خودکشی سے بچاؤ کا نبوی نسخہ: صحابیات رضی اللہ عنہن کا صبر

0


 از قلم: محمد رمضان رضا ماتریدی 

ماتریدی ریسرچ سینٹر مالیگاؤں 


انسانی زندگی خوشیوں اور غموں، راحتوں اور تکلیفوں، آسانیوں اور آزمائشوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جسے مصیبتوں سے کامل نجات حاصل ہو، مگر فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ ان مشکلات کو پامال کر کے ابھرتے ہیں، جبکہ کچھ انہی آزمائشوں کے بوجھ تلے دم توڑ دیتے ہیں۔


دورِ جدید میں، جب مادی سوچ نے انسانی قلب و نظر پر غلبہ پا لیا ہے، معمولی سی آزمائش بھی مایوسی کا سبب بننے لگی ہے۔ انسان ربِّ کائنات کی رحمت سے ناامید ہو کر خودکشی جیسے حرام اور ہلاکت خیز عمل کی طرف مائل ہو جاتا ہے، گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ زندگی کے مسئلوں کا واحد حل یہی ہے کہ زندگی ہی ختم کر دی جائے۔


اسلام میں یہ عمل قطعی حرام اور ناقابلِ معافی گناہ ہے، کیونکہ یہ زندگی جیسی عظیم نعمت کو رد کرنے کے مترادف ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے بڑی امانت ہے۔


ایسے وقت میں جب انسان صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم تاریخ کی اُن عظیم ہستیوں کی طرف رجوع کریں جنہوں نے اپنی زندگیاں صبر و استقامت کا مجسم نمونہ بنا کر دکھائیں۔ ان میں سب سے روشن مثالیں *صحابیات رضی اللہ عنہن* کی ہیں، جنہوں نے مصائب و آلام میں بھی اللہ کی رضا کو ترجیح دی، اور ایسے کردار پیش کیے جو رہتی دنیا تک مرد و زن کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔


قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 "وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا"

 "اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔"

 (النساء: 29)


رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے مار کر قتل کرے گا، قیامت کے دن وہی چیز اس کے لیے عذاب کا ذریعہ بنے گی۔" (صحیح مسلم)


یہ واضح تنبیہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات سے راہِ فرار مؤمن کا طریقہ نہیں، بلکہ ان کا صبر و استقامت سے سامنا ہی اصل نجات ہے۔


اگر صحابیات رضی اللہ عنہن کی زندگیوں پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں صبر کی ایسی درخشاں مثالیں ملتی ہیں جو آج کے انسان کے لیے امید، ہمت اور حوصلے کا سرچشمہ بن سکتی ہیں۔


حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا:

نبی کریم ﷺ کی سب سے پیاری بیٹی، جنہوں نے فاقے دیکھے، چکی پیسی، شوہر کے زخم دھوئے، بچوں کی پرورش کی، مگر ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کی رضا سے بے زاری ظاہر نہ کی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"فاطمہ رضی اللہ عنہا دنیا کی سب سے صابر عورت تھیں۔"

(سیر اعلام النبلاء)


حضرت امّ عمارہ رضی اللہ عنہا (نسیبہ بنت کعب):

غزوۂ اُحد میں جب نبی کریم ﷺ کے گرد مدافعین کم رہ گئے، حضرت نسیبہ رضی اللہ عنہا نے تلوار سنبھالی، زخمی ہوئیں، شوہر اور بیٹے زخمی ہوئے، مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں ڈٹی رہیں۔

حضور سید المرسلین ﷺ نے فرمایا:

"میں جدھر بھی دیکھتا، نسیبہ رضی اللہ عنہا کو میرے دفاع میں کھڑا پاتا۔" (الاستیعاب)


حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بنت عمر:

ان کے شوہر حضرت خنیس رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے نکاح کے لیے حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے بات کی، مگر دونوں نے انکار کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غمگین ہوئے، لیکن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے صبر سے کام لیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ کا شرف عطا فرمایا۔ وہ امّ المؤمنین بنیں، حافظۂ قرآن تھیں، اور ان کے پاس قرآن کا اصل مصحف محفوظ رہا۔(صحیح بخاری، الطبقات الکبریٰ)


حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا بنت خباط:

اسلام کی پہلی شہیدہ خاتون، جنہوں نے ابو جہل کے شدید ترین مظالم برداشت کیے، مگر "لا إله إلا الله" کا کلمہ نہ چھوڑا۔ گرم ریت پر لٹایا گیا، برچھی ماری گئی، مگر وہ توحید پر ثابت قدم رہیں۔

یہ صبر کی سب سے عظیم مثال ہے، جس کے بدلے انہیں شہادت کا بلند مقام عطا ہوا۔

 (الطبقات، ابن سعد)


اسلام وہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہارنے نہیں دیتا، بلکہ ہر حالت میں جینے، لڑنے، اور اللہ سے رجوع کرنے کا درس دیتا ہے۔ وہ انسان کو امید، محبتِ زندگی، اور صبر کا سبق سکھاتا ہے۔


صحابیات رضی اللہ عنہن کی زندگیوں میں صبر کی وہ اعلیٰ مثالیں موجود ہیں جن پر اگر آج کے دور کی خواتین اور مرد عمل کریں تو نہ صرف زندگی کی تلخیوں کو برداشت کرنا آسان ہو جائے گا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب بندوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔


آج کی عورت جو طلاق، مالی تنگی، تنہائی، یا سسرالی دباؤ کا شکار ہو کر مایوسی کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، اگر وہ حضرت فاطمہ، حضرت نسیبہ، حضرت حفصہ، حضرت سمیہ یا دیگر صحابیات رضی اللہ عنھن کی زندگیوں پر غور کرے، ان کے صبر کو محسوس کرے، اور ان کی رضا بالقضا کو سمجھے... تو وہ کبھی بھی خودکشی جیسے ناپسندیدہ اور مہلک عمل کا تصور بھی نہیں کرے گی۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں *صبر، توکل، حوصلے، اور دین سے جُڑنے کی فضا پیدا کریں*۔ نوجوانوں کو، خاص طور پر خواتین کو، یہ سکھایا جائے کہ آزمائشیں وقتی ہیں، اور صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔


یاد رکھیے، *مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے، اور صبر اللہ کا انعام۔*

خودکشی نہیں، صبر اختیار کیجیے— کیونکہ ہر تاریکی کے بعد سحر ضرور آتی ہے، اور اللہ کی مدد ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے:


"إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِينَ"

"بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔"

(البقرہ: 153)



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)