🖊️:رمضان رضا ماتریدی
(ماتریدی ریسرچ سینٹر،مالیگاؤں)
حج اسلام کے عظیم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔ جب حاجی بیت اللہ شریف اور روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کرکے اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں تو ان سے ملاقات کرنا، ان کا استقبال کرنا اور ان سے دعاؤں کی درخواست کرنا ایک مستحب اور باعثِ برکت عمل ہے۔
حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا:
"حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر مغفرت طلب کریں تو انہیں بخش دیتا ہے۔"
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2892)
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو اس سے ہاتھ ملاؤ اور اس کے گھر پہنچنے سے پہلے پہلے اس سے مغفرت کی دعا کرواؤ ، بے شک وہ بخشا ہوا ہے۔"
(جامع صغیر، صفحہ : 58، حدیث : 847)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجیوں کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ وہ اللہ عزوجل کے مہمان بن کر اس کے گھر سے واپس آتے ہیں اور ان کی دعاؤں میں خصوصی قبولیت کی امید ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگانِ دین حاجیوں سے ملاقات کو سعادت سمجھتے تھے۔
حاجیوں کا استقبال محبت، اخوت اور دینی شعور کا مظہر ہے۔ ان سے ملاقات کے ذریعے حج کی یادیں تازہ ہوتی ہیں، ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے اور حرمین شریفین کی محبت دلوں میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کے سفرِ حج کے واقعات سن کر دل میں بھی بیت اللہ اور مدینہ منورہ کی حاضری کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔
لہٰذا جب کوئی حاجی حج سے واپس آئے تو اس سے ملاقات کیجیے، مبارک باد پیش کیجیے، مصافحہ کیجیے اور اپنی، اپنے اہل و عیال اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعا کی درخواست کیجیے۔ یہ عمل نہ صرف محبت و اخوت کو فروغ دیتا ہے بلکہ روحانی برکتوں کے حصول کا بھی ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔
اللہ عزوجل تمام حاجیوں کا حج قبول فرمائے، انہیں حجِ مبرور نصیب فرمائے اور ہمیں بھی بار بار اپنے مقدس گھر اور روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کا شرف عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
ــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــ

