مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ پر دیوبندیوں کی طرف سے کیے گئے اعتراض کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

1

 



حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں

 ” بعض بعض کلمات نحوی قاعدے کے خلاف معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ پڑھے ویسے ہی جاتے ہیں جیسے کہ ثابت ہوچکے. مثلاً عليه الله ماانسانيه لنسفعاً وغيرہ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے “ (تفسیر نعیمی ص20)


اس عبارت پر دیوبندیوں نے اپنے طارق مسعود دیوبندی کی گستاخی کو چھپانے کے لیے پیش کرکے اعتراض کردیا کہ یہ بھی گستاخی ہے اس پر بھی لگاؤ  فتویٰ


ساجد خان نقلبندی اور اس کے گود میں بیٹھ کر بک بک کرنے والوں کو چاہیے تھا کہ جو دیوبندی مفتی طارق مسعود نےجو  غلط بیانی سے کام لیا اس کا جواب دیتے اسکا دفاع کرتے یا اس سے براءت کا اعلان کرتے لیکن ان وہابیوں دیوخانیوں نے ایسا نہیں کیا الٹا اہل سنت و جماعت کے ایک جید عالم دین مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ پر اعتراض کردیا کہ انہوں نے بھی گستاخی.طارق مسعود اگر گستاخ ہوئے تو مفتی احمد یار خان نعیمی پر بھی لگاؤ فتویٰ۔


اب مفتی صاحب نے جو لکھا ہے ہم اس کا جواب تفصیل سے پیش کرتے ہیں اور ساجد خائن دیوخانی اور اس کے دم چھلے دیوبندیوں سے کہتے ہیں تم ایسے علمی یتیم ہو کہ تمہیں عبارت سمجھ نہیں صلاحیت نہیں اور چلے ہو اہل سنت سے ٹکرانے آئیے اب تفصیلی جواب ملاحظہ کریں


قرآن مجید میں بعض مقامات پر کلمات بظاہر نحوی قاعدے کے خلاف معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کا ایک مستند جواب موجود ہے۔ علماء نحو اور مفسرین نے اس کی وضاحت یوں کی ہے:


1. عربی زبان کی وسعت :  قرآن مجید فصیح ترین عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس میں وہ سب زبان کے اسالیب اور طریقے موجود ہیں جو اہل زبان میں رائج تھے۔ عربی زبان ایک وسیع اور جامع زبان ہے جس میں مختلف اسالیب کو اپنانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایسے اسالیب بھی استعمال ہوتے ہیں جو عام قواعد کے خلاف معلوم ہوتے ہیں، مگر عربی کے اہل زبان کے نزدیک وہ معتبر اور فصیح سمجھے جاتے ہیں۔


2. قرآن کی بلاغت :  قرآن کا اسلوب کلام عام کتابوں سے مختلف ہے۔ اس میں بعض مواقع پر بلاغت اور فصاحت کی وجہ سے کلمات کو نحوی قاعدے سے ہٹ کر رکھا جاتا ہے، لیکن وہ زبان کی اعلیٰ سطح پر درست اور موزوں ہوتے ہیں۔


3. لغوی استعمال :  قرآن میں کچھ الفاظ اور ترکیبات ایسی ہیں جو قدیم عربوں کی مخصوص بولی اور لہجوں کا حصہ تھیں۔ بعد کے نحوی اصول ان لہجوں کو مکمل طور پر جامع نہیں کر پاتے، اس لیے ہمیں وہ قاعدے سے مختلف محسوس ہو سکتے ہیں، مگر اصل عربی زبان میں وہ درست ہوتے ہیں۔


4. نحوی اصول کی تشریح :  بعض مقامات پر ایسا ہوتا ہے کہ نحوی اصول کی بنیاد پر ایک عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے، لیکن اس قاعدے میں کئی استثناءات بھی ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں انہی استثناءات کا استعمال ملتا ہے جو نحوی اصول کے خلاف نہیں بلکہ اس کا حصہ ہیں۔


لہذا، جب قرآن کے کسی مقام پر کوئی لفظ بظاہر نحوی قاعدے کے خلاف نظر آتا ہے، تو ضروری ہے کہ اس کی لغوی، تاریخی اور بلاغی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے۔ مفسرین اور نحوی علماء نے ان تمام مقامات کی تفصیل سے وضاحت کی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ کلمات نہ صرف فصیح ہیں بلکہ نحوی قاعدے کی گہرائیوں کو سمجھنے والے اہل علم کے نزدیک بالکل درست ہیں۔


اب آئیے ہم ان چاروں پوئنٹس پر تفصیلی بحث کرتے ہیں. اور دیوبندیوں کی جہالت کو واضح کریں گے کہ یہ واقعی علمی یتیم ہے


عربی زبان کی وسعت

 (پوائنٹ نمبر 1)

قرآن مجید میں جو بظاہر نحوی قواعد سے ہٹے ہوئے الفاظ نظر آتے ہیں، وہ دراصل عربی زبان کی وسعت اور اس کی لسانی خصوصیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ عربی زبان دنیا کی قدیم ترین اور وسیع زبانوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں مختلف اسالیب، لہجے اور طریقے پائے جاتے ہیں۔ قرآن مجید کا اسلوب اس زبان کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے، اور یہ اس زبان کی فصاحت، بلاغت، اور گہرائی کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔


قرآن مجید کی عربی اور اس کے مختلف اسالیب:


عربی زبان میں مختلف اسالیب اور انداز بیان پائے جاتے ہیں، جنہیں قرآن مجید نے اپنی فصاحت میں استعمال کیا ہے۔ ان میں بعض الفاظ اور تراکیب عام قواعد کے مطابق نہیں ہوتے، لیکن وہ زبان کی وسعت کا حصہ ہوتے ہیں۔


 مثالیں:


1. **سورہ یوسف (12:82):**

   "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا"


   یہاں "الْقَرْيَةَ" (بستی) کا لفظ استعمال ہوا ہے، حالانکہ نحوی قاعدے کے مطابق "بستی" سے مراد جاندار نہیں ہوتی جس سے سوال کیا جائے۔ اس موقع پر "اہلِ قریہ" (بستی کے لوگ) کہا جانا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔


   **وضاحت**: عربی زبان میں "مجاز" کا استعمال عام ہے، جہاں کسی چیز کے ذکر سے اس کے متعلقہ افراد یا اشیاء مراد لی جاتی ہیں۔ یہاں "بستی" سے مراد "بستی کے لوگ" ہیں، اور یہ عربی اسلوب میں ایک معروف طرز بیان ہے جو عربوں کی فصاحت کا حصہ تھا۔ قرآن میں یہ اسلوب کثرت سے استعمال ہوا ہے اور عربوں کے لیے یہ بالکل واضح تھا۔


2. **سورہ طہ (20:55):**

   "مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ"


   یہاں "فِيهَا" (اس میں) زمین کے لیے استعمال ہوا ہے، حالانکہ زمین کے لیے مؤنث کا صیغہ استعمال کرنا بظاہر عجیب محسوس ہو سکتا ہے کیونکہ نحوی قاعدے کے مطابق غیر جاندار چیزوں کے لیے عام طور پر مذکر صیغہ استعمال ہوتا ہے۔


   **وضاحت**: عربی زبان میں غیر جاندار اشیاء کے لیے بعض اوقات مؤنث کا صیغہ بھی استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب اس شے کو بلاغتی اعتبار سے اہمیت دی جا رہی ہو۔ یہاں زمین کو مؤنث کے طور پر بیان کرنے کا مقصد اس کے ساتھ خاص تعلق اور اہمیت کو واضح کرنا ہے، جو قرآن کی بلاغت کی ایک مثال ہے۔


3. **سورہ النساء (4:43):**

   "إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ"


   یہاں جملے کا ظاہری نحوی ترتیب بظاہر یہ ہونا چاہیے کہ "اللہ" فاعل ہو اور "الْعُلَمَاءُ" مفعول ہو، لیکن آیت میں "الْعُلَمَاءُ" فاعل بنایا گیا ہے۔


   **وضاحت**: عربی زبان میں کلام کا اسلوب بدلنا اور اس کو زیادہ موثر اور بلیغ بنانا ایک معروف طرز ہے۔ اس آیت میں "يَخْشَى" کا فاعل "الْعُلَمَاءُ" بنایا گیا تاکہ یہ واضح ہو کہ حقیقی خشیت اللہ سے وہی رکھتے ہیں جو علم والے ہیں۔ یہ بلاغت کی ایک بہترین مثال ہے جو نحوی قواعد کے دائرے میں آتی ہے لیکن قرآن کی فصاحت اور اثر کو بڑھاتی ہے۔


 خلاصہ:


عربی زبان کی وسعت اور اس کے مختلف اسالیب کے باعث قرآن مجید میں بظاہر نحوی قواعد سے مختلف کلمات نظر آتے ہیں۔ یہ درحقیقت عربی زبان کے خاص اسالیب اور طرز بیان کا حصہ ہیں جنہیں قرآن نے اپنی اعلیٰ بلاغت اور فصاحت کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔


قرآن کی بلاغت (پوائنٹ نمبر 2)


قرآن مجید کا اسلوب عام کلام سے مختلف اور منفرد ہے۔ اس کی بلاغت اور فصاحت زبان کی عمومی نحوی قیود سے بالاتر ہے، اور اس میں ایک خاص ترتیب، حسن اور گہرائی موجود ہے جو قاری کو متوجہ کرتی ہے۔ کبھی قرآن میں نحوی اصولوں سے بظاہر ہٹ کر الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کلام کی فصاحت، معنوی گہرائی اور اثر کو زیادہ کیا جا سکے۔ یہ نہ صرف اہل زبان بلکہ ہر دور کے علمائے نحو اور مفسرین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ قرآن اپنی بلاغت میں کسی بھی دوسری کتاب سے ممتاز ہے۔


 مثالیں:


1. **سورہ بقرہ (2: 286):**

   "لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا"


   یہاں جملے کا عمومی فاعل "الله" ہے اور "نفسًا" مفعول ہے، لیکن "وسْعها" (اس کی وسعت) کو عام نحوی ترتیب کے برخلاف پہلے لایا گیا ہے، حالانکہ مفعول جملے کے آخر میں ہونا چاہیے۔


   **وضاحت**: 

قرآن مجید میں یہ ترتیب اس لیے اپنائی گئی تاکہ کلام کی بلاغت اور زور کو بڑھایا جا سکے۔ یہاں مقصد اس بات پر زور دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اور اس ترتیب نے اس مفہوم کو زیادہ بلیغ اور اثر انگیز بنایا ہے۔ یہ نحوی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ ان کا بلاغت کے تحت استعمال ہے تاکہ پیغام کی قوت میں اضافہ ہو۔


2. **سورہ یٰسین (36: 9):**

   "وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا"


   یہاں "مِن بَينِ أَيدِيهِم" اور "مِن خَلفِهِم" کا ذکر ہے، لیکن نحوی ترتیب کے مطابق پہلے فعل "جعلنا" کے مفعول "سَدًّا" (روک) کا ذکر ہونا چاہیے تھا، پھر اس کی تفصیل آتی۔ مگر قرآن میں اس کے برعکس تفصیل پہلے بیان ہوئی اور پھر مفعول کا ذکر ہوا۔


   **وضاحت**:

 یہ بلاغت کی ایک معروف تکنیک ہے جسے "تقدیم و تأخیر" کہا جاتا ہے۔ اس میں قرآن نے پہلے "مِن بَينِ أَيدِيهِم" اور "مِن خَلفِهِم" کی تفصیل کو بیان کیا تاکہ قاری کے ذہن میں پہلے وہ صورتحال آ جائے جس میں یہ رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔ اس کے بعد "سَدًّا" کا ذکر کیا گیا، جو اس تفصیل کی وضاحت ہے۔ اس ترتیب سے آیت کی تاثیر اور قوت میں اضافہ ہوا ہے۔


3. **سورہ طہ (20:113):**

   "كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ"


   یہاں "من أنباء" (خبریں) کا ذکر "ما قد سبق" (جو پہلے گزر چکی ہیں) سے پہلے کیا گیا ہے، حالانکہ عربی میں عمومی طور پر "ما" کی خبر پہلے آتی ہے اور پھر اس کی تفصیل۔


   **وضاحت**: 

قرآن کی بلاغت کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ کلام میں زور اور معنی کی گہرائی کو بڑھانے کے لیے اسالیب میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ اس آیت میں "من أنباء" کو پہلے لا کر ان خبروں کی اہمیت اور ان کی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے، پھر بتایا گیا کہ یہ خبریں وہ ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں۔ اس بلاغت نے کلام کی تاثیر میں اضافہ کیا ہے اور قاری کو خبردار کیا ہے کہ ان خبروں کی اہمیت کیا ہے۔


 خلاصہ:


قرآن مجید کی بلاغت عام نحوی اصولوں پر فوقیت رکھتی ہے، اور اس کا ہر لفظ اور ترتیب خاص مقصد کے تحت رکھی گئی ہے۔ کبھی نحوی اصولوں کو توڑ کر یا ترتیب بدل کر، قرآن ایک مخصوص معنی کو زیادہ گہرائی اور زور کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ یہ بلاغت اور فصاحت ہی قرآن کو دیگر کتب سے ممتاز بناتی ہے اور اسے ہر دور میں اہل زبان کے لیے ایک معجزہ ثابت کرتی ہے۔


**لغوی استعمال اور لہجوں کی اہمیت (پوائنٹ نمبر 3)**:


قرآن مجید کا نزول ایسی زبان میں ہوا جسے "فصیح ترین عربی" کہا جاتا ہے، اور یہ زبان مختلف قبائل کے مختلف لہجوں کا مجموعہ ہے۔ قدیم عربی میں ہر قبیلہ کا اپنا ایک خاص لہجہ، تلفظ اور زبان کے قواعد تھے، اور ان میں کچھ فرق بھی ہوتا تھا۔ یہ لہجے بعض اوقات عام نحوی قاعدوں سے مختلف ہوتے تھے، لیکن وہ اہل زبان کے نزدیک صحیح اور فصیح سمجھے جاتے تھے۔


 مثالیں:


1. **سورہ طہ (20:63):**

   "إِنْ هَذَانِ لَسَاحِرَانِ"


   یہاں لفظ "هذانِ" بظاہر "هذينِ" ہونا چاہیے تھا کیونکہ نحوی قاعدے کے مطابق مثنیٰ (دو افراد کے لیے) کا اسم خبر کے طور پر منصوب ہونا چاہیے، مگر یہاں "هذانِ" مرفوع حالت میں آیا ہے، جو قاعدے کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔


   **وضاحت**: 

یہ لفظ "بنو الحارث" کے لہجے میں استعمال ہوا ہے، جہاں مثنیٰ کا رفع اور نصب دونوں ایک ہی شکل میں آتے ہیں۔ یعنی ان کے لہجے میں "هذانِ" رفع اور نصب دونوں حالتوں میں استعمال ہوتا تھا۔ عرب کے دیگر قبیلوں میں یہ قاعدہ مختلف تھا، لیکن بنو الحارث اور کچھ دیگر قبائل کے نزدیک یہ بالکل فصیح اور درست تھا۔


2. **سورہ بقرہ (2:177):**

   "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ"


   یہاں "الصَّابِئِينَ" منصوب حالت میں آیا ہے، حالانکہ نحوی قاعدے کے مطابق اسے مرفوع ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ "إنَّ" کے اسم کے تابع ہے۔


   **وضاحت**:

 یہ لفظ بعض عرب قبائل کی مخصوص لغوی عادت کے مطابق استعمال ہوا ہے جہاں مخصوص حالات میں مرفوع اور منصوب الفاظ میں تغیر واقع ہوتا تھا۔ اس کا مقصد بلاغت اور توازن پیدا کرنا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید مختلف عربی لہجوں کی خوبصورتی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔


3. **سورہ حجرات (49:9):**

   "فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي"


   یہاں لفظ "التي تبغي" (جو زیادتی کر رہی ہے) استعمال ہوا ہے، جو کہ مؤنث (عورت کے لیے) کا صیغہ ہے، جبکہ یہاں مراد دو گروہ ہیں جو کہ مذکر ہیں۔


   **وضاحت**:

 بعض قبائل میں مثنیٰ یا جمع کا استعمال مؤنث صیغے میں کیا جاتا تھا، اور یہ لہجہ اہل عرب میں معروف تھا۔ لہذا، یہاں لفظ "التي" کا استعمال بلاغت اور فصاحت کی ایک مثال ہے، جو مخصوص قبائل کی لغوی عادات کے مطابق ہے۔


خلاصہ:

قرآن مجید میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ یا ترکیبات مخصوص عربی لہجوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ لہجے اس زمانے کے مختلف قبائل میں رائج تھے اور ان کے اہل زبان کے لیے فصیح سمجھے جاتے تھے۔ قرآن نے ان لہجوں کا استعمال اس کی فصاحت اور بلاغت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے کیا ہے۔


**نحوی اصول کی تشریح اور استثناءات (پوائنٹ نمبر 4)**


عربی زبان کے نحوی اصول عام طور پر قواعد کے طور پر وضع کیے گئے ہیں، لیکن ان اصولوں میں بعض استثناءات بھی موجود ہیں جو عربوں کے لسانی اسلوب میں رائج تھے۔ یہ استثناءات قواعد کے ساتھ ساتھ اہل زبان کے استعمالات کے مطابق ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی کوئی بظاہر نحوی قاعدے سے مختلف چیز نظر آتی ہے، وہ دراصل انہی استثناءات یا عربی زبان کے وسیع قواعد کا حصہ ہوتی ہے۔


 مثالیں:


1. **سورہ نساء (4:162):**

   "لَكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ"


   یہاں لفظ "لَكِنِ" آیا ہے، جو کہ عربی میں عام طور پر "لَكِنَّ" ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس کے بعد اسم مرفوع ہوتا ہے اور "لَكِنَّ" نصب کا تقاضا کرتا ہے۔ یہاں "لَكِنِ" استعمال کیا گیا، حالانکہ یہ مخفف شکل عام طور پر جملے کے اندر استعمال نہیں ہوتی۔


   **وضاحت**:

 یہ اسلوب عربی زبان کے قدیم قبائل میں مستعمل تھا جہاں "لَكِنَّ" کی تخفیف کرکے "لَكِنِ" کا استعمال ہوتا تھا۔ یہ استثناء کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس سے کلام میں کوئی خلل نہیں آتا تھا۔ قرآن مجید نے عربوں کے اس معروف اسلوب کو اپنایا تاکہ فصاحت و بلاغت کا پہلو برقرار رہے۔ یہ نہ صرف نحوی قاعدے کا حصہ ہے بلکہ اس کی ایک قابل قبول استثناء بھی ہے۔


2. **سورہ کہف (18:77):**

   "فَانْطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا"


   اس جملے میں "يُضَيِّفُوهُمَا" کے بجائے عام طور پر "يُضِيفُوهُمَا" ہونا چاہیے تھا، کیونکہ "يُضَيِّفُ" کا وزن "فَعَّلَ" کے تحت آتا ہے جو زیادہ تر مبالغہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


   **وضاحت**:

 یہ لفظ بھی ان استثناءات میں شامل ہے جو عربی کے بعض لہجوں میں استعمال ہوتا تھا۔ یہاں "يُضَيِّفُ" کا استعمال معمول کے قاعدے کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ عربی زبان کے بعض مخصوص قبائل کا معروف اسلوب تھا، جو قرآن مجید نے اپنایا تاکہ ان قبائل کے لیے قرآن فصیح اور بلیغ محسوس ہو۔


3. **سورہ حاقہ (69:10):**

   "وَأَمَّا ثَمُودُ فَهُدِينَاھُم"


   یہاں لفظ "ھُم" کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ قاعدے کے مطابق "فَهُدَينَاهُم" ہونا چاہیے تھا، یعنی "ھ" کے ساتھ ضمیر کے بعد "الف" بھی استعمال ہونا چاہیے۔


   **وضاحت**: 

عربی زبان کے قدیم لہجوں میں کبھی کبھار ضمائر کے ساتھ تخفیف کا اصول اپنایا جاتا تھا، خاص طور پر شاعری اور فصاحت میں۔ قرآن مجید میں اس تخفیف کا استعمال بھی بلاغت کا ایک پہلو ہے، جو اسلوب کے ساتھ ساتھ معنوی وضاحت کو بھی زیادہ موثر بناتا ہے۔ یہ استثناءات عربی زبان کے وسیع تر اصولوں کا حصہ تھے اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔


 خلاصہ:

قرآن مجید میں جہاں کہیں نحوی اصولوں سے بظاہر کوئی اختلاف نظر آتا ہے، وہ درحقیقت انہی اصولوں کے استثناءات یا عربی زبان کی وسعت کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ استثناءات عربوں کے قدیم لہجوں اور اسالیب میں مستعمل تھے اور انہیں عربی زبان کے اہل علم اور نحوی علماء نے تسلیم کیا ہے۔ قرآن مجید میں ان استثناءات کو استعمال کرکے نہ صرف فصاحت و بلاغت کو بڑھایا گیا ہے، بلکہ مختلف قبائل کی زبانوں کو بھی اپنایا گیا تاکہ یہ کلام ہر عربی بولنے والے کے لیے فصیح اور معجزہ ہو۔


الحمدللہ ہماری اس تفصیلی بحث سے قارئین کو پتا چل گیا ہوگا کہ ساجد خان نقلبندی اور کے دم چھلے جو مفتی صاحب پر بک بک کررہے تھے اس اعتراض سے مفتی صاحب کا دامن بالکل پاک ہے اور آپ کی عبارت میں کوئی گستاخی نہیں. بلکہ گندھ دیوبندیوں کی بند عقل میں بھرا ہوا ہے خود گستاخ ہے اور اپنی گستاخی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسرے کو گستاخ کا الزام دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو مسلک حق اہل سنت و جماعت پر قائم رکھے اور اسی پر ہمارا خاتمہ بالخير عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین


✍️ ....از         جاوید رضا خان


--------✃-----------------------✁-----------



Post a Comment

1Comments
Post a Comment