عید میلاد النبی ﷺ پر دیوبندی اپنی تحریروں اور اصولوں سے بدعتی اور جہنمی ہیں

0

 أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ أما بعد !

علمائے دیوبند اپنے اصولوں و تحریروں کے مطابق’’ میلاد النبی ﷺ پر ایصال ثواب کے لئے کھانا کھلانے کا عمل‘‘ کرکے بدعتی و جہنمی ہوئے۔ 

حضرات گرامی ! یہاں ایک اور موضوع آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ عام طور پر دیوبندی حضرات میلاد شریف کے ہر کام کو بدعت ضلالہ کہتے نظر آتے ہیں لیکن علماء دیوبند نے یہ تسلیم کیا ہے کہ میلاد شریف کے موقع پر کھانے پکا کر کھلانا اور ایصال ثواب کرنا درست ہے ۔سبحان اللہ ! جب دیابنہ کی اپنی بات آئے تو پھر دیوبندیوں کو نہ قرآن پاک کی کسی آیت سے ثبوت درکار ہوتا ہے نہ نبی کریم ﷺ کی کسی حدیث کی انہیں حاجت ہوتی ہے نہ صحابہ کرام علہیم الرضوان اجمعین کے عمل کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔اب ہم دیابنہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جناب والا میلاد شریف پر ایصال ثواب کے لئے کھانا کھلانے ،تقسیم کرنے پر اپنے ہی اصولوں کے مطابق قرآن پاک کی کوئی ایک آیت پیش کر دیں یا رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایک حدیث پیش کر دیں یا بتائیں کہ صحابہ کرام علہیم الرضوان اجمعین سے تمہارا یہ عمل ثابت ہے ؟اگر نہیں تو تم اور تمہارے سارے اکابرین اپنے ہی اصولوں سے بدعتی ،گمراہ اور جہنمی ہو۔

آئیے پہلے آپ چند حوالے ملاحظہ فرمائیں اور اس کے بعد اس پر تبصرہ پڑھیں ۔

میلاد کے موقع پر  کھانا پکا کر تقسیم کرناعلماء دیوبند کا حوالہ اور اس پر تبصرہ

(1)……شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جن کو علماء دیوبند اپنا بزرگ مانتے ہیں یہی شاہ صاحب اپنے فتاوٰی میں لکھتے ہیں کہ  

’’وبرکۃ ربیع الأول بمولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیہ ابتداء وبنشر برکاتہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی الأمۃ حسب ما یبلغ علیہ من ہدایا الصلٰوۃ والإطعامات معا ۔

(ترجمہ) اور ماہِ ربیع الاول کی برکت حضور نبی اکرم ﷺ کی میلاد شریف کی وجہ سے ہے۔ جتنا اُمت کی طرف سے آپ ﷺکی بارگاہ میں ہدیۂ درود و سلام اور طعاموں کا نذرانہ پیش کیا جائے اُتنا ہی آپ ﷺ کی برکتوں کا اُن پر نزول ہوتا ہے 

(فتاویٰ عزیزی فارسی :ج 1ص 163)

ممکن ہے کہ دیوبندی حضرات فتاوی عزیزی کی عبارت کو الحاقی کہہ کر جان چھڑائیں ،تو اس کی تائید کے لئے ہم شاہ عبد الرحیم دہلوی اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علہیم اجمین کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔

(2) …حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنے والد گرامی ( حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی علیہم الرّحمہ:1054۔ 1131ھ) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

اخبر نی  سیدی والدی قال کنت أصنع فی أیام المولد طعاماً صلۃ بالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فلم یفتح لی سنۃ من السنین شیء أصنع بہ طعاماً، فلم أجد إلا حمصًا مقلیا فقسمتہ بین الناس، فرأیتہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وبین یدیہ ہذا الحمص متبہجاً بشاشا ‘‘

(اس کا ترجمہ خود دیوبندیوں نے یہ کیا )’’مجھے میرے والد بزرگوار نے خبردی کہ میں ایام مولود میں کھانا پکواتا تھا ،حضور اکرم  ﷺ کو ثواب  پہنچانے کی نیت سے تو ایسا ہوا ایک سال میرے پاس کچھ نہ تھا میں کھانا پکواتا بجز بھونے چنوں کے ،میں نے اسی کو لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں ہشاش بشاش دیکھا اور چنے آپ کے سامنے رکھے تھے ۔(تالیفات رشیدیہ حاشیہ : ص۱۳۰،الدر الثمین فی مبشرات النبی الأمین ﷺ 40)

یہاں یہ واضح ہے کہ یہ کھانے خاص ایام مولود کے موقع پر پکائے جاتے اور اس کا مقصد نہ صرف ایصال ثواب ہوتا بلکہ حصول برکت کے لئے پکائے جاتے ۔

(3) …علماء دیوبند کے رشید احمد گنگوہی صاحب سے یہی ’’ الدر الثمین فی مبشرات النبی الامی ‘ ‘ والی عبارت لکھ کر پوچھا گیا تو رشید احمد گنگوہی نے فتاوی رشدیہ ،تالیفات رشیدیہ میں کہتے ہیں کہ

’’ایصال ثواب ہر روز درست اور موجب ِ ثواب ہے کوئی تاریخ و وقت شرع سے موقت نہیں روز ولادت اور روز وفات بھی درست ہے پس اگر کسی دن کو ضروری نہ جانے بلکہ مثل دیگر ایام کے جانے ایصال ثواب میں اور عوام کو بھی اس طرح ایصال ثواب میں ضر ر نہ ہو تو کچھ حرج نہیں سب کے نزدیک درست ہے ،پس شاہ عبد الرحیم صاحب کا یہ فعل ایسا ہی تھا تو اس سے کوئی حجت نہیں لا سکتا اپنے بدعت زمانہ پراور پھر وہ طعام ایصال ثواب کا تھا کہ صلۃ بالنبی کا لفظ موجود ہے …‘‘

(فتاوی رشدیہ : ۱۳۶، تالیفات رشیدیہ: ص ۱۳۰)

قارئین کرام دیکھئے شاہ عبد الرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے میں 

’’کنت أصنع فی أیام المولد طعاماً صلۃ بالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘

جس کا ترجمہ بھی خود علماء دیوبند نے یہ کیا کہ’’ میں ایام مولود میں کھانا پکواتا تھا ،حضور اکرم ﷺ کو ثواب پہنچانے کی نیت سے‘‘

تو یہ عبارت بالکل واضح ہے کہ حضرت شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ ایام مولود (ولادت کے دنوں،یعنی ربیع الاول میں)نبی پاکﷺ  کے ایصال ثواب کے لئے کھانا پکواتے اور لوگوں میں تقسیم کرتے ۔ علماء دیوبند کے امام رشید احمد گنگوہی نے اس عبارت کے بارے میں یہ اقرار کیا کہ ایام مولود میں پکائے جانے والا ’’ وہ طعام ایصال ثواب کا تھا ‘‘اور یہ فتوی بھی دیا کہ اس ایام میلاد کے دنوں میں ایسا کھانا پکا کر نبی پاکﷺ کو ایصال ثواب کرنے میں ’’کچھ حر ج نہیں‘‘ اس عمل کو سب کے نزدیک درست قرار دیا۔


 علماء دیوبند  اپنے پہلے اصول سے بدعتی  و جہنمی

قارئین کرام ! آپ نے اوپر شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ،شاہ عبد الرحیم ؒ،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اور سب سے بڑھ کر رشید احمد گنگوہی کا فتویٰ ملاحظہ فرمایا جس میں میلاد شریف کی نسبت سے کھانا پکا کر نبی پاکﷺ کو ایصال ثواب کرنے کو درست (جائز)کہا گیا ہے ۔اب آئیے دیکھئے کہ یہ حضرات بلخصوص دیوبندی امام رشید احمد گنگوہی خود دیوبندیوں کے اصول و ضوابط کے مطابق بدعتی قرار پاتے ہیں ۔

چنانچہ علماء دیوبند کے امام سرفراز صفدر دیوبندی لکھتے ہیں کہ 

’’دیکھنا یہ ہے کہ کیا ربیع الاؤل کی بارہویں تاریخ کو مقرر کر کے اس میں میلاد منانا،محفل اور مجلس منعقد کرنا ،جلوس نکالانا یا اسی دن کو مخصوص کر کے فقرا ء اور مساکین کو کھانا کھلانا ،وغیرہ آنحضرت ﷺ  اور حضرات صحابہ کرام ؓ اور اہل خیر القرون سے ثابت ہے؟اگر ثابت ہے تو کسی مسلمان کو اس میں پس و پیش کرنے کا ہرگز حق حاصل نہیں کیونکہ جو کچھ انہوں نے فعلاََ یا ترکاََ کیا ،وہی دین ہے اور اس کی مخالفت بے دینی ‘‘(راہ سنت: ص ۱۶۰)

تو اب ہم اسی دیوبندی اصول کے مطابق مخالفین سے کہتے ہیں کہ وہ خیر القرون سے یہ ثابت کریں کہ ایام میلاد میں کھانا پکا کر نبی پاکﷺ  کو ایصال ثواب کیا گیا تھا۔

چلیں ایام میلاد کو بھی چھوڑیں یہی ثابت کر دیں کہ خیر القرون میں خاص میلاد شریف کی نسبت سے کھانا پکا کر لوگوں میں تقسیم کر کے نبی پاک ﷺ کو ایصال ثواب کیا گیا ہو۔اگر تو  دیابندی حضرات یہ ثابت کر دیں تو ان کے امام رشید احمد گنگوہی(اور شاہ عبد الرحیم ،شاہ ولی اللہ ،شاہ عبد العزیز) ان فتوؤں سے بچ جائیں گے اور اگر نہ ثابت کر سکیں تو

 دیابنہ کے انہی فتوؤں سے رشید احمد گنگوہی (اور شاہ عبد الرحیم ،شاہ ولی اللہ ،شاہ عبد العزیز)سب بدعتی ،جہنمی اور حرام کے مرتکب ،دین کے مخالف اور بے دین قرار پائیں گے۔


 علماء دیوبند   اپنے دوسرے اصول سے بدعتی  و جہنمی

یہاں پر تو علماء دیوبند نے ’’کھانا پکا کر نبی پاک ﷺکو ایصال ثواب کرنے ‘‘کو درست (جائز)قرار دیا،اوراس عمل کو قبول کیا لیکن دوسری طرف خود ہی یہ اصول بیان کیا کہ جو کام نبی پاک ﷺ سے ثابت نہیں وہ حرام ہے ۔چنانچہ ایک روایت بیان کرنے کے بعد علماء دیوبند کے امام سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’حضرت علی ؓنے اس منع کی دلیل صرف یہ پیش کی ہے کہ اور میں بالیقین جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کسی فعل پر ثواب نہ دیگا جب تک آنحضرت ﷺ نے اس کو نہ کیا ہو یا اس کی ترغیب نہ دی ہو ۔(راہ سنت : ص ۱۴۰)

’’جب آپ[ ﷺ] نے نہ خود کیا نہ کسی کو ترغیب دی ،تو معلوم ہو ا کہ اس میں کوئی بھلائی نہیں ،بلکہ وہ بدعت ِ قبیحہ سئیہ ہے‘‘(راہ سنت : ص ۶۷)

’’آنحضرت ﷺ نے اگر کسی کام کو نہیں کیا اور کرنے کی ترغیب بھی نہیں دی تو وہ کام بدعت قبیحہ اور بدعتِ سئیہ ہو گی ‘‘(راہ سنت: ۶۷) 

تو جب علماء دیوبند کہ نزدیک یہی حق ہے تو پھر اسی دیوبندی اصول سے خودشاہ عبد الرحیم ،شاہ عبد العزیز اور دیوبندی امام رشید احمد گنگوہی بدعتی و جہنمی قرار پائے کیونکہ انہوں نے ایک ایسا عمل کیا اور ایک ایسے عمل کو درست و جائز کہا جس کو نبی پاک ﷺ نے نہیں کیا اور نہ اس کی ترغیب دی ۔


 علماء دیوبند   اپنے تیسرے اصول سے بدعتی  و جہنمی

دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں کہ

’’ جو کچھ انہوں (نبی پاک ﷺ،صحابہ ،اہل خیر القرون) نے فعلاً یا ترکاً کیا وہی دین ہے اور اس کی مخالفت بے دینی ‘‘(راہ سنت :باب ہفتم ص ۱۶۰)

   یہی سرفراز صفدر دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’دین صرف وہی ہے جو ان حضرات(خیرالقرون) سے ثابت ہوا ہے‘‘

(درود شریف پڑھنے کا شرعی طریقہ :ص۶)

تو معلوم ہوا کہ علماء دیوبند کے مطابق دین صرف وہی ہے جو کہ خیر القرون سے ثابت ہے اب اس کے بعد جو کوئی بھی ایسا عمل کرے گا جو خیر القرون سے ثابت نہیں تو وہ بے دینی ہے ،دین کی مخالفت ہے ،بدعت و حرام ہے ۔تو اب ہم علماء دیابنہ سے کہتے ہیں کہ اپنے اسی اصول کے مطابق خیر القرون سے یہ ثابت کریں کہ ایام میلاد میں کھانا پکا کر ایصال ثواب نبی پاکﷺ کو کیا گیا ہو ،اگر دیوبندی علماء یہ ثابت کر دیں تو پھر ان کے اکابرین بلخصوص رشید احمد گنگوہی بدعت ،بے دینی اور حرام کے مرتکب نہیں ہوئے لیکن اگر دیابنہ خیر القرون سے یہ عمل ثابت نہ کر سکیں تو پھر دیابنہ کے اپنے ہی اصول سے نہ صرف رشید احمد گنگوہی بلکہ شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ ،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان فتوؤں کی زد میں آئیں گے۔ 


 علماء دیوبند   اپنے چوتھے اصول سے بدعتی  و جہنمی

یہی دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’یہ یاد رہے کہ جس طرح کسی ثابت شدہ چیز کا کرنا اپنے مقام پر سنت ہے اسی طر ح غیر ثابت شدہ چیز کا ترک اور نہ کرنا بھی اپنی جگہ اور اپنے محل میں سنت ہے ‘‘

(درود شریف پڑھنے کا شرعی طریقہ :ص۵۳)

دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں 

’’ان تمام عبارات سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ باوجود محرک اور سبب کے آنحضرت ﷺ کا کسی کام کو نہ کرنا ایسا ہی سنت ہے جیسا کہ آپ ﷺ کا کسی کا کو کرنا سنت ہے اور جو شخص آپ ﷺ  کی اس سنت پر عمل نہیں کرتا وہ محدثین کرام ؒ کی تصریح کے مطابق بدعتی ہو گا اور یہی کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں ‘‘(راہ سنت : ص ۹۳)

تواس دیوبندی اصول سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کام حضورﷺ  نے نہیں کیا تو وہ نہ کرنا بھی سنت ہے ۔تو اب ہم علماء دیوبند سے کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے میلاد کی نسب سے کبھی کھانا پکا کر تقسیم کیا تھا؟اس پر ثبوت پیش کریںاوراگرنہیں کیا تو مذکورہ دیوبندی اصول سے ایسا عمل نہ کرنا سنت ٹھہرا اور اس سنت کی مخالفت کرکے (یعنی کھانا پکا کر ایصال ثواب کرنے کے عمل کو جائز کہہ کر)دیوبندی امام رشید احمد گنگوہی اور اس کے علاوہ شاہ عبد الرحیمؒ و شاہ ولی اللہؒ بدعتی ٹھہرے ۔ 


 علماء دیوبند   اپنے  پانچویں اصول سے بدعتی  و جہنمی

اسی طرح دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب کہتے ہیں کہ

’’حضرات فقہاء احناف اس کو مکروہ بھی کہتے ہیں اور بدعت بھی ۔ اور دلیل صرف اتنی ہی پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ  اور حضرات صحابہ کرام ؓو تابعین سے منقول نہیں …ان عبارات میں حضرات صحابہ کرام ؓ اور تابعین کاخصوصیت سے حضرات فقہاء احناف نے ذکر کیا ہے کہ چونکہ یہ کام حضرات صحابہ کرام ؓ اور تابعین سے منقول نہیں لہذا بدعت ہے‘‘(راہ سنت ص ۹۷،۹۸)

تو دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب کے اس اصول سے واضح ہوا کہ جو کام نبی پاک ﷺیا صحابہ و تابعینث نے نہیںکیایا آپ حضرات سے منقول نہ ہوناہی بدعت ضلالہ ہے۔ تواب دیابنہ حضرات بتائیں کہ جس عمل کو شاہ عبد الرحیم ؒ نے کیا ،شاہ ولی اللہ ؒ نے بیان کیا اور دیوبندی امام رشید احمد گنگوہی نے اس کو درست( جائز )کہہ کر قبول کیا کیا یہ عمل ’’ آنحضرت ﷺ  اور حضرات صحابہ و تابعین علہیم الرضوان اجمعین سے منقول ہے؟ ‘‘اگر منقول ہے تو دیوبندی حضرات وہ حوالے پیش کریں اور اگر منقول نہیں تو دیوبندیوں کے اس اصول سے شاہ عبد الرحیم ،شاہ ولی اللہ اور دیوبندی امام رشید احمد گنگوہی  بدعتی و گمراہ ٹھہرے ۔


 علماء دیوبند   اپنے  چھٹے اصول سے بدعتی  و جہنمی

دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’جو کچھ انہوں نے فعلاََ یا ترکاََ کیا ،وہی دین ہے اور اس کی مخالفت بے دینی ہے ،تیس (۲۳)سال آپ بعد از نبوت قوم میں زندہ رہے پھر تیس (۳۰)سا ل خلافت ِ راشدہ کے گزرے ہیں اور پھر ایک سو دس ہجری تک حضرات صحابہ کرام ؓ کا رود رہا ۔کم و بیش دو سو بیس برس تک اتباع ِ تابعین کا زمانہ تھا …اگر فریق مخالف ہمت کر کے ان سے (مذکورہ عمل ) ثابت کر دیں …لیکن فریق مخالف خیر القرون سے اس کا ثبوت پیش نہیں کر سکتے تو سوال یہ ہے کہ باوجود محرک اور سبب کے یہ مبارک کام اور کار ثواب اس وقت کیوں نہ ہوااور آج یہ کیسے کار ثواب (اور جائز)اور مبارک ہو گیا،بس  صرف اسی ایک نقطہ پر نگاہ جما کر دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہیے۔ملخصا

(راہ سنت : ص ۱۶۰،۱۶۱)

تو اب ہم اسی اصول کے مطابق مخالفین سے کہتے ہیں کہ 

تیس (۲۳)سال آپ ﷺ بعد از نبوت قوم میں زندہ رہے تو دیوبندی ہمت کریں اور آپﷺ  سے یہ ثابت کر دیں کہ اپنے میلاد شریف کی نسبت سے انہوں نے کھانا پکا کر تقسیم کیا ہو۔ پھر تیس (۳۰)سا ل خلافت ِ راشدہ کے گزرے ہیںتو دیوبندی ہمت کریں اور خلافت راشدہ سے یہ ثابت کر دیں کہ نبی پاک ﷺ کے میلاد شریف کی نسبت سے انہوں نے کھانا پکا کر نبی پاکﷺ کو ایصال ثواب کیا ہو۔ اور پھر ایک سو دس ہجری تک حضرات صحابہ کرام ؓ کا دور رہا ۔کم و بیش دو سو بیس برس تک اتباع ِ تابعین کا زمانہ تھا …تو دیوبندی ہمت کریں اور صحابہ اور تابعین علہیم الرضوان اجمعین سے یہ ثابت کر دیں کہ نبی کریمﷺ  کے میلاد شریف کی نسبت سے انہوں نے کھانا پکا کر نبی پاکﷺ  کو ایصال ثواب کیا ہو۔


{… ایک ممکنہ  تاویل کا ازالہ …}

تاویل …:ممکن ہے کہ کوئی دیوبند ی کہہ دے کہ یہ خواب کا معاملہ ہے جو حجت نہیں۔

ازالہ …: تو اس کے جواب میں اولاََ تو یہ عرض ہے کہ گنگوہی صاحب نے شاہ عبد الرحیم صاحب ؒ کے اس خواب والے حوالے کو قبول کر کے یہ فتویٰ دیا کہ ایسا عمل کرنے میں کچھ حرج نہیں ، ایسا عمل سب کے نزدیک درست (جائز) ہے لہذا منکرین کی تاویل ہرگز فائدہ مند نہیں ۔

نیز علماء دیوبند کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی صاحب نے بھی یہی نظریہ ہے چنانچہ بہشتی زیور میں [ربیع الاول یا کسی اور وقت میں مولد شریف کا بیان] کے تحت لکھتے ہیں کہ 

’’ بلکہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پڑھنے کا شوق ہو تو کوئی معتبر کتاب لیکر خود پڑھ لے ،یا بے اکھٹے کئے ہوئے گھر کے دو چار آدمی یا جو ملنے ملانے آ گئے ہوں ان کو بھی سنا دے ۔اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کو کسی چیز کا ثواب بخشنا منظور ہو تو دوسرے وقت مساکین کو دیکر یا کھلا کر بخش دے ،نیک کام کو کوئی منع نہیں کرتا مگر بے ڈھنگا پن بُرا ہے ۔‘‘

( بہشتی زیور کامل:ھصہ ششم:ص296)

تو اشرفعلی تھانوی صاحب نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لئے کھانا پکا کر مسکینوں کو کھلانے کا طریقہ بتایاہے اور اس کو نیک کام تسلیم کیا ہے ۔

اسی طرح تھانوی صاحب نے خود ’’مولود شریف کا مستحسن طریقہ‘‘بیان کیا جس میں مٹھائی کے بارے میں تھانو ی صاحب نے کہا کہ 

’’ وہ مٹھائی اب تقسیم کر دیں جو جو اشخاص مجلس میں آئے تھے ان کے مکانوں پر بھیج دیں اور زیادہ حصہ مساکین کو دیں۔اور اس کا ثواب حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں ۔‘‘(ملفوظات حکیم الامت : جلد ۲۰ ص ۱۹۰،۱۹۱:حسن العزیز جلد۲ ص۲۲۴، حسن العزیز جلد ۴ ص ۱۹۸،مواعظ میلاد النبیﷺ:ص۲۳۰)

اور دیوبندی امام سرفراز صفدر نے بھی اس عمل کو تسلیم کیا کہ 

’’بعض بزرگوں سے ثابت ہے کہ آپ [ﷺ]کی ولادت کے دن آپ کے لئے ایصال ثواب کرنا اور آپ [ﷺ]کے صحیح حالات بیان کرنا اور اسی طرح کی بعض جائز چیزیں ‘‘(باب جنت : ص ۱۲۵)

لہذا دیوبندی حضرات کسی صورت اس کا انکار نہیں کر سکتے ۔ان شاء اللہ عزوجل

دوسری بات یہ ہے کہ خود اشرفعلی تھانوی صاحب نے عام دیوبندیوں کے خواب پیش کر کے میلاد کے خلاف پیش کیے ۔(مواعظ میلاد : السرور:ص ۷۳) لہذا جب ممانعت پر خواب پیش کیے جا سکتے ہیں تو تائید پر کیوں نہیں؟پھر تھانوی صاحب نے ان خوابوں کے بارے میں خود لکھا کہ ’’یہ تو محض تائید اور مزید اطمینان کے لئے لکھ دیا ہے‘‘(مواعظ میلاد : السرور:ص ۷۳)تو معلوم ہوا کہ خواب بطور تائید علماء دیوبند کے مطابق پیش کیے جا سکتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ خود علماء دیوبند نے اپنے فتوی جات اور کتب میں کھانا پکا کر ایصال ثواب کرنے کو جائز لکھا لہذا دیوبندی حضرات ایسے حوالوں سے جان چھڑانے کا خواب نہ ہی دیکھیں۔


میلاد کے موقع پر صدقات و خیرات،ذکر و اذکارعلماء دیوبند کا حوالہ اور اس پر تبصرہ

دیوبندی الیاس گھمن گروپ کے ابو ایوب دیوبندی اینڈ کمپنی نے نبی پاکﷺ  کی ولادت با سعادت پر خوشی منانے کے بارے میں اپنا دعوی یہ لکھا ہے کہ 

’’ہم ... دیوبندی حیاتی نبی کریمﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی منانا بغیر قیود و التزام صدقہ خیرات کرنا،روزہ رکھنا ،نوافل پڑھنا ،درود پڑھنا ،وغیرہ امور سے آپ [ﷺ]کی روح مبارک کو ایصال ثواب کرنا باعث اجر و ثواب ہے اور اس میں کسی مسلمان کو اختلاف کی گنجائش نہیں‘‘(روائیداد مناظرہ کوہاٹ:ص ۳۶،۳۷)

اس حوالے میں دیوبندیوں نے بغیر قیود و التزام کے نبی پاکﷺکی ولادت با سعادت پر خوشی منانا،صدقہ و خیرات کرنا،روزہ رکھنا،نوافل پڑھنا ،درود پڑھنا اور آپﷺ کی روح مبارک کو ایصال ثواب (ان کاموں کو)باعث اجر و ثواب کہا ہے ۔ لیکن انہی کے دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’اپنی مرضی اور خواہش سے کسی چیز کو کارِ ثواب اور کارِ عتاب کہنے والا گویا دراصل اپنے لئے منصب الوہیت اور رسالت تجویز کرتا ہے‘‘    (راہ سنت : ص ۶۹)

تو اب علماء دیوبند مذکورہ عمل کا کار ثواب ہونا قرآن و سنت سے ثابت کریں ورنہ اپنے  دیوبندی امام سرفراز صفدر کے اس فتوے سے دیوبندی علماء منصب الوہیت اور رسالت کے مدعی ٹھہرے ۔معاذ اللہ ۔

دیوبندی امام اشرفعلی تھانوی صاحب فرماتے ہیں 

’’اول کتاب اللہ کو لیجیے ۔حق تعالی ارشاد فرماتا ہے:

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُؕ:

یعنی کیا ان کے شرکاء ہیں کہ انہوں نے ان کے لئے دین کی وہ بات مقرر کر دی جس کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی۔

یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ دین کی بات بدونِ اذن الہی یعنی بدون شرعی کسی کو مقرر کرنا مذموم[بُرا]و مستنکر [مکروہ ]ہے ‘‘[اشرف الجواب : باب دوم :نمبر ۲۲ ص ۱۱۰]

تو علماء دیوبند بلخصوص گھمن ،ابو ایوب،ساجد خان گروپ اپنے مذکورہ بالا دعوے کے بارے میں بتائیں کہ کیا اس کام کی اللہ عزوجل کی طرف سے اجازت ہے؟اس دعوے پر قرآن سے ثبوت موجود ہے؟اگر ہاں تو وہ دلائل پیش کریں اور اگر نہیں تو تھانوی صاحب کے مطابق علماء دیوبند کا مذکورہ دعوی بدونِ اذن الہی ہے تو دیوبندی علماء نے وہ بات مقرر کی اللہ نے جس کی اجازت نہیں دی۔ بلکہ مذہب وہابیہ کے مطابق تو علماء دیوبند کا یہ دعوی ہی شرکیہ ہے ۔

پھر ہم دیابنہ کے دیگر اصول و ضوابط کے مطابق دیوبندی علماء سے پوچھتے ہیں کہ کیاخیر القرون میں یہی سب کام ( نبی پاکﷺکی ولادت با سعادت پر خوشی منانا،صدقہ و خیرات کرنا،روزہ رکھنا،نوافل پڑھنا ،درود پڑھنا اور آپﷺ کی روح مبارک کو ایصال ثواب ) بغیر قیود و التزام کے ثابت ہیں؟ 


کیا یہی سب کام بغیر قیود و التزام کے منقول ہیں؟

کیا یہی سب کام بغیر قیود و التزام کے نبی پاک ﷺ سے قولاََ و فعلاََ ثابت ہیں؟

کیا یہی سب کام بغیر قیود و التزام کے صحابہ کرام علہیم الرضوان اجمعین سے ثابت ہیں؟

جناب والا ! محض یہ کہہ دینا کہ ہم دیوبندی بغیر قیود و التزام کے قائل ہیں ، یہ کسی دلیل شرعی کا نام نہیں بلکہ آپ دیابنہ اپنے دیگر اصول و ضوابط [جن کو ہم پہلے بیان کر چکے ]کو بھی مد نظر رکھ کر ان مذکورہ بالا کاموں کا ثبوت پیش کریں ،ورنہ آپ دیوبندی اپنے ہی اصولوں سے بدعتی ،گمراہ،جہنمی قرار پاتے ہیں۔


 علماء دیوبند کے تیسرے حوالے  پر الزامی تبصرہ 

اسی طرح علماء دیوبند کے امام اشرفعلی تھانوی کے ملفوظات میں تھانو ی صاحب کی مجلس مولود منعقد کرنے کا ذکر موجود ہے جسکا عنوان قائم کیا گیا کہ

’’مولود شریف کا مستحسن طریقہ‘‘

اور اسی عنوان کے تحت تھانوی صاحب کا ملفوظ ہے کہ 

’’آپ محض مفاسد کی وجہ سے منع کرتے ہیں تو ان کو حذف کر کے نفس مولود پڑھ دیجئے …میں (تھانوی) نے بعدنماز عشاء تک بیان کیا اور کوئی امر منکر نہیں ہوا۔عنوان مولود شریف کا تھا میٹھائی بھی تقسیم نہیں ہوئی ،یہ ایک نئی قسم کا مولود شریف ہوا ان لوگوں کی زبانیں بند ہو گئیں جو کہتے تھے کہ یہ لوگ نفس مولود ہی کے منکر ہیں ۔صبح کو میں نے کہلا بھیجا کہ وہ مٹھائی اب تقسیم کر دیں جو جو اشخاص مجلس میں آئے تھے ان کے مکانوں پر بھیج دیں اور زیادہ حصہ مساکین کو دیں۔اور اس کا ثواب حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں ۔وہ ایسے سمجھدار شخص تھے کہنے لگے ۔جبکہ مساکین کو دینے سے ثواب ہو گا تو کل مٹھائی مساکین ہی کو کیوںنہ دیدیجائے بس محلہ کے مساکین کو سب مٹھائی دیدی تھی حتی کہ بیان کندگان کا حصہ بھی نہیں بھیجا‘‘(ملفوظات حکیم الامت : جلد ۲۰ ص ۱۹۰،۱۹۱:حسن العزیز جلد۲ ص۲۲۴، حسن العزیز جلد ۴ ص ۱۹۸،مواعظ میلاد النبیﷺ:ص۲۳۰)

اولاتو جس طریقے سے اشرفعلی تھانوی نے مولود کا عنوان دیکر مجلس میں بیان کیا ،اس کا ثبوت علماء دیوبند پیش کریں کہ ایسا خاص عنوان دیکر مجلس میں نبی کریم ﷺنے اپنا مولود بیان کیا ہو،یا خلفاء راشید ین یا دیگر صحابہ کرام علہیم الرضوان اجمعین نے خاص مولود کے عنوان سے مجلس میں بیان کیا ہو،لیکن یاد رہے کہ اپنے اصول کے مطابق دلیل خاص ہی پیش کرنی ہے اور اگر نہ پیش کر سکیں تو اشرفعلی تھانوی کو بدعتی و جہنمی کہیں ۔ 

نیز یہ بھی بتائیں کہ اس طریقہ سے مجلس مولود کر کے دوسرے دن مٹھائی تقسیم کر کے نبی پاکﷺ کو ایصال ثواب کرنے کا یہ عمل آخر کون سی آیت سے ثابت ہے؟کیا نبی پاک ﷺنے ایسا عمل کیا تھا؟اگر قرآن و حدیث نے بیان نہیں کیا تو آپ دیوبندیوں کا یہ طریقہ کہاں سے ثابت ہے؟جو کام قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اس کو تو آپ بدعت و حرام کہتے ہیںکہ نہیں؟تو اب اپنا یہ عمل ثابت کریں نہیں تو آپ دیوبندی حضرات اپنے ہی فتووں سے بدعتی و جہنمی قرار پاتے ہیں۔


 علماء دیوبند کے چوتھے حوالے  پر الزامی تبصرہ 

سرفراز صفدر دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ

’’بعض بزرگوں سے ثابت ہے کہ آپ [ﷺ]کی ولادت کے دن آپ کے لئے ایصال ثواب کرنا اور آپ [ﷺ]کے صحیح حالات بیان کرنا اور اسی طرح کی بعض جائز چیزیں ‘‘(باب جنت : ص ۱۲۵)

قارئین کرام ! دیوبندی امام سرفراز صفدر صاحب نے اس حوالے میں تسلیم کیا کہ بعض بزرگ آپ ﷺکی ولادت کے دن آپ ﷺ کے لئے ایصال ثواب کرتے تھے ۔

تو اولاََ علماء دیوبند یہ بتائیں کہ وہ بعض بزرگ کون تھے؟ان کے نام کیا تھے؟اور پھر اپنے اصولوں کے مطابق یہ ثابت کریں کہ ان بزرگوں کا یہ عمل نبی پاکﷺ یا صحابہ کرام علہیم الرضوان اجمعین یا تابعین علہیم الرضوان اجمعین سے ثابت ہے۔اور اگر ثابت نہیں تو ( اپنے ان تمام اصولوں کو مدنظر رکھیں جو ہم پچھلے صفحات پر پیش کر چکے ،اور پھر) بتائیں کہ یہ بعض بزرگ بدعتی و گمراہ تھے ؟حرام کے مرتکب ٹھہرے؟اگر نہیں تو کیوں؟

حیرت کی بات ہے کہ یہ بزرگ (اصولوں دیابنہ کے مطابق)غیر منقول ،غیر ثابت شدہ عمل (یعنی آپ ﷺ کی ولادت کے دن آپﷺ کو ایصال ثواب )کریں تو بزرگ ہی رہیں لیکن ہم سنی ایسا کام کریں تو بدعتی قرار دیے جائیں،یہ دورا معیار آخر کیوں؟

میلاد شریف کے موضوع پر بہترین علمی و تحقیقی کتاب منکرین کے جدید اعتراضات کا علمی،تحقیقی والزامی محاسبہ

’’قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر میلاد النبی ﷺ کا ثبوت‘‘

(مجاہد اہل سنت حضرت علامہ ابو حامد احمد رضا قادری رضوی عطاری حفظہ اللہ، ناشر اکبر بک ڈپو لاہورکا مطالعہ کیجیے۔یہ کتاب پاکستان میں شائع ہوئی ہے۔ جبکہ یہی کتاب ہندوستان میں 

دلائل میلاد النبی ﷺ “ 

کے نام سے شائع کی گئی ہے۔ ہند و پاک کے احباب اس کتاب کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ 

┄┅─•════════•─┅┄


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)