ہنستے چہروں کے پیچھے چھپا ہوا درد

0

 


لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ ڈپریشن صرف خاموشی کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص تنہائی اختیار کر لے، کم بولے، یا ہر وقت اداس دکھائی دے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ وہ ڈپریشن میں ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری، خاموش اور تکلیف دہ ہے۔ ہر خاموش انسان ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتا، اور ہر ہنستا ہوا چہرہ خوشی کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سب سے زیادہ مسکرانے والے لوگ ہی اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔


اداسی ایک وقتی کیفیت ہے۔ انسان کسی ناکامی، جدائی یا پریشانی کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے خاموش اور غمگین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بیزاری بھی زندگی کے دباؤ اور تھکن کی ایک صورت ہے، جب انسان کا کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ کشمکش وہ حالت ہے جب انسان مختلف پریشانیوں اور فیصلوں کے درمیان الجھا رہتا ہے۔ مگر ڈپریشن ان سب سے مختلف ہے۔ یہ وہ خاموش جنگ ہے جو انسان اپنے ہی دل کے اندر لڑ رہا ہوتا ہے، اور اکثر دنیا کو اس جنگ کی خبر تک نہیں ہوتی۔


ڈپریشن کا شکار انسان ہمیشہ خاموش نہیں ہوتا۔ کئی بار وہ محفلوں کی جان ہوتا ہے۔ سب کو ہنساتا ہے، سب کے غم بانٹتا ہے، ہر ایک کو تسلی دیتا ہے، مگر اپنے دل کے زخم کسی کو نہیں دکھاتا۔ وہ مسلسل ہنستا رہتا ہے تاکہ کوئی اس کی آنکھوں میں چھپی تھکن نہ پڑھ لے۔ وہ خوش دکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ اسے کمزور نہ سمجھیں۔ مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر ایک طوفان چل رہا ہوتا ہے، جس کی آواز صرف وہ خود سن سکتا ہے۔


کبھی کبھی انسان اتنا ہنستا ہے کہ ہنسی کے درمیان آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ مگر وہ فوراً انگلیوں کی پوروں سے آنسو صاف کر لیتا ہے تاکہ کسی کو احساس نہ ہو کہ یہ ہنسی دراصل ایک چیخ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ خوش ہے، حالانکہ وہ اپنے درد کو صبر، شکر اور حوصلے کے پردے میں چھپا رہا ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو سکون دیتا دیتا خود اندر سے بکھر چکا ہوتا ہے۔


آج کے دور میں یہ مسئلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ لوگ جسمانی بیماریوں کو تو سمجھ لیتے ہیں، مگر ذہنی اور جذباتی تکلیف کو اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے دل کی بات کرنا چاہے تو اسے کمزور، حساس یا غیر ضروری سوچنے والا کہہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے درد کو دل میں دفن کر کے جیتے رہتے ہیں۔ وہ دنیا کے سامنے مسکراتے ہیں، مگر رات کی تنہائی میں خاموشی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔


اسلام انسان کو مایوسی نہیں، امید سکھاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ عزوجل فرماتا ہے:


اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا

بیشک دشواری کے ساتھ اور آسانی ہے


یہ آیت صرف تسلی نہیں، بلکہ ایک وعدہ ہے۔ اللہ عزوجل بندے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ مشکلات ہمیشہ نہیں رہتیں۔ اندھیری رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، اس کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ انسان اگر صبر، دعا اور اللہ پر بھروسہ قائم رکھے تو ٹوٹا ہوا دل بھی دوبارہ جڑ سکتا ہے۔


ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کے چہروں کے پیچھے چھپے درد کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہر وقت ہنسنے والا انسان ضروری نہیں کہ خوش بھی ہو۔ کبھی کسی سے محبت بھرے انداز میں حال پوچھ لینا، اس کی بات خاموشی سے سن لینا، یا صرف اس کے ساتھ بیٹھ جانا بھی اس کے لیے بہت بڑی راحت بن سکتا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ زندگی میں سب سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے سب سے زیادہ تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کے سامنے مسکراتے ہیں تاکہ کسی کو ان کے زخم نظر نہ آئیں۔ ایسے لوگوں کو تنقید نہیں، محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں نصیحت نہیں، احساس چاہیے ہوتا ہے۔


محمد رمضان رضا ماتریدی 

……………………………………………………………………


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)