ناظرین کرام! سب سے پہلے تو آپ علماء دیوبند کی عبارات ملاحظہ فرمائیں جو تبلیغی جماعت بارے میں ہے اس کے بعد ہم کچھ اس پر تبصرہ کریں گے
دیوبندیوں کو کہنا ہے کہ تبلیغی عوام کی غلطی ہے اس سے جماعت کو برا نہیں کہا جاسکتا. اس پر دیوبندی علماء کیا کہتے ہیں دیکھے
دیوبندی شیخ الحدیث و القرآن الطاف الرحمٰن بنوی صاحب لکھتے ہیں
” جب تبلیغی دوستوں کے رویے پر بات ہوتی ہے تو بڑی آسانی سے یہ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ یہ تو افراد کی باتیں ہیں اس میں جماعت کا کیا قصور ہے لاحول ولاقوۃ یہی افراد تو جماعت بناتے ہیں ۔ “ (موجودہ تبلیغی جماعت، ص23)
دیوبندی شیخ الحدیث و القرآن الطاف الرحمٰن بنوی صاحب لکھتے ہیں
” انفرادی رویہ جماعتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے افراد کے علاوہ جماعت کس چیز کا نام ہے اور اگر واقعی جماعت کوئی الگ چیز ہے تو افراد کے اس رویے پر اظہار برہمی و برات یا کم از کم اعلان لا تعلقی کیوں نہیں کیا جاتا۔ “ (موجودہ تبلیغی جماعت، ص24)
اسی طرح وہابی دیوبندی اسماعیلی احمدی مولوی لکھتا ہے
” تبلیغی جماعت پر اس وقت جاہل امراء کا قبضہ ہے اور علماءاس جماعت سے وابستہ ہیں، وہ خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں ۔شب جمعہ یااجتماعات میں جہلاء بیان کرتے ہیں جس سے عقائد خراب ہو رہےہیں‘‘۔ (کلمۃ الہادی :ص ۳۹،۳۸ تقریز ۱۰)
اب آئیے ان تینوں اقتباسات پر کچھ عرض کرتے ہیں
سنی تبصرہ: - دیوبندیوں کی بے حسی اور علمی ناکامی
دیوبندیوں کی جانب سے تبلیغی جماعت پر کیے گئے یہ اعتراضات دراصل اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہیں۔ یہ تینوں اقتباسات دیوبندیوں کے تضاد، بے حسی، اور علم کی کمی کی عکاسی کرتے ہیں، جو ان کی داخلی کمزوریوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
**1. جاہل قیادت کی حقیقت:**
دیوبندیوں کا یہ کہنا کہ "تبلیغی جماعت پر جاہل امراء کا قبضہ ہے" درحقیقت ان کی اپنی جماعت کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ بات نہیں کہ ان کی اپنی صفوں میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو علم کی کمی کے باعث دین کو بدنام کر رہے ہیں؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیوبندیوں کی جماعت میں علم کی کمی کا مسئلہ نہ صرف تبلیغی جماعت میں، بلکہ خود ان کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔
**2. علماء کی خاموشی:**
جب دیوبندی علماء اپنی جماعت کی کمزوریوں پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں تو یہ ان کی اپنی ناکامی کی ایک واضح علامت ہے۔ اگر ان کے نزدیک تبلیغی جماعت کی خامیاں ہیں تو پھر وہ خود اس خامی کا حصہ کیوں ہیں؟ کیا یہ علماء اپنے معاشرے میں علمی رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں؟
*اندرونی تنازعات کی عکاسی:* علماء کی خاموشی دراصل ان کے درمیان موجود اندرونی تنازعات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اگر ایک طرف وہ تبلیغی جماعت کے افراد کی غلطیوں پر خاموش ہیں تو دوسری طرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے اندر بھی ایک دوسرے کے نظریات یا طریقوں سے متفق نہیں ہیں۔ یہ اندرونی تضاد ان کی جماعت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔
*اجتماعی تشخیص کی کمی:* اگر علماء تبلیغی جماعت کے افراد کی کمزوریوں کو دیکھ کر خاموش ہیں، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اجتماعی تشخیص کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر ان کے اندر یہ صلاحیت ہوتی کہ وہ جماعت کے افراد کی خامیوں کی نشاندہی کریں اور ان کی اصلاح کریں، تو وہ اس مسئلے کا حل پیش کرنے میں کامیاب ہو سکتے تھے۔ لیکن ان کی خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ صرف تنقید پر اکتفا کر رہے ہیں، اور اصلاح کی کوئی کوشش نہیں کر رہے۔
**3. افراد کا کردار اور جماعت کی حیثیت:**
شیخ الطاف الرحمٰن بنوی صاحب کا یہ کہنا کہ "انفرادی رویہ جماعتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے" اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دیوبندیوں کے نزدیک جماعت کا وجود افراد ہی سے ہے۔ اگر واقعی جماعت کوئی الگ چیز ہے، تو افراد کے رویوں پر اظہار برہمی اور برات کیوں نہیں کیا جاتا؟ یہ سوال ان کی جماعت کے اندرونی تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔ کیا یہ علماء اپنی جماعت کی حیثیت کو بچانے کے لیے اپنے افراد کے غلط رویوں کو نظر انداز کر رہے ہیں؟
**4. اجتماعات میں جہلاء کی تقاریر:**
دیوبندیوں کا یہ کہنا کہ "اجتماعات میں جہلاء بیان کرتے ہیں" یہ خود ان کی علم و دانش کی شکست کو بیان کرتا ہے۔ اگر واقعی ان کے اپنے علماء تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں جا کر صحیح علم کی باتیں کر رہے ہوتے، تو یہ مسئلہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ یہ تبصرہ دراصل ان کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ معاشرتی اصلاح کی بجائے صرف تنقید پر اکتفا کر رہے ہیں۔
**5. عقائد کی خرابی:**
دیوبندیوں کی اس بات میں بھی کھلا تضاد ہے کہ وہ اپنے ماضی کے عقائد اور روایات کی مضبوطی کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہیں۔ کیا ان کے عقائد میں اتنی مضبوطی ہے کہ وہ خود اپنی جماعت کے افراد کی رہنمائی کر سکیں؟ جب وہ تبلیغی جماعت پر الزام لگاتے ہیں کہ "عقائد خراب ہو رہے ہیں"، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کے اپنے عقائد میں اتنی قوت ہے کہ وہ اپنی جماعت کو ان کی خرابی سے بچا سکیں؟
### نتیجہ:
یہ تینوں اقتباسات دیوبندیوں کی علمی اور اخلاقی کمزوریوں کو عیاں کرتے ہیں۔ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش میں مصروف ہیں، جبکہ خود ان کے اندر بھی یہی مسائل موجود ہیں۔ اگر دیوبندی اپنی جماعت کی اصلاح کرنے میں ناکام ہیں تو انہیں دوسروں پر انگلی اٹھانے کا حق نہیں۔ ان کے اپنے اندر موجود جہالت اور علمی نقصانات کو پہلے تسلیم کرنا چاہیے، تاکہ وہ کسی دوسرے پر تنقید کرنے کی اخلاقی حیثیت حاصل کر سکیں۔
✍️ .... از ........ جاوید رضا خان


India (UP)
ReplyDeleteماشاءاللہ بہت خوب
ReplyDeleteاللہ پاک دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے آمین ثم آمین
Pakistan , Sialkot
🌹इंडिया🌹
ReplyDelete🤲🤲🤲