تبلیغی جماعت کس کی تبلیغ کرتی ہے، اسلام کی یا دیوبندیت کی؟

1


تبلیغی جماعت جس کی بارے میں دیوبندیوں کو آپ نے یہ کہتے سنا ہوگا کہ یہ جماعت مسلمانوں کو روزہ نماز کی طرف لاتی ہے کلمہ کی دعوت دیتی ہے اور ہم لوگ دین کی تبلیغ کرتے ہیں۔ مگر کیا یہ سچ ہے؟ اس بات کی تحقیق کے لیے علماء دیوبند کی کتابیں دیکھیں تو یہ انکشاف ہوگا کہ تبلیغی جماعت دراصل دینِ اسلام کی نہیں، بلکہ دینِ دیوبندیت کی تبلیغ کرتی ہے۔ 

قارئین ! ممکن ہے دیوبندیت سے ناواقف حضرات یہ سمجھیں کہ ” دیوبندیت “ کوئی دین نہیں بلکہ ایک مکتبہ فکر ہے یا ایک گروہ یا فرقہ ہے۔ ایسا سوچنے والوں سے عرض یہ ہے کہ” دیوبندیت “ واقعی دینِ اسلام سے جدا باضابطہ ایک ” دین “ ہے اس پر ثبوت کے لیے دیوبندیوں کے ایک بڑے اور معتمد و معتبر مولوی اور شیخ الحدیث جن کا نام زکریا کاندھلوی ہے، یہ کہتے ہیں  

ہمارے اکابر حضرت گنگوہی و حضرت نانوتوی نے جو ” دین “ قائم کیا تھا اس کو مضبوطی سے تھام لو ، اب قاسم و رشید پیدا ہونے سے رہے بس ان کی اتباع میں لگ جاؤ “  (صحبتِ بااولیاء، ص ١٢٥) 

اس حوالے سے صاف ہو گیا کہ رشید گنگوہی گنگوہی اور قاسم نانوتوی نے مل کرایک ” دین “ قائم کیا تھا۔ اور اسی دین کا نام ” دینِ دیوبندیت “ ہے۔تبلیغی جماعت اسی دین کی تبلیغ و ترویج کا کام کرتی ہے مگر روزہ نماز اور کملہ کی آڑ میں، جسے ہمارے اکابر علماء کرام نے شروع میں سمجھ لیا تھا اور سنیوں کو اس سے دور رہنے کی تاکید کی تھی۔ مگر بعض سنی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ صرف ظاہری چیزوں کو دیکھ کر مائل ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ 

کیا کوئی فراڈ کرنے والا یہ بتائے گا کہ میں فراڈ کر رہا ہوں؟

کیا کوئی چور یہ بتائے گا کہ میں چوری کرنے نکلا ہوں؟ 

کیا کوئی بتائے گا کہ میں ڈاکو ہوں اور ڈاکہ ڈالنے والا ہوں ؟ 

نہیں، ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسے لوگوں کو ان کی حرکتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح دیوبندی یہ کبھی نہیں قبول کریں گے کہ ہماری یہ تبلیغی جماعت ” دین، “ کے نام پر دینِ اسلام کی نہیں بلکہ ” دینِ دیوبندیت “ کی تبلیغ کرتی ہے۔ لیکن ان کی حرکتوں سے آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں، اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ لوگ تبلیغ کا کی کرتے ہیں، اس دین کی جو حضور ﷺ کے کر آئے یا اس دین کی جسے رشید گنگوہی اور قاسم نانوتوی نے قائم کیا ہے۔

ایک دیوبندی عالم ابو الفضل عبدالرحمن اپنے ایک تحقیقی مقالہ جسے کتابی شکل میں بنام ” انکشافِ حقیقت “ شائع کیا گیا ہے، اس میں لکھتے ہیں: 

تبلیغی جماعت کے ذمہ دار حضرات اپنی زیر انتظام مساجد میں درس قرآن کا اہتمام نہیں کرتے اور جن مساجد میں انکا کچھ اثر و رسوخ ہوتا ہے وہاں بھی درس قرآن کی مخالفت کرتے ہیں۔ دو مساجد میں تو خود بندہ کو مخالفت کا سامنا ہوا اور بالآخر دونوں مساجد میں درس قرآن بند کرانے میں کامیاب رہے ۔ احقر عرصہ دراز تک سوچتا رہا کہ ایک دین کی داعی جماعت اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکموں میں کامیابی کا دعوی کرنے والی جماعت آخر قرآن کریم کے درس کی کیوں مخالفت کرتی ہے وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ غور و غوض کرتے کرتے بلا آخر مخالفت کا سبب معلوم ہو گیا اور بات بالکل عیاں ہو گئی۔ “ (انکشافِ حقیقت، صفحہ45)

پھر اس کے بعد تبلیغی جماعت جو درس قرآن کی مخالفت کرتی ہے اس کا سبب بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر لکھتے ہیں 

جب سادہ لوح تبلیغی کارکن ان آیات کریمہ کا ترجمہ اور تفسیر کسی عالم ربانی سے سے گا تو یہ بناوٹی اور نقلی جہاد فی سبیل اللہ کی حقیقت واضح ہونے پر ان کا بھرم کھل جائے گا تو اس کے تدارک اور پیش بندی کے طور پر درس قرآن کا سلسلہ ختم کرنا اپنے پروگرام میں شامل کر لیا تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری

 (انکشافِ حقیقت، صفحہ46)

اب قارئین کرام! آپ خود غور فرمائیں کہ دیوبندی لوگ تبلیغی جماعت کے متعلق جیسا دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ” دین “ کی تبلیغ کرتی ہے اگر اس میں ذرہ برابر بھی صداقت ہوتی تو مسجدوں میں ہونے والے درس قرآن کی مخالفت کر کے اسے بند کیوں کرواتی؟ ظاہر ہے کہ قرآن مجید سے تو اسلام اور تعلیماتِ اسلام کی ترویج و اشاعت ہوگی اور ہوتی ہے لیکن تبلیغی جماعت کو تو دیوبندیت کی تبلیغ اور ترویج کرنی ہے اس لیے درس قرآن بند کرکے ” فضائل اعمال “ یا ” منتخب احادیث “ پڑھنے پڑھانے پر بضد کیوں ہوتے؟ بلکہ لڑائی جھگڑے کیوں کرتے؟

دیوبندی تبلیغی جماعت کی آپسی لڑائی جھگڑے اور تعلق سے معلومات کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 

تبلیغی جماعت کی آپسی لڑائی جھگڑے کے مناظر 

محترم قارئین! مضمون پر اپنی رائے چاہیں تو کمینٹ باکس میں لکھ کر سینڈ کر سکتے ہیں۔ 

┄┅─•════════•─┅┄

Post a Comment

1Comments
Post a Comment