خودکشی: صبر و یقین کی شکست

0

 

از: محمد رمضان رضا ماتریدی

(ماتریدی ریسرچ سینٹر،مالیگاؤں)


اللہ عزوجل نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، اور ان میں سب سے عظیم نعمت زندگی ہے۔ یہ زندگی نشیب و فراز، خوشی و غم، کامیابی و ناکامی کا ایک حسین سفر ہے۔ جو لوگ صبر اور یقین کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں، وہ اندھیروں میں بھی امید کی کرن ڈھونڈ لیتے ہیں اور مشکلات میں آسانی کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔


افسوس کہ آج کا انسان معمولی آزمائشوں میں ہی حوصلہ ہار بیٹھتا ہے۔ دلوں میں وسعت کم ہو گئی ہے، اور صبر کا دامن چھوٹتا جا رہا ہے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی کی عارضی پریشانیوں سے گھبرا کر خودکشی جیسا ہولناک اور غیر شرعی قدم اٹھا لیتے ہیں، جو نہ صرف دینِ اسلام میں سخت حرام ہے بلکہ اللہ عزوجل کی عظیم نعمتِ زندگی کی بے قدری اور ناشکری بھی ہے۔


خود کشی سے بچاؤ کا نبوی نسخہ 

(👆 اس پر کلک کر کے مضمون پڑھیں👆)


خودکشی دراصل صبر و یقین کی شکست کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہو چکا ہے، حالانکہ قرآن کریم میں صاف ارشاد فرمایا گیا:  

اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں۔(سورہ یوسف:87)


 اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ الزُّمر : 53) 


زندگی کے ہر اندھیرے کے بعد روشنی ہے، ہر دکھ کے بعد راحت ہے، اور ہر آزمائش کے بعد انعام ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم ہمت اور صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔ نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی ہمارے لیے سب سے روشن نمونہ ہے۔ طائف کی سنگ باری ہو یا شعب ابی طالب کی کٹھنائیاں، میدانِ احد کی آزمائش ہو یا حدیبیہ کا صبر آزما معاہدہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر حال میں صبر اور اللہ عزوجل پر کامل یقین کیا، کبھی ناامیدی اور مایوسی کو پاس نہ آنے دیا۔


ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے سبق لیں۔ جب ہم کسی کو مایوسی اور شکستگی کی حالت میں دیکھیں تو اس کا ہاتھ تھامیں، اسے حوصلہ دیں، اس کے زخموں پر الفاظِ محبت کا مرہم رکھیں۔ ایک نرم مسکراہٹ، ایک دل جو امید سے بھرا ہو، کسی کو زندگی کی طرف واپس کھینچ سکتا ہے۔


روزنامہ دیوانِ عام 



یاد رکھئے! خودکشی صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی حساسیت اور ذمے داری پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آئیں! ہم صبر، امید اور محبت کے چراغ جلائیں تاکہ کوئی بھی زندگی مایوسی کی اندھیری رات میں نہ بجھے۔


----------✃-------------------✁------------


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)