محسنِ انسانیت ﷺ اور آج کا معاشرہ از: محمد رمضان رضا ماتریدی

0




از: محمد رمضان رضا ماتریدی

ماتریدی ریسرچ سینٹر،مالیگاؤں 


اللہ رب العزت نے اس کائنات کو پیدا فرمایا. اس کا سب سے حسین تحفہ، سب سے قیمتی سرمایہ اور سب سے بڑی نعمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت انسانیت کے حق میں وہ احسانِ عظیم ہے جس کی مثال نہ ماضی میں ملتی ہے نہ مستقبل میں ملے گی۔


جب دنیا کے چہرے پر ظلمت کی دھول جم چکی تھی، جب انسانیت لہو لہان تھی، جب طاقتور کی تلوار ہی قانون تھی، اور جب بچیوں کو زندہ دفن کر دینا باعثِ فخر سمجھا جاتا تھا، تب رحمتِ دو عالم ﷺ انسانی قدروں کو تحفظ فراہم کیا۔ مصطفی جان رحمت ﷺ کی آمد اندھیروں میں روشنی، ناانصافیوں میں عدل، نفرتوں میں محبت، اور جہالت میں علم کا چراغ لے کر آئی۔


یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کو قرآن نے "رحمۃً للعالمین" قرار دیا۔ آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ انسان، حیوان، چرند، پرند، حتیٰ کہ کائنات کی ہر شئے اس سے فیض یاب ہوئی۔ نبی کریم ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ انسان کو انسان کی حیثیت سے عزت دی جائے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:


*"إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الأَخْلَاقِ"*

"مجھے بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ اخلاق کی بلندی کو مکمل کروں۔"


حضور اکرم ﷺ نے دنیا کو یہ سکھایا کہ سب انسان برابر ہیں، نہ عربی کو عجمی پر فضیلت ہے، نہ گورے کو کالے پر؛ فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کو عزت دی، غلاموں کو آزاد کرایا، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا، اور عدل و انصاف کو معاشرے کی بنیاد بنایا۔


لیکن افسوس آج کا معاشرہ انہی تعلیمات کو فراموش کر بیٹھا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ نفرتیں عام ہیں، بھائی بھائی کا دشمن ہے، سیاست مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گئی ہے، نوجوان نشے اور فحاشی کی دلدل میں اتر گئے ہیں۔


اگر آج کے انسان کو سکونِ قلب چاہیے، اگر معاشرے کو امن اور عدل درکار ہے، اگر دنیا ظلم، فساد اور نفرت سے پاک ہونا چاہتی ہے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ وہ محسنِ انسانیت ﷺ کی سیرت سے رشتہ جوڑ لے۔ حضور اکرم نور مجسم ﷺ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ کس طرح والدین کے حقوق ادا کیے جائیں، کس طرح غریبوں کے ساتھ شفقت کی جائے، کس طرح عورت کو عزت بخشی جائے، اور کس طرح انسانیت کے ساتھ محبت اور امن قائم کیا جائے۔


آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کو صرف زبانی نعرہ نہ بنائیں بلکہ اپنے گھروں، اپنے بازاروں، اپنے تعلیمی اداروں اور اپنی سیاست میں اسے زندہ کریں۔ کیونکہ جس معاشرے نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنایا وہ دنیا پر چھا گیا، اور جو معاشرہ ان تعلیمات سے منہ موڑتا ہے وہ ذلت و رسوائی کا شکار ہوجاتا ہے۔


آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم حقیقی ترقی اور سکون چاہتے ہیں تو ہمیں پھر سے محسنِ انسانیت ﷺ کی طرف لوٹنا ہوگا۔ کیونکہ آپ ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جن کی سیرت ہر دور اور ہر زمانے کے لیے کامل رہنمائی ہے۔





Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)