کو مزید طول دینے سے گریز کرتے ہوئے ہم دیوبندیوں وہابیوں کے حکیم الامت جناب اشرفعلی تھانوی کو پیش کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک حضور سرورِ کونین ﷺ کی ولادت و وفات کی تاریخ کون سی ہے۔چنانچہ اشرفعلی تھانوی بارہ ربیع الاوّل کے دن اپنی ایک محفل میں صفائی دیتے ہوئے کہتا ہے:
"عجیب اتفاق ہے کہ آج ۱۲ ربیع الاوّل ہے۔اسی تاریخ میں لوگ افراط و تفریط کرتے ہیں اس تاریخ کا بالتخصیص ارادہ نہیں کیا گیا اور نہ نعوذباللہ اس تاریخ سے ضد ہے بلکہ الحمد للّہ ! ہم اس میں برکت کے قائل ہیں"
(ملفوظات حکیم الامت، جلد ۵، ص ۴۹)
اور پھر آگے کہتا ہے:
"جمہور کے قول کے موافق ۱۲ ربیع الاوّل تاریخ ولادت شریفہ ہے" (ایضاً، ص ۵۰)
اور تاریخ وفات کے متعلق ایک صاحب کے سوال کے جواب میں اشرفعلی تھانوی کہتا ہے:
"حضور ﷺ کی تاریخ وفات ربیع الاوّل کی بارہ غلط مشہور ہے۔ نویں تاریخ کو حضور نے حج کیا اور وہ جمعہ کا دن تھا اور اسی سال وفات ہوئی اور دو شنبہ کو ہوئی۔ یہ مقدمات سب متواتر اور قطعی ہیں اب اس کے بعد کوئی حساب ایسا نہیں ہو سکتا جس سے دو شنبہ کو بارہ ربیع الاوّل ہو جدا معلوم یہ کہاں سے مشہور ہو گیا۔" (ملفوظات حکیم الامت، جلد ۸، ص ۲۶۲)
یہی بات الکلام الحسن، اول ص ۲۰۲ / کلمۃ الحق، ص ۱۳۵ / نشر الطیب، ص ۱۹۴ پر بھی قارئین دیکھ سکتے ہیں۔
ان اقتباسات سے بالکل واضح ہو گیا کہ ۱۲ ربیع الاوّل تاریخ ولادت تو ہے مگر تاریخ وفات ہر گز بھی نہیں۔ لہٰذا دیوبندیوں وہابیوں کو چاہیے کہ ہماری نہیں تو کم از کم اپنے حکیم الامت جناب اشرفعلی تھانوی کی مانیں۔
قارئین کرام! اس تعلق سے مزید تفصیلی و تحقیقی معلومات کے لیے ” ماہنامہ دارالعلوم دیوبند “ میں شائع شدہ تحقیقی مضمون جو دیوبندی عالم ہی کا ہے اسے آپ یہاں کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ 👇👇
ماہنامہ دارالعلوم دیوبند pdf میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
👇👇👇
ماہنامہ دارالعلوم دیوبند جنوری ۲۰۱۵ ء
ازقلم............................... رفعتؔ برکاتی
۴ اکتوبر ۲۰۲۳ ء مطابق ۱۸ ربیع الاوّل ۱۴۴۵ ھ
•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•


