خاص دنوں کو یاد رکھنا کیا حدیث سے ثابت ہے ؟

0


    یوم موسیٰ علیہ السلام منانے کی ہدایت  


یوں تو ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی دیوبندیوں وہابیوں کی طرف سے اعتراضات و اشکالات کی برسات ہونے لگتی ہے، جن کا بارہا علماء و محققین اہلسنت نے تشفی بخش جواب دیا۔ مگر ایک اعتراض جو ان معاندین کی جانب سے کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ دن منانا کہاں سے ثابت ہے ؟ یا اسی بات دوسرے انداز و الفاظ میں کہا جاتا ہے۔ دیگر اعتراضات و اشکالات کی طرح اس کا بھی علماء و محققین حضرات نے اپنی تحریر و تقریر میں جواب دیا ہے۔ ایک جواب ذیل میں راقم الحروف بھی پیش کر رہا ہے ، ملاحظہ فرمائیں: 


قارئین کرام! 

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودِ مدینہ کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے بتایا کہ اس دن اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کو فتح اور فرعون کو اس کے لاؤ لشکر سمیت غرق نیل کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو فرعون کے جبرو استبداد سے نجات عطا فرمائی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہوئے اس دن روزہ رکھا لہذا ہم بھی اسی خوشی میں روزہ رکھتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایک نبی ہونے کی حیثیت سے) میرا موسٰی پر زیادہ حق ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہونے والی نعمت خداوندی پر اظہار تشکر کے طور پر خود بھی روزہ رکھا اور اپنے تمام صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔

( بخاری کتاب الصوم باب صیام یوم عاشوراء، ٢:٧٠٤،رقم :١٩٠٠)


اس سے واضح ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اپنی قومی تاریخ میں وقوع پذیر ہونے والے خوشی کے واقعہ کی یاد روزہ رکھ کر مناتے تھے اور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خوشی کے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے روزہ رکھا۔ 

یہاں دیوبندیوں کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جس دن پیدا ہوئے وہی دن مبارک تھا. اس کے بعد ہر سال ١٢ ربیع الاول کو میلاد منانا بدعت ہے اب اس دن کوئی برکت نہیں. ____تو ایسے وہابی دیوبندیوں کو دیکھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے جو یہودیوں نے عمل کیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم منع نہ فرمایا اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ یہودیوں فتح تو ایک ہی بار ہوئی یہ تم بار بار فتح کی خوشی میں روزہ رکھتے ہو یہ بدعت ہے. لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ خود بھی اس دن موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والی نعمت کے تشکر میں روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کو بھی حکم فرمایا. _____پتا چلا جس دن اللہ کی کوئی نعمت ملے اس دن خوشی کے اظہار کے لئے نیک عمل کرنا اور اس دن کو یاد رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے.

(نوٹ. یاد رہے کہ دیوبندیوں کو دن منانے پر اعتراض ہے اسکا جواب دیا ہے دیوبندی اس پر غور کرے. اب یہ مت کہنا کہ فلاں فلاں جگہ یہ خرافات ہوتی. اس کے جواب میں سن لیں خرافات پر کسی نے میلاد کا اطلاق نہیں کیا جو کرے اسکا ذمہ دار وہ خود ہے.) 

✍️ تحریر ............. جاوید رضا خان

ــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــ


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)