ماہ رمضان المبارک حصول برکت اور تقویٰ کا مہینہ

0

 


از: محمد رمضان رضا ماتریدی


رمضان المبارک اللہ عزوجل کی طرف سے عطا کردہ ایک بابرکت مہینہ ہے، جس میں رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا مہینہ نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی تربیت گاہ ہے جہاں صبر، تقویٰ، ایثار اور بندگی کے اعلیٰ ترین مراتب حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا، اور یہی وہ وقت ہے جب مومن کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی روح کو پاک کرے، دل کو خشیتِ الٰہی سے بھرے اور اپنے رب سے گہرائی سے وابستگی جوڑے۔ سحری سے افطار تک کا سفر محض وقت گزارنا نہیں بلکہ صبر، شکر اور خلوص کا عملی مظاہرہ ہے۔


اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:  

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔" (البقرہ: 183)


یہ آیت روزے کی اصل روح کو واضح کرتی ہے کہ اس کا مقصد محض بھوک اور پیاس سہنا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ روزہ بندے کو اپنی خواہشات پر قابو پانے، صبر اور اللہ کی رضا میں راضی رہنے کی تربیت دیتا ہے؛ یہ انسان کو دوسروں کے دکھ درد کا احساس دلاتا ہے اور ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔


حضور رحمت اللعالمین ﷺ نے فرمایا:  

"رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے۔" (بیہقی، شعبِ الایمان)


یہ مہینہ اللہ عزوجل کی جانب سے ایک عظیم نعمت ہے، جس میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں، گناہوں کی بخشش کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رحمت کی ہوائیں ہر جانب رواں رہتی ہیں۔


رمضان صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک انمول موقع ہے جو بندے کو اللہ عزوجل کی محبت اور قربت عطا کرتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی حقیقت محض آزمائش ہے، اور اصل کامیابی وہی ہے جو بندہ اللہ عزوجل کی رضا حاصل کر کے پاتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے میں عبادت، دعا، توبہ اور تقویٰ کو اپنا لیں، تو ہم نہ صرف رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہو سکتے ہیں بلکہ ہماری ساری زندگی اللہ عزوجل کی بندگی کی معراج بن سکتی ہے۔


اللہ عزوجل ہمیں رمضان کی حقیقی برکتیں سمیٹنے اور اس کی روحانی تربیت کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔





Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)