محترم قارئین کرام!
تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی کی وہ کتاب ہے جس پر یوں تو دیوبندی وہابی بہت فخر کرتے ہیں، مگر یہ کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو دیوبندیوں وہابیوں بلکہ خود اسماعیل دہلوی کے بھی گلے کی ہڈی ہے جو دیوبندیوں وہابیوں سے نہ نگلے بنے نہ اگلے بنے۔ جس کی ایک جھلک آپ اس تحریر میں ملاحظہ فرمانے والے ہیں۔
❌ اسماعیل دہلوی کہتا ہے:
"نہ اللہ کے سوا کسی کو حاکم سمجھئے کہ کسی چیز میں کچھ تصرف کرتا ہے، نہ کسی کو اپنا مالک ٹھہرائے۔"(تقویۃ الایمان، ص46)
⚡ یہ عبارت نہ صرف قرآن و حدیث کی مخالفت ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کے مقامِ عظیم کی کھلی توہین بھی ہے۔ آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس گمراہ نظریے کا رد کرتے ہیں:
---
📖 قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
💡 ترجمہ:
تو اے حبیب! تمہارے رب کی قسم، یہ لوگ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنالیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے کوئی رکاوٹ نہ پائیں اوراچھی طرح دل سے مان لیں
❓ سوال:
اسماعیل دہلوی کے مطابق نبی کریم ﷺ کو حاکم ماننا شرک ہے، جبکہ قرآن واضح طور پر آپ ﷺ کو فیصلے کا اختیار اور امت کا حاکم قرار دے رہا ہے۔ تو دہلوی کے اس عقیدے کو کیا کہا جائے؟
---
📖 ایک اور آیتِ کریمہ:
"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ..."
(سورۃ الاحزاب، 6)
💡 ترجمہ:
"نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں۔"
❓ سوال:
قرآن نبی کریم ﷺ کو مؤمنین کی جانوں پر اولیٰ (اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں اور اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ دنیا اور دین کے تمام اُمور میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم مسلمانوں پر نافذ اور آپ کی اطاعت واجب ہے ) کہتا ہے، جبکہ دہلوی نبی کریم ﷺ کو مالک ماننے سے انکار کرتا ہے۔ کیا یہ دہلوی کا قرآن سے کھلا انکار نہیں؟
---
📜 حدیث مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اَنَا اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ..."
(بخاری، کتاب الکفالۃ، حدیث: 2298)
💡 ترجمہ:
"میں تمام مؤمنین کا خود ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہوں۔"
❓ سوال:
نبی کریم ﷺ نے اپنے مقامِ مختار و مالک کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔ اسماعیل دہلوی کا انکار نہ صرف اس حدیث کا انکار ہے بلکہ یہ حضور ﷺ کے مقامِ عظیم کی بے ادبی بھی ہے.
---
🔥 دیوبندیوں کے لیے سوالات
1️⃣ اسماعیل دہلوی قرآن کی ان آیات کو کس نظر سے دیکھتا ہے جو نبی کریم ﷺ کو مؤمنین کا مالک و مختار اور حاکم قرار دیتی ہیں؟
2️⃣ کیا دہلوی کا یہ عقیدہ قرآن و سنت کی مخالفت اور گمراہی نہیں؟
3️⃣ اگر نبی کریم ﷺ کو مالک و مختار ماننا شرک ہے تو اللہ نے کیا شرک کی تعلیم فرمائی؟
⚔️ خلاصہ:
اسماعیل دہلوی کا نظریہ نہ صرف قرآن و حدیث کی مخالفت ہے بلکہ یہ امت کو نبی کریم ﷺ سے دور کرنے کی سازش ہے۔ اس گمراہی کو رد کرنا ہر سنی مسلمان پر فرض ہے۔
📌 نوٹ: دیوبندی حضرات سے گزارش ہے کہ حق کو تسلیم کریں اور اس گمراہ نظریے سے توبہ کریں۔ ورنہ قیامت کے دن ان عقائد کا جواب دینا ہوگا۔
🌟 یہی ہے سنیوں کا عقیدہ:
نبی کریم ﷺ اللہ کے عطا سے مختارِ کُل، مؤمنین کے مالک اور ہمارے ہر فیصلے کے حاکم ہیں۔
✍️ جاوید رضا خان سنی حنفی
•┈┈┈••┈┈┈••✦✿✦••┈┈••┈┈┈•

