فتاویٰ رضویہ پر الزام ہے کہ اس میں موضوع و ضعیف احادیث ہیں، اور پھر ان احادیث کو اکٹھا کرکے ایک کتاب تیار کی گئی ہے۔ اس کا کیا توڑ ہے عالی جاہ!
از : سعادت ثانی مراد آبادی
الجواب
فتاویٰ رضویہ میں یقیناً ضعاف موجود ہیں، اور ضعاف کا ہونا کوئی عیب بھی نہیں ۔ فضائل و ترغیب و ترہیب میں اس کو سلف و صالحین اور ائمہ محدثین نے روا رکھا ہے ۔
اور رہی بات ” موضوعات “ کی، تو یہ دعویٰ بلادلیل ہے ۔ یعنی کہ موضوعات بطورِ استدلال نہیں لائے گئے ہیں ۔ ــــ بلکہ بطورِ رد کہیں کہیں ملتے ہیں ، جن کو ذکر کر کے امت کو متنبہ کیا ہے کہ یہ موضوع، باطل یا اسرائیلیات سے ہیں ۔ ان سے بچو۔
مولانا اسلم رضا اشفاقی کا اس پر ایک رسالہ بھی ہے، جس میں انھوں نے ان موضوع روایات کو اکٹھا کیا ہے، جن کے موضوع اور باطل کی صراحت کرکے فتاویٰ رضویہ میں ان سے بچنے کی تنبیہ کی گئی ہے ۔
اگر موضوع روایات کو امت کو بچانے کی نیت سے کتابوں میں لانا اور پھر ان سے بچنے کی تلقین کرنا کوئی جرم ہے تو ملا علی قاری، ابن الجوزي، لکنوی وغیرہم محدثین بھی مجرم قرار پائیں گے، اور اگر یہ جرم نہیں تو پھر بلاوجہ کے شور مچانے والے کا علاج ضربِ فاروقی کے علاوہ کیا ہے؟
اور اگر پھر بھی کوئی شخص موضوع بطورِ دلیل لانے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر دلیل لانا لازم ہے ۔ ایسی دلیل جو دلیل بننے کی صلاحیت بھی رکھے، نہ کہ اپنی لاعلمی کو عدم وجود مان کر موضوع کا قول کرے ۔ یا خود ساختہ اصول یا مجروح ومطرود قول سے جدل و نزاع کا بازار گرم کرنے کی کوشش کرے۔
تفصیلات ” منیر العین“ وغیرہ کتب رضویہ میں موجود ہیں کہ ضعاف کب، اور کن شرائط پر قبول کیے جائیں گے، احادیث سے استدلال کے انداز اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی کا منہج اسی میں دیکھنا چاہیے ۔ اور پھر انہی کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اصل بیماری وہ ہے، جس کی طرف محدث عصر شیخ محمد عوامہ نے صراحت کی ہے، کہ البانوی پیشہ افراد ضعیف کو موضوع کے ہم معنی مانتے ہیں ۔
لہذا فتاویٰ رضویہ میں موجود ضعاف کو { بطورِ موضوعات } کوئی اکٹھا کردے تو پھر تین کیا پانچ جلدیں بھی چھاپی جاسکتی ہیں ۔ اور اس میں موضوع کے وجود استدلالی کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے ۔
مگر یہ ضرور یاد رہے کہ انصاف پسندوں کے نزدیک یہ عمل بے خیانت سے تعبیر کیا جائے گا ۔ اور ” أنا فی واد ،وأنت فی واد “ کا مصداق قرار پائے گا ۔ فافھم
فیضان سرور مصباحی
یکم جنوری ٢٠٢٥ ء| بدھ

