ناامیدی میں بھی امید کی کرن

0

 

از قلم🖊️:رمضان رضا ماتریدی

دعا مومن کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ یہ وہ خاموش صدا ہے جو زمین سے اٹھتی ہے اور عرش تک پہنچتی ہے۔ انسان جب دنیا کے ہجوم میں تنہا ہوجاتا ہے، جب اسباب کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں، جب امید کے چراغ مدھم پڑنے لگتے ہیں، تب ایک دروازہ ایسا رہتا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا….. اور وہ دروازہ اللہ عزوجل کی بارگاہ کا ہے۔

لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم بہت شدت سے دعا کرتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں، دل بےقرار ہوتا ہے، مگر پھر نفس کے کسی گوشے سے ایک وسوسہ جنم لیتا ہے کہ:

” شاید میری دعا قبول نہ ہو…“

” شاید میں محروم رہ جاؤں…“

ایسے لمحے میں قرآن مجید ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک صدا سناتا ہے:

وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا

”اور میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں ۔قریب ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کی وجہ سے بدبخت نہ ہوں گا۔“

یہ صرف ایک آیت نہیں، بلکہ امید کا سمندر ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے تو وہ محروم نہیں رہتا۔ ہوسکتا ہے مانگی ہوئی چیز فوراً نہ ملے، ہوسکتا ہے ویسے نہ ملے جیسے ہم چاہتے ہیں، مگر اللہ عزوجل اپنے بندے کو خالی نہیں لوٹاتا۔

کبھی وہی عطا کردیتا ہے جو مانگا گیا،

کبھی اس سے بہتر عطا فرماتا ہے،

اور کبھی کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔

مومن کا یقین یہی ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کی گئی کوئی دعا ضائع نہیں جاتی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ

” مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا“

یہ ربِ کائنات کا وعدہ ہے، اور اللہ عزوجل اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ عزوجل پر کامل یقین کا اظہار ہے۔ 

جب بندہ سچے دل سے ہاتھ اٹھاتا ہے تو آسمانوں کا رب اس کی آہٹ سنتا ہے، اس کے آنسو دیکھتا ہے، اس کے دل کے ٹوٹنے کو جانتا ہے۔

اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ

”کہ اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے“

لہٰذا کبھی مایوس نہ ہوں۔ اگر دعا میں تاخیر ہو تو اسے محرومی نہ سمجھیں۔ ہوسکتا ہے اللہ عزوجل آپ کے لیے اچھا نہیں بلکہ بہترین فیصلہ فرما رہا ہو۔ کیونکہ بندہ صرف اپنی خواہش دیکھتا ہے، جبکہ اللہ عزوجل اس کا انجام بھی جانتا ہے۔

دعا کرتے رہیے…

یقین کے ساتھ، امید کے ساتھ،

آنسوؤں کے ساتھ، توکل کے ساتھ…

اور دل میں یہ یقین رکھیے کہ:

” میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا…“

اللہ عزوجل ہماری تمام جائز دعاؤں کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرمائے۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین

•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈• 


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)