محترم قارئین !
یہ اخبار ہے روزنامہ ہندوستان ممبئی۔۔اور یہ جو تراشیدہ ہے وہ 10 جنوری 2025 بروز جمعہ کا۔۔
اس میں یہ جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں ۔۔ یہ ایک دیوبندی کی ہے جس کا نام اسلام مظاہری ہے۔۔ اور چندہ فراڈ کرتے پکڑے گئے ہیں
یعنی جس مدرسہ سے امتیاز پلاموی مظاہری ۔۔ اور بکلول دیوبندی مبارک مظاہری فارغ ہیں۔۔ اسی مدرسے کے یہ جناب بھی فارغ ہیں۔ اور جس طرح یہ دونوں سوشل میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کرکے ان کے ایمان لوٹنے کی کوشش میں سرگرم ہیں۔۔ بالکل اسی طرح یہ جناب ” اسلام مظاہری“ بھی لوگوں کو گمراہ کرکے اس سے روپئے اینٹھنے کا کام کرتے رنگے ہاتھ پکڑے گئے ہیں۔۔۔
تفصیل اس اجمال کی کیا ہے آئیے جانتے ہیں
قارئین معاملہ دراصل یہ ہے کہ
ممبئی کے چیمبور کی مسجد میں مغرب کی نماز کے بعد ایک سفید داڑھی والے مولوی نے ایودھیا کی ایک دو نہیں بلکہ 21 مسجدوں کی انجمن کے صدر ہونے کا دعویٰ کر کے ان مسجدوں کی مرمت کے لیے برے دلسوز انداز میں لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔۔ اور لوگوں کے جذبات پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے بابری مسجد کے چھن جانے کا بھی ذکر کیا۔۔ اور کہا کہ
بابری مسجد تو مسلمانوں سے چھین لی گئی ہے اب باقی ماندہ کی دیکھ ریکھ ہم سب کی ذمہ داری اور دینی فریضہ ہے ۔۔
ان کی اس جذباتی اپیل سے ظاہر ہے کہ لوگوں کے دلوں کا دروازے کھل چکے ہوں گے۔ اور اس کی دو اور وجہ اخبار میں بیان کی گئی ہے۔۔ ایک تو اس دیوبندی کی بزرگ صورت اور دوسری مظاہر العلوم سے فارغ ہونے کا دعویٰ ۔۔ اور پھر لوگوں نے چندہ دیا۔۔۔
لیکن بگڑنے اور اس دیوبندی اسلام مظاہری کا فراڈ پکڑے جانے کی وجہ یہ بنی کہ
معروف سماجی کار کن ضمیر الحسن خان نے اس فراڈیےکو چندہ ان لائن پیمنٹ کیا۔۔۔ جو کوچنگ کے نام کے اکاؤنٹ پر گیا۔۔ جس پر ضمیر الحسن کا ماتھا ٹھنکا اور پھر اس مظاہری فراڈیے سے جب تفتیش کی تو بہانے بنانے لگے۔۔ جس سے ضمیر الحسن کا شک یقین میں بدل گیا کہ ضرور کوئی نہ کوئی گڑبڑ ہے۔۔ لیکن اب کیا بھی کیا جا سکتا تھا۔۔ روپیے تو دیئے جا چکے ہیں۔۔
خیر دوسرے دن ایودھیا میں سماجی و ملی کاموں میں سرگرم اپنے ایک عزیز سے ضمیر الحسن نے مذکورہ سفارت کار کا سفارت نامہ اور خط بھیج کر تصدیق طلب کی۔۔۔ تو انہوں نے راز کھولا کہ ہم نے یہاں ایودھیا میں ایسے کسی ادارے کا نام نہیں سنا ہے۔ بادی النظر میں یہ معاملہ فراڈ کا لگتا ہے ۔۔ لیکن مزید تحقیقات کے لیے کچھ وقت لیا اور پھر یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ
ایودھیا میں مسجدوں کی ایسی کسی انجمن کا وجود نہیں ہے گویا یہ سارا معاملہ دھوکہ اور فراڈ پر مبنی ہے۔۔
مزید تفصیل اور اخبار تک رسائی کے لیے آپ اس لنک پر کلک کر کے اصل اخبار دیکھ سکتے ہیں 👇👇👇
روزنامہ ہندوستان ممبئی کا لنک
قارئین! اپنی رائے دینے کے لیے نیچے کمینٹ باکس کو استعمال کریں 👇👇👇


