تقویۃ الایمان منحوس کتاب ہے جس نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا

1



یوٹوب پر ابھی چند منٹ پہلے رشید گنگوہی اور قاسم نانوتوی کے قائم کردہ ” دیوبندی دین “ کے ایک نام نہاد یوٹوبر امتیاز پلاموی دیوبندی جو اپنے نام کے ساتھ ” مفتی “ کا ٹائٹل بھی خود ہی لگاتا ہے لیکن ان کی اصلیت یہ ہے کہ یہ دیوبندی اول درجے کے جاہل ہیں۔ ان کو اپنے گھر کی نہ تو کتابوں کا علم ہے نہ ان کو اپنے اکابر اور علماء کی تحریر و تقریر کی خبر۔ یہ دیوبندی سوشل میڈیا پر بس امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اور علماء و عوام اہلسنت کے خلاف بکواسات کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان کی ایک ایک جہالت و حماقت کا ایسا دندان شکن جواب ہمارے ” رد باطل ری ایکشن “ یوٹوب چینل دیا جاتا رہا ہے کہ کوئی غیرت مند انسان ہوتا تو مارے غیرت کے چلّو بھر پانی میں ڈوب مرتا۔ مگر 

وہ دیوبندی ہی کیا، جو بے غیرت نہ ہو 

انہی کے یوٹوب چینل کے Post Section میں ایک چند سطری تحریر ” حسام الحرمین “ کی تصویر کے ساتھ دیکھی۔ جس میں حسب فطرت امتیاز پلاموی نے محض اپنی جہالت و تعصب کا اظہار کیا ہے۔ اور ” حسام الحرمین “ کو ” تمام فتنوں کی جڑ، جھوٹ نامہ اور بدنامِ زمانہ کتاب لکھا ہے۔

کیا یومِ ولادت کو عید کہنا تحریف فی الدین ہے؟
کیا شیخ عبد القادر جیلانی کو غوثِ اعظم کہنا شرک ہے؟
ایودھیا کی 21 مسجدوں کے نام پر چندہ کرتے مظاہری دیوبندی پکڑا گیا

امتیاز پلاموی دیوبندی کی پوسٹ کا اسکرین شاٹ 


جواب میں عرض ہے کہ امتیاز پلاموی دیوبندی! تمام فتنوں کی جڑ ” حسام الحرمین “ کو بتانا یہ آپ کے اندھے پن کی واضح دلیل ہے کیونکہ آپ کے ” دیوبندی دین “ کے عقیدے کی دو کتابیں ” تقویۃ الایمان “ اور ” المہند “ دنیا کی سب سے فتنہ انگیز کتابیں ہیں۔ جس نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر انہیں دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا ۔ اول الذکر کتاب کے متعلق تو خود کتاب لکھنے والے نے بتا دیا کہ

میں نے یہ کتاب (تقویۃ الایمان) لکھی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ بھی آگئے ہیں اور بعض جگہ تشدد بھی ہو گیا ہے “ 

  (ارواح ثلاثہ، حکایت نمبر ٥٩، ص ٦٧ )

اور ان تیز الفاظ اور تشدد کی وجہ سے جو ہوگا اس کا اندازہ بھی ان کو تھا۔ جس کا اظہار ان لفظوں میں کہا کہ: 

ان وجوہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ضرور ہوگی “ 

  (ارواح ثلاثہ، حکایت نمبر ٥٩، ص ٦٧ )

یقین دیکھیں قارئین! کہتے ہیں کہ ” شورش ضرور ہوگی “ لیکن پھر اپنے آپ کو اور اپنے حواریوں کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں: 

گو اس سے شورش ہوگی مگر توقع ہے کہ لڑ بھڑ کر خود ٹھیک ہو جائیں گے “ 

  (ارواح ثلاثہ، حکایت نمبر ٥٩، ص ٦٧ )

انور کشمیری صاحب کہتے ہیں: 

میں تقویۃ الایمان سے زیادہ راضی نہیں ہوں  

(ملفوظات محدث کشمیری، ص ١٧٨ ) 

جامع ملفوظ احمد رضا بجنوری دیوبندی آگے لکھتے ہیں: 

پھر حضرت(انور کشمیری) نے فرمایا کہ میں اس لیے راضی نہیں ہوں کہ محض ان عبارات کی وجہ سے بہت سے جھگڑے ہو گئے ہیں “ 

(ملفوظات محدث کشمیری، ص ١٧٨ ) 

یہ گھر کی شہادت ہے کہ تقویۃ الایمان کی عبارات کی وجہ سے( جسے اسمعیل قتیل نے تیز الفاظ و تشدد سے تعبیر کیا ہے ) بہت سے جھگڑے ہو گئے ہیں۔ اور جھگڑے کا سلسلہ محض جھگڑے تک محدود نہیں رہا بلکہ معاملہ اس قدر بگڑا کہ ایک ہی مسلک کے لوگ اسی کتاب کی وجہ سے دو گروہ میں تقسیم ہو گئے۔ چنانچہ انور کشمیری کی کتاب میں ہے : 

اس کتاب کی وجہ سے مسلمان ہندو پاک جن کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہے اور تقریبا ً نوے فیصدی حنفی المسلک ہیں وہ دو گروہ میں بٹ گئے ایسے اختلافات کی نظیر وبنائے اسلام کے کسی خطہ میں بھی ایک امام اور ایک مسلک کے ماننے والوں میں موجود نہیں ہے۔“ (انوار الباری، جلد ١٣ ، ص ٣٩٢ ، حاشیہ )

نیز دیوبندیوں کے عقیدے کی دوسری کتاب ” المہند علی المفند “ بھی فتنہ انگیزی میں ” تقویۃ الایمان “ سے کم نہیں ہے۔ اس نے تو دیوبندیوں ہی کو آپس میں لڑوا کر دو حصوں میں بانٹنے کا کام کیا ہے۔ یہ ” حیاتی دیوبندی اور مماتی دیوبندی “ کیا ہے؟ المہند ہی کی تو پیداوار ہے۔ 

محترم قارئین! اس تعلق سے راقم الحروف کے اس رسالہ 👇 کا مطالعہ کافی مفید رہے گا لنک پر کلک کرکے ابھی ڈاؤنلوڈ کریں ۔ 

 علماء دیوبند وہابیہ کی فتنہ خیز دو کتابیں 

لہذا امتیاز پلاموی دیوبندی اور اس جیسے تمام دیوبندیوں کو چاہیے کہ ” اندھے نجدی “ نہ بنیں اور اپنے گھر کی فتنہ انگیز کتابوں کے متعلق بھی لب کشائی کریں۔ ” حسام الحرمین “ میں آپ کے طواغیت اربعہ کی کفریات کی بنا پر علماء حرمین شریفین نے جو تکفیر ان چاروں کی کی ہے وہ ان چاروں کی اپنی کمائی ہے۔ ایسے میں ” حسام الحرمین “ کو موردِ الزام ٹھہرانا آپ دیوبندیوں کی جہالت و بدعقلی ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے مجرم کو سزا سنانے پر دیوبندی مجرم کے بجائے جج ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دے کہ تمام فتنوں کی جڑ یہ جج ہے کہ نہ یہ فیصلہ سناتے اور نہ ہی یہ ہنگامہ ہوتا۔ تو اس پر دنیا کیا کہے گی؟ یہی نا؟ کہ مجرم کے بجائے جج کو یا ان کے فیصلے کو غلط کہنے والے عقل سے پیدل اور حقیقت سے آنکھیں چرانے والا ہے۔ المختصر یہ کہ 

عقل مند را اشارہ کافی است 


Post a Comment

1Comments
Post a Comment