ہندوؤں کی جانب سے کیے جانے والے ایک اعتراض کا جواب
اعتراض :- خدا کو آزمائش کرنے کی اور امتحان کی کیا ضرورت ہے ہندوؤں کی کتابوں میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا تعالی نے حالانکہ آزمائش کی اور امتحان لیا
(چوبے بدری داس کا اعتراض)
(الجواب) :- ہندوؤں کے اس اعتراض کا رد کرنے کے لیے چند اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں
1. **انسان کی آزمائش کی حکمت**
اسلام میں آزمائش اور امتحان کا مقصد انسان کی نیت، صبر، اور ایمان کی مضبوطی کو پرکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
> "کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ صرف یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ 'ہم ایمان لائے' اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟" (سورہ العنکبوت: 2)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں اس لیے آتی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون لوگ ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں اور کون لوگ مشکلات کے وقت ہمت ہار جاتے ہیں۔ آزمائش ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے نیک لوگوں کی فضیلت اور خلوص کو اجاگر کیا جاتا ہے، جبکہ منافقین کے چہرے بے نقاب ہوتے ہیں۔
آزمائش میں ثابت قدمی انسان کے ایمان کو مضبوط اور خالص بناتی ہے اور اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔
2. **انسان کی تخلیق اور مقصدِ زندگی**
اسلام کے مطابق، انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
> "اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔" (سورہ الذاریات: 56)
آزمائشیں اور امتحانات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ دنیا عارضی ہے اور اس کی زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ مشکلات اور آزمائشیں انسان کے دل کو اللہ کی طرف مائل کرتی ہیں اور اسے اس کی اصل ذمہ داری یعنی اللہ کی عبادت اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی یاد دہانی کرواتی ہیں۔ یہ آزمائشیں دراصل ایک موقع فراہم کرتی ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے سنجیدگی اختیار کرے۔
3. **امتحان کی نوعیت اور اس کا فلسفہ**
اسلام دنیا کو دارالامتحان (آزمائش کی جگہ) اور آخرت کو دارالجزاء (بدلے کی جگہ) مانتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ دنیا میں انسان کے اعمال کا امتحان لیا جائے گا اور اس کی جزا یا سزا آخرت میں دی جائے گی۔ اس سے دنیا کی مشکلات اور آزمائشوں کا ایک مثبت اور معقول تصور پیش ہوتا ہے۔
آزمائشوں کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اللہ کی طرف پلٹنے، دعا کرنے، اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ مشکلات انسان کو اپنی زندگی میں بہتری لانے اور اللہ کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، آزمائشیں انسان کے کردار کو نکھارتی ہیں اور اسے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی تربیت دیتی ہیں۔
4. **انسان کی آزادی اور اختیار**
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم نعمت یعنی اختیار اور عقل عطا کی ہے۔ اس اختیار کے ذریعے انسان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکے اور اپنے اعمال کا فیصلہ کر سکے۔ آزمائشیں دراصل یہ جانچنے کے لیے ہیں کہ انسان اپنی عقل اور اختیار کو کیسے استعمال کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امتحان کی جگہ بنایا تاکہ انسان اپنے اعمال کے نتائج کو جان سکے اور صحیح راستے کا انتخاب کر سکے۔ یہ اختیار اور آزادی انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے اور اسے اپنے اعمال کی ذمہ داری سونپتی ہے۔ جب انسان مشکلات میں صبر کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اپنے اختیار کو صحیح طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔
5. **مذاہب کا فرق**
اگرچہ ہندو مذہب میں آزمائش کا تصور نہ ہو، اسلام کا ایک منفرد اور واضح فلسفہ ہے جو اس کی تعلیمات کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتا ہے۔ ہر مذہب کے اپنے اصول اور نظریات ہوتے ہیں، اور یہ بات ضروری نہیں کہ ہر مذہب میں ایک ہی طرح کے عقائد موجود ہوں۔
اسلام میں آزمائش کا تصور ایک اہم اور مضبوط حقیقت ہے، جو انسان کے اخلاق و کردار کی تعمیر کے لیے ہے۔ اگر ہندو مذہب میں یہ تصور نہیں ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے عقائد غلط ہیں؛ بلکہ یہ اسلام کی اپنی انفرادیت اور حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام میں آزمائش ایک تربیتی عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی زندگی میں اس کی اصلاح، ایمان کی مضبوطی، اور اس کی آخرت کی کامیابی کے لیے ہوتا ہے۔
✍️ از ................. جاوید رضا خان
