صبر و حِلم : سنتِ نبوی ﷺ کا روشن مینار

0


انسانی معاشرہ مختلف رنگ، نسل، زبان، مذہب اور خیالات رکھنے والے افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہی تَفاوُت اس دنیا کو خوبصورت اور متحرک بناتا ہے، وہیں اگر اختلافات کو سنبھالنے کے لیے **برداشت** اور **رواداری** جیسے اوصاف نہ ہوں، تو یہی تَفاوُت تنازعات، انتشار اور بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کے نظریات اور جذبات کا احترام کریں، اختلافات کے باوجود محبت، تحمل اور بردباری کا رویہ اپنائیں، اور ہر حال میں صبر و تحمل کا دامن تھامے رکھیں۔  

برداشت کا مطلب محض یہ نہیں کہ ہم دوسروں کی بات خاموشی سے سن لیں، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ ہم دوسروں کے خیالات، نظریات اور طرزِ زندگی کو وسعتِ قلبی کے ساتھ قبول کریں، اختلافِ رائے کو عزت دیں، اور جذباتی ردِعمل دینے کے بجائے حکمت، دانائی اور صبر سے کام لیں۔ ایک معاشرہ اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب وہاں برداشت اور رواداری کی فضا قائم ہو اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق و جذبات کا احترام کریں۔  


اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہر حال میں صبر، تحمل اور رواداری کی تلقین کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور عفو و درگزر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن کریم میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:  


"اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔" (سورہ حم السجدہ: 34)  


رسول اکرم ﷺ کی زندگی مبارکہ قوتِ برداشت کی بہترین مثال ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ صبر، درگزر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، حتیٰ کہ اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی شفقت اور رحمت کا برتاؤ فرمایا۔  


حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  

 " ایک مرتبہ حضورِ اَنور ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے موٹے تھے،اتنے میں ایک اَعرابی ملا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا یہاں تک کہ میں  نے حضور ِاَقدس ﷺ کے کندھے پر زور سے چادر کھینچے جانے کی وجہ سے رگڑ کا نشان دیکھا۔ اس اَعرابی نے کہا :اے محمد! (ﷺ) اللہ تعالیٰ نے جو مال آپ کو دیا ہے وہ میرے ان اونٹوں  پر لاد دو کیونکہ آپ نہ مجھے اپنے مال سے دیتے ہیں  اور نہ ہی اپنے والد کے مال سے دیتے ہیں ۔سیّد العالَمین ﷺ خاموش رہے اور صرف اتنا فرمایا کہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہی ہے اور میں  تو اس کا بندہ ہوں ،پھر ارشاد فرمایا کہ اے اَعرابی:کیا تم سے اس کا بدلہ لیا جائے جو تم نے میرے ساتھ سلوک کیا ؟اس نے عرض کی :نہیں ۔ارشاد فرمایا ’’کیوں نہیں  ؟اَعرابی نے عرض کی :کیونکہ آپ کی یہ عادتِ کریمہ ہی نہیں کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے لیں ۔اس کی یہ بات سن کر سرکارِ دو عالَم ﷺ مسکرا دئیے اور ارشاد فرمایا: ’’اس کے ایک اونٹ کو جَو سے اور دوسرے کوکھجور سے بھر دو۔"

 (بخاری، کتاب الادب، باب التبسم و الضحک، ۴ / ۱۲۴، الحدیث: ۶۰۸۸) 


یہ واقعہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ نبی رحمت  ﷺ نے ہمیشہ رحم دلی، حلم، بردباری اور درگزر کا مظاہرہ فرمایا، حتیٰ کہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی انتقام کے بجائے محبت اور نرمی سے پیش آئے۔    


برداشت اور رواداری کسی بھی معاشرے کی خوشحالی اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ جو قومیں بردباری، حلم اور صبر کو اپناتی ہیں، وہی دنیا میں امن، ترقی اور کامیابی کی مثال بنتی ہیں۔ جبکہ جو معاشرے عدم برداشت، شدت پسندی اور عدم رواداری کو فروغ دیتے ہیں، وہ باہمی تنازعات، افراتفری اور زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔  


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا طاقتور وہ نہیں ہے جو (اپنے مقابل کو) پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پالے۔ (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4779)


یہی وہ صبر و برداشت ہے جو انسان کو نہ صرف حقیقی کامیابی کی راہ دکھاتا ہے بلکہ معاشرتی استحکام اور بین الانسانی تعلقات میں بھی مضبوطی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں رواداری، صبر اور تحمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔


ازقلم: رمضان رضا ماتریدی

ماتریدی ریسرچ سینٹر مالیگاؤں 


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)