ناظرین کرام! ویسے تو المہند جھوٹ کا پلندہ ہے اس کے کتنے جھوٹ گنوائے. ابھی ہم اپنے ناظرین کو یہ دکھانا چاہتے ہیں المہند میں خلیل احمد انبیٹھوی،نے مولوی اشرف علی تھانوی کی گستاخانہ عبارت کو کیسے بدل کر علماء حرمین شریفین کے علماء کے سامنے پیش کیا جس کا اقرار مولوی ابوالحسن زید فاروقی صاحب نے کیا ملاحظہ فرمائیں
مولوی ابوالحسن زید فاروقی صاحب لکھتے ہیں :
” کسی صاحب نے ۱۳۲۵ ھ میں رسالہ ” الْمُهَنَّدُ “ لکھا ہے ۔ علمائے دیو بند کی ان عبارتوں کو جن پر فریق ثانی کو اختلاف ہے، اس رسالہ میں عربی میں بیان کیا ہے، تا کہ ان کی صحت اور عدم صحت کے متعلق علمائے اسلام کی رائے لی جاسکے۔ عاجز کو نہ ان باتوں سے تعلق ہے، اور نہ اس رسالہ کا ذکر کرتا، اگر مؤلف "بزم جمشید جارحیت نہ کرتا۔ لہٰذا عاجز صرف حفظ الایمان کی تعریب اور پھر اس کے ترجمہ کا جائزہ لیتا ہے۔ ” الْمُهَنَّدُ “ نے حفظ الایمان کی عبارت کو ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔" اس غیب سے مراد کیا ہے، یعنی غیب کا ہر ہر فرد یا بعض غیب ، کوئی کیوں نہ ہو۔ پس اگر بعض غیب مراد ہے تو رسالت مآب ﷺ کی تخصیص نہ رہی۔ کیونکہ بعض غیب کا علم اگر چہ تھوڑا سا ہو، زید و عمرو بلکہ ہر بچہ اور دیوانہ، بلکہ جملہ حیوانات اور چو پاؤں کو بھی حاصل ہے۔ اور اسی عبارت کو عربی جامہ پہنایا ہے۔ رسالہ ” حفظ الایمان “ میں جو عبارت ہے یہ عاجز نقل کر چکا ہے۔ دونوں عبارتوں کے الفاظ میں بڑا فرق ہے اور خرابی کی جڑ کلمہ ایسا کو معرب مترجم صاحب نے حذف کر دیا ہے۔ عبارت کو انہی الفاظ سے جو حفظ الایمان میں ہیں، نہ لکھنا اور خرابی کی جڑ کو حذف کرنا، ظاہر کر رہا ہے کہ خود معرب و مترجم کو پورا کھٹکا تھا کہ اگر وہی الفاظ بیان کیے گئے ، اور انہیں کو عربی کا لباس پہنایا گیا، تو یقینا علمائے کرام کی آراء موافقت میں نہیں آئیں گی۔
عبارت کا بدلنا: معرب و مترجم صاحب اس کو دیکھیں کہ یہ رسالہ ” حفظ الایمان ۱۳۱۹ ھ میں لکھا گیا۔ بے شمار بندگانِ خدا کے قلوب مجروح ہوئے ، ان کے دلوں پر مرہم رکھنے کے لیے ۱۳۲۹ ھ میں ” بسط البنان“ کا ظہور ہوا، جس کی عدم افادیت کااظہار حضرت سیدی الوالد قدس سرہ نے ان الفاظ میں فرمایا: تمہارے اس رسالہ کو پڑھ کر کتنے لوگ گمراہ ہوئے ، ہم دوسرے رسالہ کو لے کر کیا کریں؟“۔اللہ کے ایک ولی کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے، بھلا کس طرح رائیگاں جاتے ۔ ان کا اثر ہوا، اور کامل اثر ہوا۔ آپ کی وفات کے بعد ۱۳۴۲ ھ میں خود مؤلف نے اس گندی عبارت کا خاتمہ کر دیا، اور رسالہ "تغییر العنوان “ میں صراحت کے ساتھ لکھ دیا: ” اس طرح بدلتا ہوں اور اس طرح پڑھا جائے ۔ مترجم صاحب خیال فرمائیں کہ ایک معمولی رسالہ کے واسطے اتنی دردسری کیوں مول لی جا رہی ہے کہ خود مؤلف اس کی وضاحت کے واسطے پہلے رسالہ بسط البنان“ لکھتے ہیں ۔ اور پھر مجبور ہو کر رسالہ ” تغییر العنوان“ لکھ کر عبارت بدلتے ہیں اور معرب و مترجم صاحب بھی اس گندی عبارت کی اصلاح کر کے عالم اسلام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ بہر حال جس دن سے مؤلف نے اپنی عبارت کو بدلا، حفظ الایمان کو اس گندی عبارت سے چھاپنا شرعاً واخلاقا جائز نہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس قسم کے رسائل کو پڑھ کر جن لوگوں کی ذہنیت بدل گئی ہے ، ان کو اس گندی عبارت میں جو لطف آتا ہے، وہ اصلاح شدہ عبارت میں نہیں آتا۔ لہذا وہ اسی پہلی گندی عبارت میں اس کو چھاپ رہے ہیں “
( مقامات خیر صفحہ ۲۴۵، ۲۴۶، مطبوعہ شاه ابوالخیر اکاڈمی ، درگاه حضرت شاہ ابوالخیر، شاہ ابوالخیر مارگ، دیلی نمبر ۶ - بارد وم ۱۴۰۹/ ۱۹۸۹ء)
قارئین! آپ نے ملاحظہ کیا کہ شاہ ابوالحسن زید فاروقی دہلوی نے بھی یہی بات کی ہے کہ مولوی خلیل انبیٹھوی دیوبندی نے ” الْمُهَند“ میں دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے ۔ حالانکہ ان کو علماے اہل سنت و جماعت بریلی سے نہ تو فخر تلمذ حاصل ہے، اور نہ ہی کسی طرح کی رشتہ داری یا شرف بیعت وارادت ہے ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاہ ابوالحسن زید فاروقی دہلوی ، علمائے دیو بند کے شاگرد تھے ، مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی کے شاگرد مولوی عبدالعلی میرٹھی اور دیو بندی شیخ الہند محمود حسن کے داماد مولوی محمد شفیع دیو بندی ان کے اُستاذ تھے۔ علمائے دیو بند کے ساتھ شاہ ابوالحسن زید فاروقی اور ان کے والد شاہ ابوالخیر کے خوشگوار تعلقات کی تفصیل مشہور دیو بندی پیر نفیس الحسینی نے اپنی کتاب ” حکایت مہر و وفا میں بیان کی ہے۔ لیکن ان خوشگوار تعلقات کے باوجود بھی اُنہوں نے مقامات خیر میں حفظ الایمان اور براہین قاطعہ کی عبارات کو گستاخانہ قرار دیا ہے۔
ہوسکتا ہے کوئی دیوبندی کہے کہ یہ ابو الحسن زید فاروقی کو کیوں پیش کیا گیا . تو اس پہلے ہی سن لیں دیوبندی لئیق نے خود اپنی کتاب میں لکھا دیا کہ
لکھا ہے
"رہی بات مولانا ابوالحسن زید فاروقی صاحب کی طرف سے کفر کا فتویٰ یا گمراہی کا فتویٰ یہ بھی اس رضاخانی کا دجل و فریب ہے اس لیے ہم کتاب کے شروع میں نقل کرچکے ہیں کہ موصوف تو علمائے دیوبند کے زبردست حامی ہیں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی و مولانا قاسم نانوتوی کو اولیاء امت میں شمار کرتے ہیں"
(کشف الخداع، ص 283)
لہٰذا دیوبندی لئیق کے اس حوالے سے پتا چلا کہ مولوی ابوالحسن زید فاروقی صاحب علمائے دیوبند کے زبردست حامی ہیں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی و مولانا قاسم نانوتوی کو اولیاء امت میں شمار کرتے ہیں. حوالے اور بھی ہیں وقت آنے پر پیش کردوں گا ______ ان ساری باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ المہند میں خلیل احمد انبیٹھوی نے کیسے اشرف علی تھانوی کی گستاخانہ عبارت کو بدل کر دجل و فریب کیا اور حرمین کے علماء کو دھوکہ دیا جس کا انکشاف مولوی ابوالحسن زید فاروقی صاحب سے ثابت ہو گیا۔
✍️ ...................... از جاوید رضا خان

