انا کی غیر محسوس تباہ کاریاں

0

 

از: محمد رمضان رضا ماتریدی 

(ماتریدی ریسرچ سینٹر،مالیگاؤں) 


انسان کی فطرت میں عزتِ نفس، خودداری اور وقار جیسی صفات فطری طور پر موجود ہیں۔ یہ خوبیاں اگر اعتدال میں رہیں تو شخصیت کو وقار عطا کرتی ہیں، مگر جب یہی خوبیاں حد سے تجاوز کر جائیں اور عاجزی کی جگہ غرور، مشورے کی جگہ ضد، اور سچائی کی جگہ خودپسندی لے لے، تو یہی خوبیاں "انا" کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اور یہی انا انسان کو بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔


"انا" ایک خاموش مگر مہلک زہر ہے، جو انسان کی رگوں میں اس قدر آہستگی سے سرایت کرتا ہے کہ وہ سچ سننے، غلطی ماننے اور حق قبول کرنے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ وہ ہر بات، ہر رشتہ، ہر اختلاف کو اپنی ذات کے پیمانے پر تولتا ہے۔ نہ وہ معافی دیتا ہے، نہ مانگتا ہے۔ وہ جیتنے کی ضد میں سب کچھ ہار بیٹھتا ہے۔ رشتے، اعتبار، عزت اور سکون۔


تاریخ گواہ ہے کہ انا کا پہلا شکار خود *ابلیس* تھا، جس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا صرف اس لیے کہ وہ "میں" کے خول میں قید ہو چکا تھا:

*"أنا خیرٌ منہ" میں اس سے بہتر ہوں*۔


یہ محض ایک فقرہ نہیں، بلکہ تباہی کا وہ فلسفہ ہے جو ہر اس دل میں پلتا ہے جو اپنی غلطی پر نادم ہونے کے بجائے اسے ثابت کرنے پر تُل جاتا ہے۔


معاشرے میں انا کی تباہ کاریاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں:

* شوہر بیوی سے بات نہیں کرتا کیونکہ "پہل وہ کرے"

* بھائی بھائی سے نہیں ملتا کہ "میں کیوں جھکوں؟"

* دوست برسوں کی دوستی ختم کر بیٹھتے ہیں صرف اس لیے کہ "میں نے کیا غلط کیا؟"


یوں رشتے، جو محبت اور نرمی چاہتے ہیں، انا کی سختی سے چکناچور ہو جاتے ہیں۔


انا انسان کو تنہا کر دیتی ہے، اور تنہائی آہستہ آہستہ اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جو شخص ہر وقت خود کو برتر سمجھے، نہ وہ کسی کی بات مانتا ہے، نہ کسی کا دل رکھتا ہے۔ اور سب سے بڑا نقصان؟ وہ خود سیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔


اسلام ہمیں بار بار عاجزی، نرمی، معافی اور خلوص کا درس دیتا ہے۔ نبیِ رحمت ﷺ، جن کا مقام بعد از خدا ﷻ سب سے بلند ہے، وہ بھی سب سے زیادہ جھکتے، سب سے پہلے سلام کرتے، اور سب سے زیادہ معاف کرتے۔


ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ اگر ہماری "انا" ہمیں اپنوں سے دور کر رہی ہے، تو کیا یہ نفس پرستی نہیں؟ کیا ہم صرف دنیا ہی نہیں، اپنی آخرت بھی برباد کر رہے ہیں؟


انا وہ پردہ ہے جو ہمیں حقیقت دیکھنے نہیں دیتا، اور وہ دیوار ہے جو ہمیں اپنوں سے جدا کر دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے، عزت اور دل سلامت رہیں، تو ہمیں "میں" کی جگہ "ہم" کو رکھنا ہوگا۔

معاف کرنا کمزوری نہیں، بلکہ وہ ہمت ہے جو " انا " کے خلاف پہلا وار کرتی ہے۔

انا کو مار دیجیے... ورنہ یہ آپ کو غیر محسوس طریقے مار دے گی



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)