وھابیہ دیابنہ کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے۔
وھابیہ کا محقق مولوی صادق سیالکوٹی لکھتا ہے کہ:
”اللہ کے علاوہ کوئی غوث نہیں...حضور ﷺ صحابہ کوئی غوث نہیں، امتی کو غوث کہہ کر نبی سے بڑھا دیا۔ یہ رسول کی عزت نہیں“
[ارشاداتِ شیخ عبد القادر، صفحہ 23, 24، مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاھور]
یہی وھابی محقق اپنی دوسری کتاب "سبیل الرسول" میں لکھتا ہے کہ؛
”اللہ کے سِوا کوئی غوث یعنی فریاد رَس نہیں“
[سبیل الرسول صفحہ 98، مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاھور]
وھابیہ کے مولوی عبد المجید سوھدروی کے بیٹے مفتی محمد ادریس فاروقی وھابی نے لکھا کہ؛
”غوث کے معنی ہیں "فریاد رَس" اور داتا کے معنی ہیں دینے والا۔ ظاھر ہے یہ دونوں اوصاف اللہ تعالٰی کے ہیں لہذا اللہ کے علاوہ نہ کوئی غوث ہے نہ فریاد رَس۔ مخلوق میں سے کسی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں“
[استادِ پنجاب صفحہ 47، مطبوعہ مسلم پبلیکیشنز سوھدرہ گوجرانوالہ]
وھابیہ کے محقق مولوی امیر حمزہ اور جماعة الدعوہ کے وھابی مفتی مبشر احمد ربانی کی مصدقہ کتاب میں مولوی ابنِ لعل دین لکھتا ہے کہ؛
”بریلوی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو غورث الاعظم کہہ کر پکارتے ہیں....دعا میں رسول اللہ ﷺ کو غوث، مشکل کُشاء اور قاضی الحاجات کے الفاظ سے پکارا گیا ہے جو کہ اللہ کی صفات ہیں“
[میٹھی میٹھی سنتیں یا..؟ صفحہ121, 122، مطبوعہ مجلة الدعوة الحجاز پلازہ لاھور]
دیوبندیوں کا محقق مولوی کریم بخش لکھتا ہے کہ؛
”شیخ عبد القادر جیلانی، جنہیں یہ(سنی بریلوی) لوگ غوث الاعظم کے لقب سے پکارتے ہیں“
[چہل مسئلہ حضرات بریلویہ، صفحہ 16، مطبوعہ مکتبة صفدریہ، اردو بازار گوجرانوالہ]
تو وھابیہ نجدیہ دیوبندیہ کی ان عبارات میں واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی غوث نہیں، شیخ عبد عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ تو دور کی بات ہے رسول اللہ ﷺ کو بھی غوث کہنا شرک ہے۔ جب نبی غوث نہیں تو کسی امتی کو غوث کہنا یہ تو امتی کو نبی سے بڑھانا ہے۔
*الجواب؛؛*
اگر اللہ علاوہ کسی کو غوثِ اعظم کہنا اس لئے شرک ہے کہ ”غوث“ اللہ کی صفت ہے۔
تو پھر حضرت ابوبکر کو ”صدیقِ اکبر“ کہنا بھی شرک ہوا کیونکہ ”اکبر“ اللہ کی صفت ہے۔
پھر حضرت عمر کو ”فاروقِ اعظم“ بھی کہنا شرک ہوا۔ کیونکہ ”اعظم“ بھی اللہ پاک کی ذات ہے۔
پھر توحضرت عثمان کو ”غنی“ کہنا بھی شرک ہوا کیونکہ ”غنی“ تو اللہ کی صفت ہے۔
پھر تو حضرت علی کو ”علی“ کہنا بھی شرک ہوا کیونکہ ”علی“ اللہ کی صفت ہے
پس پتہ چلاکہ فرق حقیقت و مجاز ہے۔ اللہ کی یہ صفات حقیقی ہیں اور اللہ والوں کی مجازی ہے۔
اسی طرح اللہ حقیقی ”غوث“ ہے اور ولی مجازی یعنی اللہ کی عطا سے غوث ہے۔
*حضرت عمر فاروق نے حضرت عَمَروْبن عاص کو غوث کہہ کر پکارا*
جب حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ شریف میں قحط پڑا تو آپ نے مصر میں حضرت عَمَروْ (Amar) بن عاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا؛
”سلام اما بعد فلعمری یاعمر وما تبالي اذا شبعت انت ومن معك انّ اھلك انا ومن معي ۔ فیاغوثاہ۔ ثم ۔ یاغوثاہ ۔ یردد قوله۔“
سلام کے بعد واضح ہو مجھے اپنی جان کی قسم ! اے عَمَرو(Amar) !جب تم اورتمہارے ملک والے سَیر ہوں تو تمہیں کچھ پرواہ نہیں کہ میں اورمیرے ملک والے ہلاک ہوجائیں ارے فریاد کو پہنچ ارے فریاد کو پہنچ ۔ اور اس کلمے کو بار بار تحریر فرمایا۔....الخ“
[ المستدرك للحاکم، کتاب الزکٰوۃ، جلد 1، صفحہ 405، دارالفکر بیروت]
[لسنن الکبرٰی للبیہقی، کتاب قسم الفیئ والغنیمة، باب یکون للولی...الخ، جلد6، صفحہ 355، دارصادر بیروت]
[صحیح ابن خزیمه، باب ذکر الدلیل علي ان العامل...الخ، حدیث:2368، جلد 4، صفحہ 67، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت]
[کنز العمال بحوالہ ابن خزیمه، حدیث:35889، جلد12، صفحہ 609، 620، مطبوعہ مؤسسة الرساله بیروت]
[کنز العمال بحوالہ ابن عبدالحکم، حدیث:35906، جلد12، صفحہ 616، 617، مؤسسة الرساله بیروت]
جی تو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ نے حضرت عَمَروْ بن عاص رضی اللہ عنہ کو بار بار ”یاغوث“ ”یاغوث“ کہہ کر مدد کیلئے پکارا۔ اگر اللہ کے کےعلاوہ کسی کو غوث کہنا شرک ہے تو بتاؤ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر کیا فتویٰ لگے گا؟
اگر یہ کہو کہ جب حضرت عمر نے انکو پکارا تب وہ زندہ تھے لہذا وفات کے بعد نہیں پکارا جا سکتا۔
تو جواباً ہم کہتے ہیں کہ جو کام شرک ہوتا ہے وہ زندہ کیساتھ بھی شرک ہوتا ہے اور مردہ کیساتھ بھی شرک ہی ہوتا ہے۔
جیسے زندہ کو سجدہ کرنا شرک ہے ایسے ہی مردہ کو سجدہ کرنا بھی شرک ہی ہو گا۔
جس طرح کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ زندہ کو تو سجدہ جائز ہے لہذا مردہ کو سجدہ شرک ہے۔ ایسے ہی یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ زندہ کو غوث کہنا جائز ہے اور وفات کے بعد کہنا شرک ہے۔
لہذا ثابت ہوا کہ اللہ کی عطاء سے اللہ کے پیارے بھی غوث ہیں اور انکو غوث کہنا جائز ہے جسطرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔
یہ تو تھے برھانی دلائل آئیے اب جدلی یعنی یعنی الزامی دلائل کی طرف، نجدیہ کہتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کو غوثِ اعظم کہنا شرک ہے۔
اب ہم نجدیہ کے گھر سے انکے جیّد اکابرین کی کتب سے حوالے پیش کرتے ہیں جس میں اُنہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کو ”غوث“ کے لفظ سے پکارا۔
*حوالہ_1*
وھابیہ دیابنہ کے مشترکہ بابے مولوی اسماعیل دھلوی نے نیاز و فاتحہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا کہ:
”حضرت عوث الاعظم رحمة اللہ علیہ کی نیاز“
[صراطِ مستقیم، صفحہ 181، 77، مطبوعہ ادارہ نشریاتِ اسلام اردو بازار لاھور]
میں نے فقط دو جگہ نشاندہی کی ہے ہےاس کتاب میں مزید کئ جگہ شیخ عبد القادر جیلانی علیہ علیہ الرحمہ کو غوثِ اعظم کہہ کر پکارا ہے۔
جی اگر اللہ کے علاوہ کسی ولی کو غوث الاعظم کہنا شرک ہے تو امام النجدیہ مولوی اسماعیل دھلوی کون ہوا ؟؟
*حوالہ_2*
وھابیہ کے محدث عبدالمنان وزیر آبادی کے شاگرد، مولوی عنایت اللہ اثری وزیرآبادی نے لکھا کہ؛
”حضرت غوث الاعظم رحمة اللہ علیہ نے حضرت علی بن محمد سے فرمایا....“
[عیونِ زم زم فی میلاد عیسیٰ ابنِ مریم، صفحہ 116، مطبوعہ مکتبة الاثریہ جناح سٹریٹ گجرات]
جی اگر اللہ کے علاوہ کسی ولی کو غوث الاعظم کہنا شرک ہے تو نجدی محقق عنایت اللہ اثری کون ہوا ؟؟
*حوالہ_3*
وھابی مذھب کا کامناظرِ اعظم مولوی ثناء اللہ امرتسری شعر نقل کرتا ہے کہ؛
"وہ بھی اسی در کا اِک گدا تھا"
"گو غوث و امام و مقتداء تھا"
[اھلحدیث کا مذھب، صفحہ101، دار دارالکتب السلفیة، شیش محل روڑ لاھور]
وھابی مناظر نے جو شعر نقل کیا اس میں واضح طور پر کہا جا رہا ہے کہ امتِ محمدیہ میں جو بھی آئمہ اور غوث ہوئے وہ سب نبی کریم ﷺ کے در کے فقیر تھے۔
جی اگر اللہ کے علاوہ کسی ولی کو غوث الاعظم کہنا شرک ہے تو بتاؤ وھابیہ کا مناظرِ اعظم ثناء اللہ امرتسری کون ہوا ؟؟
*حوالہ_4*
وھابیہ کا محدث وحیدالزماں حیدر آبادی لکھتا ہے؛
”واماالتسمیّة بغلام علي او غلام حسین او غلام محي الدین او غلام محمد او غلام غوث امثالھا فجآئز بلا کراھیة بنص الحدیث“
یعنی:
رہا غلام علی یا غلام حسین یا غلام محی الدین یا غلام محمد یا غلام *غوث* غیرہ نام رکھنا نصِ حدیث سے بلا کراہت جائز ہے ۔“
[ھدیة المہدی، الجزء الاول، صفحہ 37، در درمطبع میور پریس واقع شہر دھلی 1325ھ]
وھابی محدث اس بات پر دلائل دے رہا ہے کہ اولیاء کے کیساتھ عبد لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں اس نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا لقب ”غوث“ استعمال کر کے کہا کہ عبد الغوث نام رکھنا بھی جائز ہے۔
اگر اللہ کے کےعلاوہ کسی اور کو غوث کہنا شرک ہے تو نجدیہ کا محدث وحید الزماں حیدر آبادی کون ہوا؟
*حوالہ_5*
وھابیہ کے محدث گوندلوی کے شاگرد مولوی محمد قاسم خواجہ نے لکھا ؛
”غوث الثقلین عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ“
[معرکہ حق وباطل بجواب جآء الحق، صفحہ439، مطبوعہ مکتبة الحرمین ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ]
*حوالہ_6*
یہی مولوی اسی کتاب کے صفحہ نمبر 440 پر شیخ عبد القادر جیلانی کو لکھتا ہے ”غوثِ اعظم رحمة اللہ“
اگر اللہ کے کےسوا کسی کسی اور کو غوث کہنا شرک ہے تو وھابیہ کا محقق قاسم خواجہ کون ہوا ؟
*حوالہ_7*
آلِ نجد کا کامشترکہ بابا مولوی اسماعیل دھلوی لکھتا ہے ہے کہ؛
”جو شخص کسی امام یا مجتہد یا غوث یا قطب کی بات کو یا باپ دادا کی بات ،......کو رسول اللہ ﷺ کی بات سے مقدم سمجھے ایسی باتوں پر شرک ثابت ہوتا ہے“
[تقویة الایمان، صفحہ 71، مطبوعہ دار الکتب السلفیة، شیش محل روڑ لاھور]
یعنی اسماعیل دھلوی کہہ رہا ہے کہ جو مخلوق میں سے کسی امام یا ولی یاغوث کی کی بات حضور ﷺ سے بڑھ کر جانے وہ مشرک ہے۔
اس عبارت سے واضح ہوا کہ دھلوی نے مخلوق کیلئے غوث کا لفظ بولا۔
اب نجدیہ کا امام مولوی اسماعیل دھلوی کون ہوا ؟؟
*حوالہ_8*
دیوبندیہ کے رئیس المفسرین مولوی حسین علی نے لکھا:
” غوث الاعظم فرماتے ہیں“
[تفسیرِ بلغة الحیرن، صفحہ 4، مکتبہ اخوت اردو بازار لاھور]
اگر گیارھویں والے پیر کو غوث کہنا شرک ہے تو دیوبندیوں کے رئیس المفسرین اس عبارت کی تصدیق کر کے کون ہوئے؟
*حوالہ_9*
جمیع علمائے دیوبند کے پیرو مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب فرماتے ہیں؛
”گیارھویں حضرت غوثِ پاک قدس سرہ کی“
[کلیاتِ امدادیہ، صفحہ 82،74، مطبوعہ دار الاشاعت اردو بازار کراچی]
گیارھویں والے پیر کو علماء دیوبند کے کےمرشد، غوث پاک کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ کیا حکم لگے گا حاجی امداد امداداللہ صاحب پر؟؟
*حوالہ_10*
تھانوی کا سونح نگار مولوی عبد الرحمٰن دیوبندی لکھتا ہے؛
”غوث الاعظم عبد القادر جیلانی“
[سیرتِ اشرف، جلد 2، صفحہ 52، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ بیرون بوھڑ گیٹ ملتان]
شیخ عبد القادر جیلانی کو غوث اعظم کہنے والا مولوی عبد عبدالرحمٰن کون ہوا؟
*حوالہ_11*
اکابرینِ دیوبند کے پیر و مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب لکھتے ہیں؛
”غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ“
[ضیاء القلوب، صفحہ 158، مطبوعہ مکتبة العلم اردو بازار لاھور]
*حوالہ_12*
مولوی اشرف علی تھانوی اپنے ایک بزرگ کا نام لیتے ہوئے لکھتا ہے؛
”غوث العٰلمین رفیع الدین فاروقی عرف نماز شاہ“
[امداد المشتاق، حاشیہ، صفحہ10، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]
*حوالہ_13*
تھانوی اپنے پیر و مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتا ہے؛
”غوث الکاملین، غیاث الطالبین“
[امداد المشتاق، حاشیہ، صفحہ20، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]
*حوالہ_14*
اشرف علی تھانوی نے مزید لکھا؛
” ایک دن غوثِ الاعظم سات اولیاء کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ناگاہ نظرِ بصیرت سے ملاحظہ فرمایا کہ ایک (بحری) جہاز قریب غرق ہونے کے ہے۔ آپ نے ہمت و وباطنی توجہ سے اسکو غرق ہونے سے بچا لیا“
[امداد المشتاق، حاشیہ، صفحہ45، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]
ان حوالہ جات میں مولوی تھانوی نے نہ صرف غوث الاعظم لکھا بلکہ یہ بھی کہا کہ غوثِ اعظم رضی اللہ نے روحانی مدد سے بحری جہاز ڈوبنے سے بچا لیا۔
کیا فتویٰ لگے گا دیوبندی امام مولوی اشرف علی تھانوی پر؟
*حوالہ_15*
تھانوی نے مزید لکھا ؛
”غوث پاک نے " قدمي علي رقاب اولیاء اللہ " فرمایا ـ“
[امداد المشتاق، حاشیہ، صفحہ44، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]
*حوالہ_16*
تھانوی نے ایک اور جگہ لکھا کہ؛
” حضرت غوث الاعظم رحمة اللہ علیہ پر ایک اَبر (بادل) سایہ ڈالتا تھاـ“
[امداد المشتاق، حاشیہ، صفحہ77، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]
*حوالہ_17*
دیوبندی مفتی عاشق الٰہی میرٹھی بلند شہری نے لکھا؛
”غوث الاعظم رشید احمد گنگوھی“
[تذکرة الرشید، جلد1، صفحہ2، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، انار کلی لاھور]
مولوی عاشق الٰہی نے اپنے مولوی رشید احمد گنگوھی کو غوث اعظم کہا ہے۔ تو کہا فتویٰ لگے گا ؟؟
*حوالہ18*
مولوی خلیل احمد انبیٹھوی ، اپنے مولوی رشید احمد گنگوھی کے بارے ایک شعر کہتا ہے؛
"قطبِ عالَم، غوثِ دراں بے مثال"
"گنجِ عرفاں، نورِ ایقاں خوش خصال"
[تذکرة الخلیل، صفحہ72، ناشر مکتبة الشیخ بہادر آباد کراچی]
جی اگر اللہ کے علاوہ کسی کو غوث کہنا شرک ہے تو انبیٹھوی نے گنگوھی کو غوثِ دوراں کہا۔ کیا حکم لگے گا انبیٹھوی پر؟؟
*حوالہ_19*
دیوبندیوں کے مولوی یوسف لدھیانوی نے لکھا؛
”جن لوگوں نے غوثِ اعظم رحمة اللہ علیہ کی "غنیة الطالبین" اور آپ کے مواعظ شریفہ (فتوح الغیب) وغیرہ کا مطالعہ کیا ہےـ“
[اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم، صفحہ 197، مکتبہ لدھیانوی، اسلام کتب مارکیٹ بنوری ٹاؤن کراچی]
جی تو لدھیانوی نے گیارھویں والے پیر کو غوثِ اعظم کہا کیا حکم لگے گا؟
*حوالہ_20*
مولوی اشرف علی تھانوی لکھتا ہے کہ؛
”اس وقت مجھے غوثِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خوشی یاد آ گئ“
[ارواحِ ثلاثہ،صفحہ 87، حکایت:77، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاھور]
*حوالہ_21*
دیوبندی مولوی محمد قبال قریشی حاجی امداد اللہ صاحب کی بیان کردہ ایک کرامت نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
” غوثِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ “
[معارف امدادیہ، صفحہ81، مطبوعہ مکتبہ رشدیہ لمیٹڈ ٣٢ شاہ عالم مارکیٹ لاھور]
*حوالہ_22*
دار دارالعلوم دیوبند کا مدرس، مولوی ابو الحسن اعظمی دیوبندی، شیخ عبد عبدالقادر جیلانی کے دھوبی کے قبر میں پیش آنے والے واقعہ کی بابت لکھتا ہے کہ جب دھوبی سے فرشتوں نے قبر میں سوال کیئے تو ہر سوال کے جواب میں کہا کہ میں غوث اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ کا دھوبی ہوں۔ تو دھوبی کی نجات ہو گئ۔ (ملخصا)
[تھانوی کے پسندیدہ واقعات، صفحہ 42، مکتبة العلم اردو بازار لاھور]
اسکے علاوہ اسی کتاب کے صفحہ نمبر27, 77, 78, 79 پر بھی گیارھویں والے پیر کو غوث اعظم لکھا۔
*حوالہ_23*
مولوی حسین احمد ٹانڈوی صدر مدرس دار العلوم دیوبند نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کو لکھا؛ غوث الثقلین رحمة اللہ علیہ“ـ
[الشہاب الثاقب، صفحہ57، مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند ضلع سہارنپور ھند]
اگر اللہ کے علاوہ کسی اور کو غوث کہنا شرک ہے تو مولوی حسین احمد ٹانڈوی کون ہوا؟
*حوالہ_24*
وھابی مولوی کامران سوھدروی لکھتا ہے کہ؛
”انبیاء، اولیاء، صُلحاء، *اغیاث* .... دوسرے بزرگوں کو وحی و الہام کے ذریعے یا یااشارہ شارہاستعارہ کے طور پر (کچھ طبی نسخوں کی چیزیں ) بتائی گئ ہیں۔“
[حیات مولانا عبد المجید سوھدروی، صفحہ161، مطبوعہ دار السلام سوھدرہ ، وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ]
اس عبارت میں وھابی مولوی نے اولیاء و صُلحاء کا تذکرہ کرتے ہوئے اولیاء کی قسم اغیاث(جو کہ غوث کی جمع ہے) کا لفظ بھی اللہ کے علاوہ اولیاء پر بولا۔
اگر یہ شرک ہے وھابی مولوی مشرک ہوا کہ نہیں؟
*حوالہ_25*
دیوبندیوں کے شیخ الہند مولوی محمود الحسن گنگوھی ، نے مولوی رشید احمد گنگوھی کے مرنے کے بعد مرثیہ لکھا جس میں وہ رشید گنگوھی کے بارے لکھتا ہے:
"جنید و شبلی و ثانی ابو مسعود انصاری"
"رشید ملت و دین غوثِ اعظم قطبِ ربانی"
[مرثیہ گنگوھی، صفحہ 5، مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند ھند]
جب ہم سنی اپنے شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کو غوثِ اعظم کہتے ہیں تو نجدیہ کو شرک کا درد شروع ہو جاتا ہے اور خود مولوی ثناء اللہ امرتسری کا استاد گنگوھی کو غوثِ اعظم کہہ کر پکار رہا ہے۔
کیا اب مولوی محمود الحسن گنگوھی پر شرک کا حکم لگے گا؟؟
*حوالہ_26*
دیوبندیوں کا مجدد مولوی اشرف علی تھانوی کہتا ہے کہ؛
” ایک مرتبہ غوثِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مرغی کا گوشت کھایا اور کھانے کے بعد ھڈیاں جمع کر کے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا "قُم باِذن اللہ" تو مرغی دوبارہ زندہ ہو گئ۔“
[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد1، صفحہ240،241، مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]
اسکے علاوہ اسی کتاب میں متعدد بار غوث اعظم لکھا۔
بلکہ اس کتاب کی جلد2 صفحہ 100پر غوث اعظم کے دھوبی کا واوقعہ تھانوی کے حوالے حوالےسے نقل کیا۔
اس عبارت میں تھانوی نے نہ صرف شیخ عبد القادر جیلانی کو غوثِ اعظم کہا بلکہ انکے مردہ زندہ کرنے کی کرامت بھی مان لی۔ یہی بات اگر کوئی سنی کر دے تو مجرم اگر دیوبندیہ کے مولوی کریں تو بَری؟
الحمدللہ رضوی فقیر نے اپنے مرشد کے یوم ولادت کی نسبت سے فقط 26 حوالہ جات آلِ نجد کی کتب سے پیش کیئے ہیں اور بہت سے حوالہ جات مزید باقی ہیں۔ تحریر پہلے ہی ہہت طویل ہو گئ ہے نجدیہ اسی کا جواب دے دیں تو بڑی بڑی بات ہے۔ لیکن ان شاءاللہ قیامت تک نہیں دے سکیں گے۔
ہم اب بھی کہتے ہیں کہ اللہ حقیقی غوث ہے لہذا اللہ کی عطاء سے اللہ کے ولی کو غوث ماننا کوئی شرک وکفر نہیں ہے۔ اگر اب بھی کہو گے کہ اللہ کے کےعلاوہ شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کو غوثِ اعظم کہنا شرک ہے۔ تو تمہارا بہت سے مذکور مذکور ناموَر اجداد شرک کے فتوے میں رگڑے جائیں گے۔ بلکہ عافیت اسی میں ہے کہ اس نظریہ کو شرک کہنا چھوڑ دو۔
ہم تو یہی کہیں گے کہ
؎ خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے ہےسہارا غوثِ اعظم کا
مدینے پاک کا بھکاری
محمداویس رضاعطاری
تحریر 2018
